دنیا بھر کی فوجوں کی حالت : کون کتنے پانی میں؟

تحریر:  یمین الاسلام زبیری

جنگ و جدل کی کہانیاں انسانی تاریخ کے المیوں کی داستانیں ہیں۔ جب سے انسانوں نے ہوش سنبھالہ ہے ایک دوسرے پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے، اس کی وجوہات میں سے ایک تو یہ ہے کہ انسان میں غصہ، خود غرضی، حسد، نفرت اور حکمرانی کے جذبات خوب بھرے ہوئے ہیں۔ ایسا نہیں کہ محبت، ایثار، رواداری، بھائی چارگی، احسان، خلوص، ہمدردی، خیر و خیرات، اور پیار کے جذبات سے وہ عاری ہے، نہیں بلکہ اس میں یہ اچھے جذبات کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں۔ مذید یہ کہ یہ دنیا دراصل اچھے جذبات کے اظہار ہی کے بل بوتے پر روان دواں ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جو کچھ بہت وقت لگا کر اچھے جذبات کے تحت کمایا جاتا ہے اس میں کا بہت کچھ برے جذبات کے تحت کم افراد بہت کم وقت میں تباہ کردیتےہیں۔ کیا غلط ہے کہنا کہ تعمیر مشکل ہے اور تخریب آسان۔ غرض انہیں جذبات کے تحت ہم ہابیل و قابیل میں بٹ گئےہیں۔ ایک قوم کی قوم کا جدال میں مبتلا ہونا غالباً قحط اور دیگر قدرتی آفات کے بعد شروع ہوا ہوگا لیکن ہم صرف ایک اندازہ ہی لگا سکتے ہیں۔ انسانوں میں جنگوں کی لمبی تاریخ ہے، ڈھونڈیں تو سرا نہیں ملے گا۔ ایک تحقیق کے مطابق اگر پوری انسانی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو کل ملا کے صرف اٹھارہ سال نکلتے ہیں جن میں کوئی جنگ نہیں ہوئی۔ جب جنگ ایک حقیقت ٹھیری، آسمانی آفات کی طرح، تو انسان نے، جو ہر مسئلے کا حل نکال ہی لیتا ہے، اس کا بھی حل فوج کی صورت میں نکالا۔ فوجیں بننے لگیں اور جوان بھرتی ہونے لگے۔ شروع میں جو ہاتھ لگا اس سے مسلح ہو گئے لیکن رفتہ رفتہ اور تمام چیزوں کی طرح ہتھیاروں میں بھی اپچ نظر آنے لگی۔ نئے پن کے ساتھ ہتھیاروں کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔

بہر حال کمزوری اور طاقت کا عجب معاملہ ہے۔ بظاہر کمزور بظاہر طاقتور پر ذور رکھتا ہے اور اپنی من مانی کرتا ہے۔ اکبر اللہ بادی کا شعر کو مزاح ہے لیکن حقیقت سے کتنا قریب ہے۔ آپ بھی لطف اٹھایے:

اکبر دبے نہیں کسی سلطاں کی فوج سے  ۃ   لیکن شہید ہو گئے بیگم کی نوج سے

آج ہم دیکھتے ہیں کہ تمام ہی ممالک فوجیں رکھے ہوئے ہیں، لیکن ہر ملک بلکہ ہر انسان کے لیے یہ بات کہ کس میں کتنا ہے دم اب بہت اہمیت حاصل کرتی جارہی ہے۔ یہ ہتھیاروں کی دوڑ کا زمانہ ہے۔ فوج اب حفاظت کے لیے ہی نہیں ہے بلکہ یہ تجارتی طاقت بھی بنتی ہے۔ آیئے ہم بھی دیکھتے ہیں کہ مختلف ممالک کا اس سلسلے میں کیا مقام ہے۔ ملکوں کی فوجی طاقت کے ناپنے کے پیمانے کو ’پاور انڈکس‘ کہا جاتا ہے اور اس کے تحت ہر ملک کی طاقت کو شمار کیا جاتا ہے۔ اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو فوجی لحاظ سے وہ ستھرواں سب سے طاقتور ملک ہے۔

پاور انڈکس میں پچپن سے زیادہ عوامل کو زیر نظر رکھ کر کسی ملک کی طاقت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ انڈکس میں یہ سہولت رکھی گئی ہےکہ ایک چھوٹا ملک جو جدید ہتھیاروں سے لیس ہے اپنے سے بڑے لیکن کم ترقی یافتہ ملک کے مقابلے میں زیادہ طاقتور شمار کیا جاسکے۔ مذید یہ کہ جانچنے کے ایسے اصول بھی رکھے گئے ہیں جو کسی بھی ملک کواس کی طاقت کے مطابق اس کا جائز مقام دلاتے ہیں۔ غرض اس انڈکس کے بنانے والوں کے مطابق انصاف کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ اس پاور انڈکس میں مکمل اسکور 0.0000 ہے جس کا حصول حقیقت میں ناممکن ہے۔ مثلاً امریکہ 0.0818 اسکورکے ساتھ اول نمبر پر ہے؛ اور روس 0.0841 اسکور کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

یہاں ہم ان چند خصوصیات کو دیکھیں گے جو کسی ملک حتمی درجہ دلا سکتی ہیں۔

؎ کسی ملک کے پاس کتنے ہتیار ہیں اس سے قطع نظر یہ دیکھا جائے گا کہ وہ ہتھیار کتنے موثر ہیں۔

؎ جوہری ہتھیاروں کو شمار نہیں کیا جائے گا بلکہ جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کو ایک بونس دیا جائے گا۔

؎ پہلی دنیا، دوسری دنیا، اور تیسری دنیا کےدرجات کا خیال رکھا جائے گا۔

؎ جغرافیائی حالات، نقل و حمل کی آسانیاں، قدرتی وسائل، اور مقامی صنعت اور اس پر دبائو۔

؎ تمام کی تمام میسر افرادی قوت ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے کیوںکہ اس کے اثرات میسر جوانوں اور صنعت پر پڑتے ہیں۔

؎ اگر کوئی ملک چہار سمت سے زمین سے گھرا ہوا ہے تو یہ منفی نہیں سمجھا جائے گا؛ البتہ بحری طاقتوں پر کم وسائل منفی اثرات ڈالیں گے۔

؎ نیٹو کے ارکان کو دوسروں پر معمولی سی فوقیت ہوگی کیونکہ نظریاتی طور پر وہ ایک دوسرے سے وسائل میں شرکت کرتے ہیں۔

؎ کسی بھی قوم کے معاشی استحکام اور معاشی صحت کو مد نظر رکھا جائے گا۔

؎ موجودہ سیاسی و فوجی قیادت کو مد نظر نہیں رکھا جائے گا۔

بین الاقوامی ڈاٹابیس برئے اسلحہ جسے انگریزی میں گلوبل فائر پاور ڈاٹٓابیس، مخفف: جی ایف پی، کہا جاتا ہے۔ اس میں ۲۰۱۸ میں ۱۳۶ ممالک تھے۔ ان میں آئر لینڈ، مانٹینیرو، اور لائیبیریا نئے ہیں۔

 .1امریکہ  −  0.0818

اتحاد: شمالی امریکہ، ناٹو، اے پیسیفک۔

 .2روس  −  0.0841

اتحاد:  اے پیسیفک، مشرقی یورپ

 .3چین0.0852

اتحاد: اے پیسیفک،  ایشیا

 .4بھارت 0.1417

اتحاد: اے پیسیفک، ایشیا

 .5فرانس0.1869

اتحاد: یورپ، ناٹو، یورپین یونیین

 .6برطانیہ0.1917

اتحاد: یورپ، ناٹو، یورپیین یونیین

 .7جنوبی کوریہ0.2001

اتحاد: اے پیسیفک، ایشیا

 .8جاپان0.2107

 اتحاد: اے پیسیفک،ایشیا

 .9ترکی0.2216

اتحاد: مشرق وسطیٰ، ایشیا

 .10جرمنی0.2461

اتحاد: یورپ، ناٹو، یوروپیین یونیین

 .11اٹلی0.2565

اتحاد: یورپ، ناٹو، یوروپیین یونیین

 .12مصر0.2751

اتحاد:  افریقہ، مشرق وسطیٰ

 .13ایران0.3131

اتحاد: مشرق وسطیٰ، ایشیا

 .14برازیل0.3198

اتحاد: جنوبی امریکہ، لاطینی امریکہ

 .15انڈونیشیا0.3266

اتحاد: اے پیسیفک، جنوب مشرقی ایشیا

 .16اسرائیل0.3444

اتحاد: مشرق وسطیٰ، ایشیا

 .17پاکستان0.3689

اتحاد: اے پیسیفک، ایشیا

 .18 شمالی کوریا0.3876

اتحاد: اے پیسیفک، ایشیا

.19اسپین0.4079

اتحاد:یورپ، ناٹو، یوروپیین یونیین

 .20ویٹنام0.4098

اتحاد: اے پیسیفک، جنوب مشرقی ایشیا

بھارت اور پاکستان

ہم پاکستانی اور اردو پڑھنے والے ہمیشہ پاکستان اور بھارت کے موازنہ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔  پاکستان اور بھارت کا موٹا موٹا موازنہ یہاں دے رہے ہیں۔  جو حضرات دنیا کے مختلف ممالک کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں وہ اس کڑی کو استعمال کریں۔

https://www.globalfirepower.com/countries-listing.asp

بھارت جی ایف پی پر چوتھے نمبر پر ہے جب کہ پاکستان ستھرویں۔ آبادی: بھارت  ایک ارب ستائس کروڑ ؛  پاکستان  بیس کروڑ پانچ لاکھ۔  کل زمین : تینتیس لاکھ  مربع کلومیٹر؛ پاکستان آٹھ لاکھ۔  فوجی: بھارت بیالیس لاکھ؛ پاکستان  نولاکھ بیس ہزار۔ دفاعی بجٹ: بھارت سینتالیس ارب؛ پاکستان سات ارب۔ جنگی جہاز: بھارت دوہزار دوسو؛ ایک ہزار تن سو۔ ٹینک: بھارت چار ہزار پانچ سو؛ پاکستان دو ہزار دوسو۔ کل بحری جہاز: بھارت تین سو؛ پاکستان دوسو۔ بھارت کے پاس ایک طیارہ بردار جہاز بھی ہے ، اور سولہ آبدوزیں ہیں؛ پاکستان کے پاس  صرف پانچ آبدوزیں ہیں۔  قوت خرید : چین  اول اور امریکہ دوئم  کے بعد بھارت تیسرے نمبر پر ہے؛ پاکستان  پچیسویں نمبر پر آتا ہے؛ بنگلہ دیش تینتیسویں اوروسطی افریقی جمہوریہ آخری اور ایک سو چھتیسویں نمبر پر ہے۔

Yemeen Zuberi

Yemeen ul Islam Zuberi is an ex-journalist from Pakistan. He writes in Urdu and rarely in English. Besides essays, he also writes poetry. In Pakistan, he worked for different newspapers for 20 years. Now lives in the US.

yemeen has 14 posts and counting.See all posts by yemeen

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *