سرحد پار دھشت گردی اور ریاستی بیانیوں کا تیاپانچا

ایمل خٹک 

ھم بچپن سے سنتے آرہے ھیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ھوتے مگر نہ تو کبھی کوشش کی اور نہ اس طرف دھیان گیا کہ اس کو سمجھ سکے کہ جھوٹ کے پاؤں کیسے ھوتے ھیں ۔ آج آنڈین ایکسپریس میں ایک پوسٹر دیکھی تو اس محاورے کی معنی سمجھ گیا ۔

چند ھفتے پہلے بھارتی کشمیر آڑی میں ایک فوجی کیمپ پر دھشت گرد حملہ ھوا۔ اس حملے کے بعد پاک-بھارت تعلقات انتہائی کشیدہ اور اس کے نتیجے میں سرحدوں پر جنگ کی سی کیفیت پیدا ھوئی ۔

اس حملے کے بعد جو پاکستانی ریاستی بیانئے بنے اس کا تمام زور اس بات پر رہا کہ یہ حملہ خود بھارت نے کیا ہے یا بھارتی ایجنسیوں کی کارستانی ہے تاکہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور سنگین انسانی حقوق خلاف ورزیوں سے عالمی توجہ ہٹائی جائے۔  اس طرح سارا زور بھارتی کشمیر میں رواں تحریک کو مقامی قرار دینے پر بھی رہا ۔

مگر لشکر طیبہ کے ایک پوسٹر نے ان ریاستی بیانیوں کا تیاپانچا کردیا۔ یہ پوسٹر جو گوجرانوالہ میں لشکر طیبہ کے اڑی فوجی کیمپ حملے میں ھلاک ایک کارکن محمد انس کی غائبانہ نماز جنازہ کے بارے میں ہے۔ یہ آگے چل کر ملک کیلئے شرمندگی اور خجالت کا باعث بنے والہ ہے۔ کیونکہ یہ پوسٹر اڑی حملے کی ذمہ داری قبول کرنے اور حملےکرنے والوں کا تعلق  پاکستان سے ثابت کرنے کا بین ثبوت ہے۔ اس پوسٹر یا غائبانہ نماز جنازہ کے پروگرام نے ریاستی بیانیوں یا پاکستان کے رسمی موقف یا کشمیر مقدمے کو تین طرح سے کمزور کیا ۔

ایک تو پاکستان نے مسلسل اس موقف کو اپنایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے جس کی وجہ سے وہاں پر انتفاضہ کی سی صورتحال ہے۔ اس موقف کو پاکستانی وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے حالیہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی پیش کیا۔

دوسرا حکومت کشمیر کے اندر جاری شورش کو مقامی تحریک ثابت کررہی ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ جاری شورش مقامی ہے مگر غیر مقامی افراد کا دھشت گرد حملوں میں ھلاکت اس کے مقامی ھونے کی نفی کر رہی ہے اور یا بھارت کو یہ موقع فراہم کر رہی ہے کہ وہ حالات کی خرابی کو بیرونی عوامل کے کھاتے میں ڈالے ۔

تیسرا پاکستانی حکومت کا یہ دعوی کہ آڑی واقعہ میں پاکستان کا کوئی ھاتھ نہیں ہے غلط ثابت ھوگیا ۔ کیونکہ پاکستانی تنظیم کی جانب سے اس کی زمہ داری قبول کی گئی۔  اور مذکورہ تنظیم اور حافظ سعید صاحب پر پہلے سے پاکستانی ایجنسیوں کی حمایت کے الزامات ھیں۔

cvon4r7ueaaxsuj

جہاں تک مسلہ کشمیر کا تعلق ہے اڑی دھشت گرد حملے کے بعد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ دوبارہ دھشت گردی پر چلی گئی ہے جو کہ پاکستان کے حق میں صیع ثابت نہیں ھوا۔ کیونکہ بیرون ملک ابھی تک  پاکستان کی دھشت گردی کے حوالے سے کردار پر شک کیا جاتا ھے اور کشمیر میں کسی بھی ایسی کاروائی کا شک عسکریت پسندوں پر کیا جاتا ہے۔ پاکستان گزشتہ کچھ عرصے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے جو مقدمہ بنا رہا تھا اور دنیا بھر میں اس کو پزیرائی ملنا شروع ھو گئی تھی اور خود بھارتی حکومت کے اوسان خطا تھے اور اس سلسلے میں بیرونی کے ساتھ ساتھ سخت اندرونی دباؤ کا شکار تھا۔ مگر اڑی دھشت گرد کاروائی سے وہ مقدمہ کمزور ھو گیا ھے۔

پاکستان میں ریاستی اور ریاست کے ڈھنڈورچی چاہے جتنے بھی اعلی اور ارفع رائے کے مالک ھو اور خوش فہمیوں یا غلط فہمیوں کا شکار ھو مگر ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا مسلہ بھارت کے گلے جبکہ دھشت گردی کا مسلہ ھمارے گلے کا طوق بن چکا ھے۔  اڑی حملے کے بعد مسلہ کشمیر نہتے کشمیری عوام پر ظلم اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سے زیادہ اڑی دھشت گرد حملے اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ جنگی جنوں کی وجہ سے فلیش پوائنٹ بن گیا ہے۔ جس  سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مسلہ پس منظر میں چلا جائیگا اور دھشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان پر دباؤ مذید بڑھ گیا۔

حافظ سعید صاحب جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کا کالعدم لشکر طیبہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہیں بلکہ فلاح و بہبود کے کاموں میں ھر وقت مصروف رہتے ھیں ۔ فلاح و بہبود اور امدادی سرگرمیاں کرنے والے کارکن کا ایک دھشت گرد کاروائی میں مارے گئے لشکر طیبہ کے کارکن کے غائبانہ نماز جنازہ میں عام حیثیت میں نہیں بلکہ خصوصی مہمان کے طور پر شرکت کی منطق سمجھنے سے باھر ہے۔ ایسے حساس وقت میں قومی سلامتی کو خطرات سے دوچار کرنے والہ یہ عمل یا تو بے احتیاطی ھو سکتی ہے یا حد سے زیادہ خود اعتمادی اور مقتدر اداروں کی بھرپور اور غیر مشروط حمایت اور تائید۔

ایک کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کو کھلے عام غائبانہ نماز جنازہ منعقد کرنے کی اجازت کس نے دی ؟ اگر ریاستی میڈیا ،دانشور اور خود حافظ سعید صاحب کہتے رہے ھیں کہ اڑی حملہ خود بھارت اور بھارتی ایجنسیوں نے کرایا ہے تو پاکستان میں بھارتی ایجنٹوں کی یاد میں تقریب کے انعقاد کی اجازت کس نے دی ؟

 ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم کو کھلم کھلا سرگرمیاں کرنے اور تقاریب منعقد کرنے کی اجازت سے پاکستان کی دھشت گردی کے خلاف مھم مشکوک ھو جاتی ہے۔ اور پاکستان پر دھشت گردوں میں تمیز یا اچھے اور برے طالبان کی پالیسی رکھنے کے الزامات پر خود ھم نے تصدیق کی مہر لگا دی ہے۔  دوسرا پڑوسی ممالک میں دھشت گردی کاروائیاں کرنے اور ذمہ داریاں قبول کرنے والوں کو کھلی چھٹی دینے سے ھم دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ھیں۔ پاکستانی حکومت کیلئے شرمندگی اور خجالت کا باعث ھونے والے افراد اور تنظیموں کو آخر تک کب تک برداشت کیا جائیگا؟ اور ملک کی سلامتی کو شدید خطرات سے دو چار کرنے والے اور ایک سے زائد دفعہ سرحدوں پر جنگی صورتحال کو جنم دینے والے عسکریت پسند تنظیموں کو برداشت کرنے کی کیا تُک ہے۔

Aimal Khattak

The author is a political commentator mainly covering socio-political and peace issues. He frequently comments on regional issues, especially Afghanistan. Aimal Khattak can be contacted at: aimalk@yahoo.com

aimal has 89 posts and counting.See all posts by aimal

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *