امریکی ویسٹرن فلمیں اور ٹرمپ

تحریر ممتاز خان

پچھلے آٹھ نو مہینوں میں  میں نے جتنی امریکن ویسٹرن فلمیں دیکھی ہیں اتنی اس سے پہلے زندگی بھر میں نہیں دیکھی ہونگی۔ میں وثوقُ سے کہہ سکتا ہوں کہ ان فلموں میں اور پنجابی فلموں میں بہت زیادہ فرق نہیں۔  ایک ہی قسم کا پلاٹ ہوتا،  ایک ہی درجہ کے ایکشن ہوتے ہیں اور ایک ہی طرح کے ہیرو ہوتے ہیں۔

ہیرو اگر ایک گولی مارے تو بنوقت تین مختلف آدمی جاں بحق ہو سکتے ہیں۔ اگر پستول میں گولی ختم ہوجائے اور مجبوراً  ہیرو پستول پھینک کر مارے تو بھی دشمن چند گھنٹوں کیلئے تو  باآسانی بیہوش ہو سکتا ہے۔ ہیرو کا ایک آخری مکہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے،  اس سے پہلے ہیرو میں لڑنے کی نہ تو سکت ہوتی ہے اور نہ جذبہ،  چنانچہ خاموشی سے مار کھاتا رہتا ہے۔

ہر فلم میں ایک لڑکی بھی ہوتی ہے مگر پنجابی فلموں کے برخلاف ان فلموں میں لڑکی کی خاطر  یا خاندان کی آبرو کیلئے  میں نے لڑائی کبھی نہیں دیکھی۔  غالبا خاندانی وقار کی خاطر لڑائی صرف بر صغیر ہندو پاک میں ہوتی ہے۔

کئی سال پرانی بات ہے ایک منگولیا کی فلم کسی  تھیٹر میں دیکھی تھی۔ کہانی تو لمبی تھی مگر ایک سین میں ایک سائیڈ کے ہیرو کی دلہن کو دوسرے قبیلہ کا سردار اغوا کرکے لے گیا۔  دولہا سخت ملال میں آگیا مگر دولہا کی اپنی کوئی بڑی فوج نہیں تھی تو  وہ  اپنے عزیز دوست  کے پاس جو کہ ایک اور قبیلہ کا سردار تھا اور بہت دلیر اور نڈر تھا مدد کیلئے گیا۔ دوست نے دولہا کی روئیداد سننے کے بعد دولہا سے کہا: ’’تم میرے عزیز دوست ہو۔ میں تمہاری ہر طرح سے مدد کرنے کو تیار ہوں، تمہارے لئے میری اگر جان بھی چلی جائے تو

میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ مگر تم صرف ایک لڑکی کیلئے جنگ کرنا چاہتے ہو؟  “Just get another girl.

ان امریکی ویسٹرن فلمیں دیکھنے کا ایک خصوصی فائدہ  یہ ہوا کہ میں نے امریکہ کی تاریخ کا جو مطالعہ کلاسوں اور کتابوں سے کیا تھا ، ان فلموں کے ذریعہ اس کے کئی پہلوؤں کی نظروں کے سامنے عکاسی ہوگئی۔ یہ صحیح ہے کہ فلم اور حقیقت میں بہت فرق ہوتا ہے مگر تاریخ پڑھنے کے بعد اگر فلم دیکھی جائے تو دیکھنے والا حقیقی پہلووں کو ڈرامائی پیشکش  سے نتھار کر علیحدہ کر سکتا ہے۔

تقریبا یہ تمام کی تمام فلمیں امریکہ کی انیسویں صدی کے ویسٹرن طبقہ کی عکاسی کرتی ہیں اور یہ صدی امریکہ کی تاریخ میں نہایت اہم اور محرک رہی ہے۔ اندرونی خانہ جنگی اسی صدی میں ہوئی، ٹیکساس، کیلیفورنیا، نیو میکسیکو اور اریزونا  ریاستیں میکسیکو سے نکل کر امریکہ کا حصہ بنیں اور اس صدی میں ریل گاڑی کا جال بچھا۔ آہستہ آہستہ دیہاتوں میں اسکول قائم کئے گئے۔دیہاتوں میں مقامی انتخابات ہونے لگے۔

جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو کسطرح عام لوگوں نے جرائم بھی کئے، زیادتیاں بھی  کیں، بے جا زمینیں قبضہ کیں ، لا قانونیت پھیلائی۔ ریڈ انڈین کی نسل کشی کی:

  • مگر ان سب خرابیوں اور جہالت کے باوجود، جب مجرم قانون کی گرفت میں آگیا تو اسی جاہل ماحول میں کوئی بڑی شخصیت اسکو چھڑوا نہیں سکتی تھی۔ شیرف Sheriff کی عزت اور بالا دستی تھی اور اسکی بندوق اور بیج کا احترام تھا۔

  • امریکی اندرونی خانہ جنگی میں جہان خاندان بٹ گئے تھے، جنوب اور شمال کی کدورتیں گہری ہوگئی تھیں اور قوم اور ملک بٹنے کی نوبت آگئی تھی مگر جس چیز نے ملک کو سالم رکھا تھا وہ تھی عوام میں ملک کے آئین کی عزت اور برتری۔

  • آج بھی عوام  (ریپبلکن ہوں یا  ڈیمو کریٹ) میں ملک کے آئین کی عزت اور برتری کا نتیجہ ہے کہ ڈانلڈ ٹرمپ ،  بحالت مجبوری ملک کے انتخابات کے آگے سر جھکا گیا ہے۔  اگر تاریخ میں آئین کے استحصال کی کوئی مثال موجود ہوتی تو  آج  ڈانلڈ ٹرمپ بھی اسکی آڑ لیکر صدرات ہرگز نہیں چھوڑتا۔ اپنا نیا آئین بنا لیتا۔
  • جس کسی ملک میں بھی ملک کے آئین کی اہمیت عزت اور بالاتری قائم نہیں رکھی جاتی ہے، وہاں عام قانون کی بھی عزت اور بالا دستی پیدا نہیں ہو سکتی ہے۔
  • یہ بہت گہری سوچ و بچار کا نکتہ ہے۔

Mumtaz Khan

ممتاز خان، امریکہ میں عرصہ سے مقیم ہیں۔ آئی بی ایم کی نوکری کے بعد سے ۲۰۰۴ سے رٹائر زندگی گزاررہے ہیں

mumtaz has 4 posts and counting.See all posts by mumtaz

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *