کیا اب پاکستان میں ہنسنا منع ہے؟

تحریر: یمین الاسلام زبیری

پاکستان میں بنیادی حقوق کی پائمالی مستقل بنیادوں پر جاری ہے۔ پاکستانی ریاست جو ایک طرف لوگوں کے جان و مال کی حفاظت میں کلی طور پر ناکام ہے دوسری طرف خود ریاستی ادارے لوگوں پر ظالم کی تلوار بن کر گر رہے ہیں۔ انہی اداروں میں پیمرا بھی ہے۔ پیمرا پاکستان میں ڻی وی چینلوں پر افسر ہے اور وقتاً فوقتاً اپنے احکامات کے ذریعے انہیں قابو میں رکھتا ہے، جو اکثر چینلوں پر دبائو رکھنے کے لیے ہی ہوتے ہیں۔

پیمرا کی طرف سے تازہ ترین حکم جاری ہوا ہے جس کی رو سے تمام چینلوں سے کہا گیا ہے کہ، وہ ‘مختلف سیاسی پارڻیوں سے منسلک شخصیات اور قانون نافظ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا تصویروں، کارڻونوں، فوڻو شاپ تصویروں، اینیمیڻڈ کارڻونوں یا اور کسی طریقے سے تصاویر کو توڑ مروڑ کر مذاق اڑانے سے منع کیا گیا ہے۔’  

ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا پیمرا ایک آزاد ادارہ ہے یا وہ کسی کے اشارے پر یہ احکامات جاری کر رہا ہے۔ یہ سوال اس لیے اڻھتا ہے کیوںکہ کارڻون اور دوسرے مزاحیہ پروگرام ہنسی ہنسی میں مثبت تنقید کیا کرتے ہیں جس سے اچھے نتائج ہی نکلتے ہیں اور اگر پیمرا میں پیشہ ورانہ صلاحیت ہے تو وہ کبھی بھی ایسے پروگراموں کو نشر ہونے سے نہیں روکے گا۔

پیمرا کے اعلامیہ کے مطابق، ‘عوام کا خیال ہے کہ خبروں کے چینل اور حالات حاضرا کے پروگرام ایسے رجحان کی پرورش کررہے ہیں جس میں ملک کی قیادت کا مذاق اڑانا اور اس کی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تحقیر کو فروغ ملتا ہے۔ یہ یہاں تک ہوا ہے کہ خاتون سیاستدانوں کی شہرت بھی خراب ہوئی ہے۔’

پیمرا کے مطابق اس قسم کا مواد نشر کرنا پیمرا آرڈینینس ٢٠٠٢ رول ١۵ (١) پیمرا رولز ٢٠٠٩ کی خلاف ورزی ہے، اور برقی میڈیا (پروگرام اور اشتہارات) کے قوانین و ضوابط کے کلاز ٣(١) کی کئی شقوں کی خلاف ورزی ہے۔

پیمرا نے اس قسم کی خلاف ورزیاں بچوں کے پروگراموں میں بھی پائی ہیں۔

پیمرا نے اپنے اعلامیہ میں نفسیات دانوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ نفسیات دان کہتے ہیں کہ اس قسم کی چیزیں دیکھ کر بچے اشتعال انگیزی سیکھتے ہیں۔

ایک بات یہ ضرور کہنے کی ہے کہ پیمرا اگر فلسفیوں سے رابطہ کرتا تو شاید وہ اسے بتاتے کہ میڈیا، کسی بھی ملک کا ہو، اس قسم کے رجحانات اس وقت اختیار کرتا ہے جب اس پر روک ڻوک لگائی جاتی ہے۔ اور یہ کہ اس قسم کی پابندی ملکوں کے حق میں ہرگز بھی، اور کسی طرح بھی نہیں جاتی۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ملک انقلاب اور خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس وقت پاکستان میں سخت گھڻن کی کیفیت ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی قدغن پشتون تحریک کی خبروں کے شائع کرنے پر لگی ہوئی ہے۔

‘ذرا ہڻ کے’ کے وسعت اللہ خان نے سوال اڻھایا ہے کہ ‘حزب حال’ کے سہیل احمد کا کیا ہوگا۔

بی بی سی نے پیمرا کے حوالے سے خبر دیتے ہوئے لکھا ہے: پیمرا کا کہنا ہے کہ پشتون تحریک کے حوالے سے ریاستی اداروں کے خلاف بات نہیں کی جاسکتی۔

 

Yemeen Zuberi

Yemeen ul Islam Zuberi is an ex-journalist from Pakistan. He writes in Urdu and rarely in English. Besides essays, he also writes poetry. In Pakistan, he worked for different newspapers for 20 years. Now lives in the US.

yemeen has 14 posts and counting.See all posts by yemeen

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *