آج کے سیاسی نرخ

آئینہ سیدہ

پاکستان کوئی امریکہ یا برطانیہ جیسا فرسودہ ملک نہیں جو پرانی روایات کو گلے لگا کر برسوں ایک ہی سیاسی نظام کے گرد کولہو کے بیل کی طرح گھومتا رہے

نہیں جی ! ہم بہت  پہنچے ھوۓ ملک ہیں ! ہما رے پاس حکومت کرنے اور اسکو گرانے کے “ایک سو ایک ٹوٹکے ” ہیں

کبھی بنیادی جمہوری  نظام ،کبھی اسلامی نظام  تو کبھی روشن خیال نظام …. مقصد سب کا “تبدیلی آب وہوا ”  ہے جو کہ پاکستان نامی مریض کی صحت کے لیے بہت ضروری ہے

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں ہم بار بار عوام کے اپنے لیے پسند کیے گیے نظام جمہوریت کو چلتی ٹرین سے دھکا دے دیتے ہیں اور پھر خود ھی اسپر رونا پیٹنا شروع کر دیتے ہیں

 اور کیوں نہ روئیں کہ بیچارے پتلی گردن والےعوام نے ہمیشہ اپنے ووٹوں کے ذریعے جمہوریت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی مگر قسمت کی ستم ظریفی کے ہر بارمنتخب  جمہوری  سیاسی حکومتیں اس کمر کو سیٹ  نہ رکھ سکیں جس میں درد کا بہانہ بنا کر ایک جرنیل سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کرمنظر سے غایب ہوگیا ہے

مگر قصور اس سابقہ کمانڈو کا بھی نہیں جب روایت ھی یہ رہی کہ جب تک تن پر وردی اور بغل میں ڈنڈا ہے من مانیا ں اور لن ترانیاں کرو جب وردی اترے اور ڈنڈا آپکی بغل سے نکل کر دوسرے وردی والے کی بغل میں جا کر فٹ ہوجاۓ تو پیٹی بھائی کی آشیر باد لے کر یہ جا وہ جا

ہاں،  جانے سے پہلے  “جاۓ واردات ” پر سے فنگر پرنٹس مٹانا نہیں بھولتے اور اسکے لیے عموما دو نمبر سیاستدان ایجاد کیۓ گیۓ جو ڈمی الیکشنز کے ذریعے ڈمی اسمبلیوں کی زینت بنتے ہیں انہی کے ذریعے یہ وردی پوش اپنے تمام “کارنامے ” جایز قرار دلوا کر ملک ؤ قوم کو ایسے ایسے عزابوں کے سپرد کر جاتے ہیں کہ جاں بلب قوم کے لبوں پر ایک ھی جملہ

“ہوتا ہے ” دشمن نہ کرے وقار نے جو کام کیا ہے

پاکستان کی سیاسی تاریخ یہی بتا تی ہے کہ غاصبوں کے علاوہ اگر مقبول سیاسی اور منتخب پارٹیوں  کے دور حکومت مکمل ہوۓ تو صرف پاکستان پیپلزپارٹی کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ باوجود غاصبانہ حکومتوں کے طویل دورانیوں کے بعد ٹوٹا پھوٹا ملک اوراسمیں بسی  فرقوں،لسان اورسیاسی محاز آرائی  کی بنیاد پرتقسیم در تقسیم کی گئی پسماندہ  عوام ملنے کے،  اپنی مدت اقتدار پوری کی

خیر آسانی تو اس راہ میں بھی نہ ملی تھی.  بھٹو صاحب کے دور میں پولیس کی ہڑتالوں سے لیکر قومی اتحاد کے پہیہ جام اور سرمایہ داروں کے پیسوں سے مسجدوں میں بغاوت کے اعلانات سے لے کر احمدیہ جماعت کے خلاف سوچی سمجھی

فرقہ وارانہ سازش اور پھرمیڈیا تواس زمانے میں بھی بوٹ پالش کرنے والا خوشامدی ہی  تھا جسکا سارا زور جمہوری ،نیشنلسٹ اور سیکولر جماعت کی حکمرانی کو چیلنج کرنے میں لگتا تھا اور پھر پچھلے دور حکومت کی طرف  فاسٹ فارورڈ کرلیں تو منظر نامہ صاف  نظر آتا  ہے کہ وفاق میں پیپلزپارٹی کی اتحادی حکومت تھی  نہ کہ دوتہائی اکثریتی  اسکے باوجود ہر ایک اپنی “خواہشات ” کا ٹوکرہ لیے کھڑا تھا  !عدلیہ تھی تو حکومت کو ناکام کرنے میں پیش پیش ، میڈیا کا تو خیر کیا کہنا  انکو تو پیسے ہی جمہوری حکومتوں کے خلاف بولنے کے ملتے ہیں اور اگر یہ جمہوری حکومت پیپلزپارٹی یا عوامی نیشنل پارٹی کی ہو تو شاید “لائسنس ٹو کل ” کے مصداق  قتل بھی جایز ہوجاتا ہے ! افسوسناک تھا وہ منظر کہ  میثاق جمہوریت پر دستخط بھی نہ سوکھے تھے تب  محترم ن صاحب کالا کورٹ پہن کراپنے محبوب منصف کے پاس پہنچ گیے ہتھ پلے کچھ نہ آیا ہاں ایک جمہوری حکومت کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کا اعزاز ضرور حاصل ہو گیا اورپھرجب وفاق میں ن صاحب اپنی  عددی طاقت کے بل بوتے پرمسند اقتدار پر جلوہ افروز ہوۓ تو سر منڈاتے ہی انگلی مافیا کا  سامنا ہوگیا یہاں  پاکستان پیپلزپارٹی جیسی جمہوریت کے لیے طویل جدوجہد کرنے والی پارٹی نے ہر دفعہ کی طرح  جمہوریت کی حمایت یا حکومت کی مخالفت میں سے جمہوریت کی حمایت کو منتخب کیا تھا  نواز حکومت کو کندھا بھی دیا مگر ن صاحب اور انکے رفقاء کو تو پرانی عادت ہے “سولو شاہی “فلائیٹ کی !  ایسی ہی دو عدد  سولو فلائٹس یہ پہلے بھی کر چکے ہیں اور دونوں کا انجام کریش لینڈینگ ہوا تھا مگر یھاں پرواہ کس کو ہے کہ پاکستان مسلم لیگ میں موجود اکثر لوگ یہ جانتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا ؟؟ مسلم لیگ( پ )  سےمسلم لیگ ( ج ) بنی تھی اور ج سے ن ، ق ، ف ،ع، ض،ل ،م …وغیرہ وغیرہ  تو چلو زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا ایک اور “حروف تہجی ” کا اضافہ ہو جاۓ گا

اسی لیے  یہ  صاحبان حکومتی بس کے بند دروازوں پر ہاتھ مارتے اور صدا لگادیتے ہیں  ” ڈبل ہے استاد ،جانے دوز “مگر کہاں جانا تھا دو سال کا وقفہ تھا کہ  ” ایک اور فون آگیا ہے ” اب آپ پوچھیں گے کہ کیا مطلب تو لطیفہ بیان کیا جاۓ گا  جس میں ایک “بھولے بھالے” سردار جی اپنے جھلسے ھوۓ کانوں کے ساتھ دفتر پہنچے تو دوست نے پوچھا یار! اے کی ہویا

 فرمانے لگے او بھایا ! میں اپنی شرٹ استری کررہا تھا صاحب  کا فون آگیا میں نے گھبرا کر فون کی بجاۓ گرم استری کان سے لگا لی بس سجے پاسے دا کن سڑ کے سوا ہوگیا ( سیدھی طرف کا کان جھلس گیا)دوست  بولا تو یار یہ بایاں  کان کیسے جل گیا سردار جی مستقل سوالوں سے تنگ آکر جنجھلاۓ اور بولےا وے کم عقلا !  صاحب نے  دوجی  واری فیر فون کر دتا سی

اس وقت یہ حال ہے کہ حکومت نے ابھی اپنے اقتدار کی معینہ مدت بھی پوری نہیں کی مگر اسکے  دونوں کان جل چکے ہیں اگرپہلی بار کےفون پر ہی ہمارے حکمران گرم استری اور موبائل فون میں فرق کر پاتے تو حکمرانوں کے  ” سجے کھبے کن  ” بچ جاتے  مگر…… مگر اس ملک کی قسمت یہ ٹہری ہے کہ دو قدم آگے سفرکرتا ہے اور دس قدم پیچھے ….. ایک سے ایک ترقی پسند دانشور ، جمہوریت پسند ، سیکولر مفکر قیام پاکستان سے ہی اس زمین میں موجود تھا مگر ستم ظریفی مقدر کی کہ اس تیزی سے ہم نے بحثیت قوم یہ ہیرے اپنی ٹھوکروں میں رکھے کہ پھسلتے ہوۓ کچھ ہمارے وطن سے اورکچھ جہان فانی  سے ہی کوچ کر گیے

پیچھے کیا رہ گیا ؟؟ جی ہاں ! کویلۓ …. وہ بھی گھٹیا درجے کےکویلے! جن کو سردیوں میں جلا کرآپ اپنے ہاتھ بھی اچھی طرح  نہ تاپ سکیں

کان تو میڈیا اینکرزکےبھی جھلسے ہوۓ ہیں بلکہ انکی  تو زبانوں پربھی چھالےپڑےہیں وجہ تو وہ آلو ہے جو گرم گرم ہے ریٹنگ کے چکر میں منہ میں ڈال چکے اب نہ نگلا جا رہا ہے نہ اگلا مگر بڑے صاحب کا  جب تک حکم رہے گا یہ سکرینیں یونہی چمکتی رہینگی  لیکن  اگر حکم آگیا کہ سکرینیں کالی کرنے میں  ہی “وقار کی بقا  ”  ہے تو پھر ” تبدیلی ” آ  جاۓ گی بہتر ہے ابھی سے عادت ڈالیں کہ آٹھ  سے بارہ  بجے تک  کس طرح اپنا “وقت گزارنا “ہے

بقول ایک قابل ترین  سینئیر تجزیہ کار صاحب “ہماری طرف سے آج بس  یہی کچھ ” باقی تجزیہ تبدیلی کے بعد

aina syeda

آئینہ سیدہ نے عملی زندگی کا آغاز ایک استاد کی حیثیت سے کیا اور قلم کا سفر پاکستانی سیاست کے اتار چڑھا ؤ اور معاشرے کی منافقتوں پر اخبارات اور رسائل میں کالم نگاری سے ،احساسات کی ترجمانی کرنے کے لیے شاعری کا سہارا لیتی ہیں اور زندگی کو مقصد فراہم کرنے کے لیے کمیونٹی کو اکثر اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کرتی رہتی ہیں -------------------------- ان سے رابطے کے لیے ٹویٹر ہینڈل ہے @A_ProudCivilian

aina has 14 posts and counting.See all posts by aina

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *