!زباں نخچیر ہوتی ہے۔ ۔ ۔ ۔

تحریر: یمین الاسلام زبیری

واہ صاحب،  لڑکپن کا زمانہ جب یاد آتا ہے تو خوب یاد آتا ہے،  ایسا ہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہوتا ہے  اور ، آئی جو ہمکو  یاد تو آتی چلی گئی۔ ادب  کی طرف ہمارا رجحان ہمیشہ سے تھا۔ سب ہی رشتہ دار اور ملنے والے کہا کرتے تھے کہ ، ’یہ پڑھتا بہت ہے۔‘ لیکن کبھی کبھی قلعی کھل بھی جاتی تھی، خاص طور پر ہجا کے معاملے میں۔ ایک بار تو ہجا ہی کی ہجا غلط لکھ دی۔ ہمارے دوست اختر فراز صاحب نے توجہ دلائی۔ اب وہ  جو شعر ہے  اسے یوں بھی لکھیں تو کچھ غلط نہیں ہوگا: لغت بننا کھیل نہیں ہے بنتے بنتے بنتی ہے۔اب اس سے زیادہ تمہید نہیں باندھتے اور جو کہنا ہے کہے دیتے ہیں۔

ابھی ہم اسکول ہی میں تھے کہ  مجھے ہمارے استاد اعصام صاحب کی ترغیب پر علامہ اقبال کی شاعری پڑھنے کا شوق ہوگیا تھا۔ ایک بار ایک شعر پڑھا اور خاصے عرصے تک اِسے سمجھنے کی کوششیں، بار بار، کرتا رہا۔ ہر بار میری سمجھ میں وہی آتا تھا جو میں پہلی بار میں سمجھ چکا تھا۔ وہ شعر یہ ہے:

شیاطینِ ملوکیت کی آنکھوں میں ہے وہ جادو        ۔ۃ۔    کہ خود نخچیر کے دل میں ہو پیدا ذوقِ نخچیری

یہاں یہ لقمہ دیتا چلوں کہ اُس زمانے میں میں صرف لغت انگریزی دیکھنے کو ضروری سمجھا کرتا تھا۔ اردو کا یہ ہے، یا تھا، کہ میں علامہ اقبال کا اردو کلام بخوبی پڑھ سکتا تھا، اس لیے خود کو اردو کا علامہ سمجھتا تھاجیسے لوگ عربی میں قران پڑھ کر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے قران پورا ختم کر لیا ہے اور انہیں قران پڑھنا آگیا ہے۔ مزید کیا کہوں کہ بات کو پھیلانے کا کیا فائدہ۔ ہاں تو بات ہورہی تھی اُس شعر کی، جتنا غور کرتا تھا سمجھ میں یہی آتا تھا کہ نخچیر کوئی خچر کے قسم کی چیز ہے، یا فارسی میں خچر کو نخچیر کہتے ہیں۔آپ کہیں گے، ‘یہ کس قسم کی پہیلیاں ہیں! ‘ تو میں عرض کروں کہ اُس زمانے میں بعض ممنوعہ علوم ایسے تھے جن پر ہمیں خاصی دسترس حاصل تھی اور اِن پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے ان علوم کے منبع جات سے مستقل رجوع کرتے رہتے تھے۔ یہ منبع جات کیا تھے، اِس بحث میں نہ ہی پڑا جائے تو بہتر ہے کیونکہ اس سلسلے میں بعض پردہ نشینوں کے نام بھی آتے ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ یہ وہ علوم تھے جنہیں ہم بلوغت تک بزرگوں سے چھپاتے رہے؛ اور بعد بلوغت بچوں سے۔ موضوع کی طرف واپس پلٹتے ہوئے عرض کروں کہ جنسیت کے حوالے سے ہمارے علم میں یہ بات تھی کہ خچّر کی خچری نہیں ہوتی؛ اور اس شعر کے حساب سے شیاطینِ ملوکیت، جو کہ یقناً بہت  ہی خبیث لوگ ہوں گے، کی آنکھوں میں ایسا جادو ہوتا ہے کہ وہ نخچیر ، یا خچر، کو نخچیری (جس کا وجود ہی نہیں) کے لیے بیتاب کر دیتے ہیں۔ جو ہم اُس وقت سمجھے تھے  وہ تو غلط تھا ہی، لیکن جو ہم نہیں سمجھ سکتے تھےوہ  سہی تھا۔ یعنی ہم نہیں سمجھ سکتے  تھے کہ خچروں کے جذبات بعد بلوغت کیا ہوں گے اگر اُن میں خچریوں کو متعارف کرا دیا جائے، یا ان میں جنسی تفرقہ پیدا کردیا جائے۔ اب ہم (بعد بلوغت) سمجھ سکتے ہیں کہ خچّر پر تو ایک افتاد آن پڑے گی۔ اور جب وہ اپنا دلِ شوریدہ سر کسی دیوارِ گلستاں سے ٹپکتا پائے، اور وہ، یعنی خچّر، اپنے دل سے پوچھ ہی لے کہ ‘ماجرا کیا ہے؟’ اس کے بعد وہ یہی رقم کرے گا کہ اُس کا دل بقول غالب:

ہنسا کچھ کھلکھلا کر پہلے پھر مجھ کو جو پہچانا    ۔ۃ   ۔  تو یہ رویا کہ جوئے خوں بہی پلکوں کے داماں سے

 اچھا جناب چوں کے اِس وقت بیگم صاحبہ کے اِس طرف آنے کی کھڑ بڑ سنائی دے رہی ہے، اس لیے موضوع کو بدل دینا چاہیے۔ خاصہ عرصہ گزر گیا اور لسبیلہ کے پل کے نیچے سے لیاری ندی اور گجرو نالے کا بہت سا گندہ پانی بہ کر سمندر برد ہوگیا، اور ہم میں عقل بھی آگئی، اور ہم اردو لغات میں بھی جھانکنے لگے۔ اب، اردو کیا چیز ہے، ہم عربی کے بھی ماہر ہوچکے تھے۔ اب ہم عربی جملے بھی چست کرنے کے قابل تھے۔ اِس بات کا اندازہ اُس وقت ہوا جب ہمارے بڑے بھائی، انیس زبیری ، کی شادی تسنیم نامی کنیڈین لڑکی سے ہوچکی تھی اور پھر ہماری غزالہ سے ہوئی۔ تب ہی ایک دن ہم بے فکری کے تکیہ سے سر ٹکائے بستر پر پڑے تھے کہ ہم پر عربی میں یوں آمد ہوئی، اور یہ عقدہ بھی کھلا، ‘ وتو تسو من تشاء وتو غزو من تشاء،’ (یہ دونوں عز والے سے ہیں) ہم نے کہا کہ لو عربی بھی آگئی۔

ذکر زبان کا چل نکلا ہے تو کہتے چلیں کہ زبان کا مزہ وہی سمجھ سکتا ہے جو زبان میں الفاظ کی اہمیت کو سمجھتا ہو۔ آخر جوش صاحب بھی کہہ گئے ہیں: الفاظ کے سینوں میں اتر کر دیکھو۔ ہمارے ہاں ایک صاحب آتے تھے، یہ دروازوں کھڑکیوں پر پالش کیا کرتے تھے۔ بولتے اچھّا تھے، اور اُن سے بات کرنے سے پتہ چلتا تھا کہ انہوں نے انگریزی الفاظ کے سینوٓں میں اتر کر خاصہ دیکھا ہے، اور انہیں معلوم ہے کہ انگریزی الفاظ والی بات کسی اور زبان کے الفاظ میں ہو ہی نہیں سکتی۔ جن الفاظ پر انہیں زور دینا ہوتا تھا  وہ ان کا انگریزی ترجمہ ادا کردیا کرتے تھے۔ جس شئے  سے وہ متاثر ہوئے ہوتے تھے اور چاہتے کہ وہی تاثر دوسروں تک  بھی پہنچ جائے تو وہ اس شئے کے انگریزی نام کو استعمال کیا کرتے تھے۔ زیادہ کیا کہیں کچھ جملے نمونے کے رقم کیے دیتے ہیں۔

۱ ۔ آج ایک دفتر میں جانے کا اتفاق ہوا، وہاں کام کرنے والی لڑکیاں بڑی ہوشیار تھیں، بس سمجھ لیں کہ بالکل گرلز تھیں۔

۲۔ ایک امریکی کے ہاں جانے کا اتفاق ہوا، اُس کے ہاں بطخیں! کیا بتائوں! بالکل ڈکس لگ رہی تھیں۔

۳۔ ایک دن گلاب کے پھول لائے، کہنے لگے، ‘بالکل روزز لگ رہے تھے، میں نے کہا کہ گھر لے چلوں۔’

۴۔ ہم نے پوچھا کہ، ‘آپ کی بیوی کیسی ہیں؟’ جواب دیا، ‘ہمارے گھر میں! وائف ٹھیک ہیں۔’

ہمارے لڑکپن کے زمانے میں ایک جملہ سننے کو ملتا تھا کہ، جب  ان کی اردو کا یہ حال ہے تو انگریزی کیسی ہوگی۔ یعنی اردو خراب ہے اور انگریزی تو اس سے بھی زیادہ خراب ہوگی۔ جناح صاحب کا معاملہ ذرا الٹا تھا۔ اب تو سب ہی کی اردو خراب اور انگریزی اچھی ہوگئی ہے۔ اس معاملے میں سب ہی جناح صاحب کے سچے پیرو کار ہیں۔

لیجیے، ایک زبان یارِ من ترکی قسم کا واقعہ یاد آگیا۔ ہم ابھی پبلک اسکول میں ہی زیر تعلیم تھے۔ یہ ہمارے والد کا معاشی سکون کا زمانہ تھا۔ ہمارے گھر میں دو حضرات بحیثیت گھریلو ملازمین کے رہتے تھے۔ ایک ہمارے والد کے مولد شریف یعنی بریلی کے رہنے والے تھے، اور دوسرے کاٹھیاواڑ شریف کے تھے۔ کاٹھیاواڑ والے حضرت جب بولتے تو ٹٹراتے تھے۔ تو جب یہ کاٹھیا واڑی حضرت بولتے تو بریلی والے ٹوکتے،اور کہتے، ‘دیکھو، ہم سے بنگالی نہیں بولا کرو۔’ اِس پر جواب آتا، ‘ہم ٹو بنڈالی آٹی ہی نہیں، ہم بنڈالی ٹیسے بولیں ڈے!’ اس پر بریلی والے پریشانی کا اظہار کرتے اور کہتے، ‘پھر بنگالی بول دی! ‘ ایک اور حضرت پنجاب کے تھے، وہ بھی ہمارے ہاں کچھ عرصہ رہے، ان سے بھی ہم نے بہت کچھ سیکھا۔ انہوں نے  ہمیں بیت بازی کے مقابلے کی دعوت دی، اور استادانہ ہاتھ مار کے ہمیں حرف ‘ڑ’ پر اٹکا دیا۔ جب ہم نے ہار مان لی تو انہوں نے یہ شعر پڑھ کر مقابلہ اپنے نام کر لیا۔ شعر  جیسے انہوں نے پڑھا تھا میں ویسے ہی رقم کرتا  ہوں: اڑے  لفظ عربی میں آیا نہیں      ۔ ۃ  ۔    معلم نے ہم کو بڑھایا نہیں۔

جب زبان و بیان کا قصہ چل ہی نکلا ہے تو یہ اور بتاتے چلیں کہ موقع ہاتھ لگ رہا ہے۔ ہمارے والد امین الاسلام زبیری صاحب کی حس مزاح  خاصی تیز تھی اور ادھر جملے اڑے اور ادھر انہوں نے پکڑے۔ مختصر رکھتے ہوئے عرض ہے کہ ایک بار ایک شادی میں ان  کے ساتھ  ہمارا جانا ہوا۔ وہاں ایک صاحب زادے کوئی اٹھارہ  یا انیس سال کی عمر کے، بڑے بڑے بال لیے کبھی اندر کبھی باہر ہو رہے تھے۔ ایک بار ان کا گزر ایک پرانے قسم کے بزرگ کے قریب سے ہوا، بزرگ  غالباً ب بڑی دیر سے اسی انتظار میں تھے کہ یہ قریب آئے تو کچھ کہیں۔ انہوں نے فوراً  جملہ پھینکا،’ بڑے بڑے بال رکھنے کا سوائے ا س کے کوئی فائدہ نہیں کہ لوفر نظر آئیں۔ ‘ اسے ایک دو بار دہرایا بھی۔ والد صاحب کے کان کھڑے ہوئے  اور وہ ہم سے مخاطب ہو کر بولے، ان حضرت نے بال بڑے رکھنے کا کم از کم  ایک فائدہ تو بیان کر ہی دیا۔ اسی طرح ایک  بار ٹی وی پر ایک ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار چلا۔ اشتہار کے اختتام پر ایک مردانہ آواز ایک اعلان سا کر گئی: ’دانت صاف، مسوڑھے مضبوط۔ ‘ والد صاحب بول پڑے ، ’یہ والا  ٹوتھ پیسٹ مت لانا بھئی۔‘

پبلک اسکول میں ہم نے نوازندہ و بازندہ کے قصّے والی کتابیں پڑھیں تھیں۔ پھر ایوب خان کے زمانے میں  وہ بھی دن آیا کہ کچھ عرصہ ہمیں پینسٹھ کی جنگ والے جنگی نغمے، بجائے اقبال و غالب کے، پڑھنے پڑے۔ لیکن پھر اساتذہ کو واپس بلالیا گیا۔ البتہ اب جو کچھ اسکولوں میں ہورہا ہے یہ انگریزی اور اردو دونوں کے ساتھ زیادتی ہے؛ اور بچوں کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ اب اسکول اچّھی زبان نہیں سکھاتے بلکہ انگریزی اردو کا ملغوبہ جسے کچھ لوگ اردش کہتے ہیں سکھاتے ہیں۔ اب اخباروں میں بھی اس قسم کے خطوط ملتے ہیں کہ: کیا ہی اچھا ہو اگر ہم اپنے ہاں ‘اسپیلنگ بی’ پروگرام شروع کردیں۔ یہ لوگ نہیں جانتے کہ اب سے سو دو سو یا اس سے بھی پہلے سے بیت بازی کے مقابلے ہماری روایات کا حصّہ تھے۔ شعر لفظ کا تلفظ و معانیٰ و استعمال سب سکھاتا ہے، اس کے علاوہ پڑھنے والے کی قابلیت و ذہانت کا بھی بتا تا ہے۔

یاد ماضی ہمارے لیے ایک خوبصورت خواب ہے۔ ہمیں دوبارہ پیدا ہونے کی کوئی خواہش نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے اسکول کا وہ زمانہ اب ہرگز ہرگز بھی میسر نہیں آسکتا۔ اس مضمون کے پڑھنے والوں کو سلام عرض کرکے  ہم رخصت چاہتے ہیں۔

تمّت بالخیر

Yemeen Zuberi

Yemeen Zuberi

Yemeen ul Islam Zuberi is an ex-journalist from Pakistan. He writes in Urdu and rarely in English. Besides essays, he also writes poetry. In Pakistan, he worked for different newspapers for 20 years. Now lives in the US.

yemeen has 19 posts and counting.See all posts by yemeen

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *