سیاستدان کا ساتھ دو ، محکموں کو مات دو

تحریر: یمین الاسلام زبیری

عمران خان کوئی عرصہ پچیس سال یا اس سے زیادہ سے اپنی حکومت کی کوشش کر رہا تھا، بالآخر 2018 میں کامیاب ہوا۔ جو عرصہ اس نے حکومت ملنے تک کے سفر میں گزارا اس میں اس نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جسے اس وقت کی حکومت پر مثبت تنقید کہا جا سکے، اور اسے ایک فعال حزب مخالف کا درجہ دیا جاسکے۔ مثلاً ایک ریل حادثہ پر یہ کہنے کی بجائے کہ پٹریاں اور نظام بہتر ہونا چاہیے، عمران نےکہا کہ وزیر ریلوے کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ ریلوے کا مسئلہ بہت گہرا ہے، اس میں کوئی یا کئی بہت کچھ بنا رہے ہیں ورنہ آئے دن گاڑیاں پٹری سے اترنا اور لوگوں کی جانوں سے کھلواڑ اور ملک کی تجارت سے مذاق کا جاری رہنا انتہائی افسوس کی بات ہے۔ عمران حکومت بننے کے بعد بھی نقصان کا یہ سلسلہ جاری رہا گاڑیاں پٹری سے اترتی رہیں لیکن کسی وزیر نے  استعفیٰ نہیں دیا، نہ کسی کو نکالا گیا نہ ہی اس مسئلے کہ سد باب کے لیے اقدام کیے گئے۔

پاکستانیوں کے لیے عمران کا آنا ایک نیا تجربہ تھا۔ عمران خود بھی سیاست میں نیا تھا، بالکل کوئی تجربہ نہیں تھا۔ وہ پاکستانیوں کے لیے ایک کرکٹ ہیرو ضرور تھا، کچھ اور بہت سے کارنامے بھی ہیں۔ اخبارات میں خبر بننے کے لیے عمران کا نام ہی کافی تھا لیکن اُس کو سیاسی حلقوں سے کوئی مدد نہیں مل رہی تھی۔ وہ یکا و تنہا ہی اپنی تحریک چلا رہا تھا۔ جو لوگ اس کے ساتھ ہوتے گئے جیسے عمران اسمائیل وغیرہ ان کی بھی کوئی سیاسی حیثیت نہیں تھی۔ عمران خود کو سیاسی ثابت کرنے کے لیے مستقل کچھ نہ کچھ کر رہا تھا، جیسے تا دمِ مرگ بھوک ہڑتال۔ لیکن ایسی تمام کوشیشیں بار آور نہیں تھیں۔  مشرف کے 1999 میں آنے سے عمران بہت خوش نظر آتا تھا کیوںکہ مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ نواز شریف سے عمران کا خاص رشتہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ عمران سپائڈر مین ہے اور نواز گرین گابلن۔ مشرف کے زمانے میں ایسا لگتا تھا کہ عمران مشرف کے قریب آنے کی کوشش کر رہا ہے، شاید حکومت کی آس میں۔ بہر حال ایک سیاستدان کے مقابلے میں ایک آمر کی طرف جھکاوٴ خواہ اس کی کوئی بھی وجہ رہی ہو ایک سیاستدان کو زیب نہیں دیتا۔ اور بعد کے ہونے والے واقعات نے یہ بھی ثابت کیا کہ مارشل لاء والے کو سیاستدان کو آزاد کرنا پڑا۔ اور سیاستدان تو واپس ملک میں آگیا لیکن مارشل لاء والا ملک میں قدم نہیں رکھ سکتا۔

نواز اور زرداری کا اگر ذکر کریں تو یہ دونوں بڑی کامیابی سے پاکستان کی سیاست میں پھل پھول رہے ہیں، اور اب تو ان کے بچّے بھی سیاست میں خوب قدم جما رہے ہیں، بلکہ چکے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ان دونوں نے پاکستان کی معیشت، ساکھ، عوام، اور عزت کے لیے کوئی خاص کام نہیں کیا۔ بار بار کہا جاتا ہے کہ بنگلہ دیش ہم سے آزاد ہوا اور آج ہم سے آگے نکلا جا رہا ہے، اور یہ دونوں پارٹیاں باریاں لے رہی ہیں اور پاکستان وہیں کا وہیں ہے، بلکہ کچھ پیچھے ہی ہوگیا ہے۔

یہ دونوں پارٹیاں باریاں لیتی رہی ہیں یا انہیں باریاں دلائی جاتی رہی ہیں، یا ان کی باریاں ختم کی جاتی رہی ہیں۔ ان کی اکثر حکومتیں اپنا عرصہ پورا نہیں کر سکیں۔ لیکن لگتا ہے کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ انہیں ایسا نہ کرنا دیا جائے۔ یہ اس میں بھی خوش رہے ہیں۔ اب عمران کے آنے سے ایک نیا عنصر میدان میں آگیا ہے۔ اب ان پرانی پارٹیوں کو اکھٹّا ہونا پڑا ہے، جس سے یہ بھی کچھ نہ کچھ ثابت ہوتا ہے کہ پہلے نورا کشتی جاری تھی، اور یہ دونوں پارٹیاں ایک ہی سکّے کے دو رخ تھے، بلکہ ہیں۔ البتہ ایک بات ضرور سامنے آ رہی ہے کہ پی پی تو سندھ تک محدود ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اور ن پنجاب تک۔ بلوچستان لڑھکتا رہتا ہے۔ خیبر پختون خواہ میں عمران اب تک تو مضبوطی سے جما ہوا ہے۔

جب اس بات کا مکمل یقین ہو کہ حکومت تو ختم ہونا ہی ہے، مدّت تو پوری ہونا نہیں ہے، اور یہ کہ طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں ہیں تو بد عنوانی خود بہ خود جنم لیتی ہے۔ نا انصافی سے ہٹائی گئی حکومت کے بعد جو بھی حکومت آئے گی وہ نا انصافی سے ہی تو آئے گی۔ بیج بویا جائے گا تو درخت تو اگے گا، اور کہاوت ہے جو بوئو گے وہی کاٹو گے۔

عمران کی مقبولیت میں اضافہ اس کے خیبر پختون خواہ میں حکومت بنانے کے بعد ہوا۔ وہ حکومت کامیاب رہی، سوائے چند مسائل کے جیسے بی آر ٹی منصوبہ۔

عمران خان  کا فلسفہ کیا ہے؟ یہ عجیب و غریب ہے۔ وہ پیروں فقیروں پر اعتقاد رکھتا ہے۔ اس کی شادی بھی ایک پیرنی سے ہوئی ہے۔ وہ ایک خانقاہ کی زیارت پر اس کی دہلیز کو چومتا ہے۔ جب وہ ایک کرکٹ کھلاڑی تھا اس وقت بھی ایسی افواہیں تھیں کہ عمران اپنے پنڈلی کے زخم کے لیے کسی پیر سے رجوع کرتا ہے۔ یوں اس کی تاریخ دیکھیں تو ایک غیر مذہبی، داڑھی منڈھا مغرب زدہ آدمی ضرور رہا ہے۔ اس کا خود کا کہنا ہے کہ وہ مغرب کو اوروں سے زیادہ سمجھتا ہے، اپنے تجربوں سے۔ اس کا مشن ایک ہی لگتا ہے کہ خاص طور پر شریف خاندان کو نیچا کیا جائے، اور پھر زرداری کو۔ اس کی توجہ اس کے علاوہ تجارت، صنعت، تعلیم اور دوسرے مسائل پر کم لگتی ہے۔ صحت کے شعبے میں صحت کارڈ کا اجراء ایک سنگِ میل ضرور ہے۔ اس کے علاوہ لنگر خانوں کا قیام میرے نذدیک ایک غلط قدم ہے۔ قوم کو فقیر بنانا ہے۔ اس کے بجائے روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ عمران نے کچھ کام اچھے کیے ہیں جیسے اقوام متحدہ میں اچھی تقریر، خوفِ مسلماں کی ضد میں تحریک اور مغرب کو لتاڑنا، لیکن اس سے غریب آدمی کو روزگار نہیں ملنے کا۔

عمران خان کا انتخابات میں حصہ لینا اور لوگوں کے منع کرنے کے باوجود الیکٹیبلز پر دارومدار کرنا، اس کے سیاسی عزم کو گھٹا دیتا ہے۔ وہ وقت تھا جس وقت عمران کو کہنا چاہیے تھا کہ وہ حزبِ مخالف میں رہنا پسند کرے گا لیکن بیساکھیوں کے ساتھ  حکومت نہیں بنائے گا۔ لیکن ہمیں نہیں معلوم اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا، جو بھی تھا یہ ظاہر ہے کہ وہ یہ نہیں سوچ رہا تھا کہ ایک بار حکومت میں آنے کے بعد اور کرسی کا تجربہ حاصل کرنے کے بعد وہ بہتر سمجھ کے ساتھ پاکستان کے لیے کچھ کر سکتا ہے۔ جو کچھ سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ بس اسے زرداری اور نواز کو گرانے اور انہیں کنگال کرنے کے لیے حکومت چاہیے تھی۔ وہ بھول گیا تھا کہ یہی الکٹیبلز پہلے اُن لوگوں کے ساتھ تھے۔ اب جو کچھ ہوا وہ اُس وقت کیوں نہیں سمجھ لیا گیا کہ یہ بھی ہو سکتا ہے۔

عمران اپنے آخری دنوں تک صرف ایک نعرہ لگاتا رہا، این آر او نہیں دینا۔ اگر وہ اس کے بجائے اِس کے بارے میں سوچتا کہ عوام کو جو چاہیے وہ کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ تجارت و صنعت، روزگار، تعلیم، تحقیق، آمد و رفت، رہائش، پانی اور بہت سی ضروریات آئی ایم ایف سے قرضہ پر قرضہ لینے کے باوجود پوری نہیں ہو رہی ہیں۔ لگتا ہے کہ جو قرضہ آ رہا ہے وہ سہی مدات میں خرچ نہیں ہو رہا۔ عمران اگر ایک کار گر حکومت بنانا چاہتا تھا تو اسے یہی دیکھنا تھا، چاہے اسے اس سلسلے میں فوج یا عدلیہ یا جس سے بھی ٹکر لینی پڑتی۔ اگر وہ ایسا کرتے ہوئے حکومت سے نکالا جاتا تو بڑی بات ہوتی۔ لیکن اسے صرف اس لیے نکالا گیا کیوںکہ اکثر حکومتوں کو ساڑھے تین سال بعد نکالا جاتا ہے۔

اب دیکھتے ہیں کہ عمران خان انتظامیہ کی بات کہاں تک مانتا رہا ہے۔ تمام اہم مقدموں میں عمران نے ہمیشہ ظلم کا ساتھ دیا۔ گو ہر مقدمے کے شروع میں کہا کہ، میں ضمانت دیتا ہوں کہ انصاف ملے گا، لیکن چند دنوں میں ہی عمران کی طرف سے خاموشی کے علاوہ اور کچھ سامنے نہ آیا۔

یاد دہانی کے لیے یہ چند مقدمے ہیں: تحریک پشتین تحفظ، اس کے جلسوں میں پی ٹی آئی کے نمائندے شرکت کیا کرتے تھے، یہ تحریک ماورائے عدالت قتل جبری گمشدگی، غیرقانونی گرفتاریوں اور قبائیلی علاقوں سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے چل رہی ہے۔ دوسرا اہم مقدمہ رائو انوار کا تھا جس میں رائو انوار پر قتل ثابت ہونے کے باوجود اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور وہ مزے کی زندگی گزار رہا ہے۔ تیسرا مقدمہ تحریک لبیک پاکستان کا ہے جس میں اس کے کارکنوں نے توڑ پھوڑ کی حد  کردی، اور ان سے عمران خان ایسا خائف لگتا تھا جیسے وہ کرسی پر اور عمران زمین پر  بیٹھا ہو؛ اسی میں ججوں اور خاص کر فائز عسیٰ صاحب کو بھی گھسیٹ لیا، گو اب کہہ رہا ہے کہ اس سے غلطی ہوئی۔ اور لیں تو بلوچ نوجوانوں کی گمشدگی کا مقدمہ ہے۔ بلوچستان میں کانکنوں پر حملہ جس میں گیارہ کاکن مارے گئے اور عمران ورثا سے رعونت سے بات کرتا رہا، اور ان کے مطالبات کے لیے کہا کہ یہ بلیک میل کر رہے ہیں۔ کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں۔ اور ملک ریاض کو بھول جائیں کیا؟ ان تمام مقدموں کے شروع میں عمران نے کہا کہ وہ مظلوموں کے ساتھ ہے لیکن وقت گزرنے کے بعد یہ کہنا بھی چھوڑدیا۔ یعنی زبانی  جمع خرچ بھی نہ رہا۔ ان تمام مقدمات کا اگر بغور جائزہ لیں تو لگتا ہے کہ انتظامیہ انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی اور عمران اس سے دبتا رہا۔ ایک بات اور قابل ذکر یہ ہے کہ عمران نے اپنے گرد جن لوگوں کو جمع کیا ہے وہ بغیر عمران کے خاک دھول مٹّی ہیں۔ ایک محمود قریشی کچھ ذور دار آدمی ہے باقی تو کسی گنتی میں نہیں آتے۔ اگر، خدا نہ کرے، عمران اپنی جماعت کی رہبری نہ کر پائے تو کون ہوگا جو جھنڈا اُنچا کرے گا۔ دوسری طرف زرداری کے ساتھ تو بلاول بھی ہے اور آصفہ بھی ہے۔ نواز کے ساتھ تو شہباز، مریم، حمزا اور مریم اورنگزیب بھی ہیں۔ عمران کے ساتھ کون کھڑا ہے، کوئی ایسا نظر نہیں آتا۔ نہ ہی پی ٹی آئی میں انتخابات کا کوئی سلسلہ ہے۔ تجربہ اور مشاہدے سے کہہ سکتے ہیں کہ بعد عمران پی ٹی آئی کا حشر کچھ ایم کیو ایم سے الگ نہیں ہوگا۔

اب حکومت کے جانے کے بعد سے عمران صرف ایک ہی مقصد لے کر آگے بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ وہ اُس وقت خوش ہو رہا تھا جب یہی ناانصافی دوسروں کے ساتھ ہو رہی تھی۔ عمران کو خود بھی سمجھنا چاہیے اور اپنے ہم پیشہ سیاستدانوں کو بھی سمجھانا چاہیے کہ حکومت سیاستدانوں کا حق ہے۔ اور ان سیاستدانوں کو جنہیں عوام نے چنا ہے صرف عوام ہی نکال سکتے ہیں۔ کسی اور کو اس میں مداخلت کی ضرورت نہیں، ایسی مداخلت سازش ہے۔ خود بھی طاقتور ہونا چاہیے اور دوسرے سیاستدانوں کو بھی تلقین کرنی چاہیے کہ وہ طاقت حاصل کریں، لیکن کیسے، ووٹ کے ذریعے۔ اور ووٹ کا تقدّص قائم کریں۔ ایک دوسرے کو گرانے سے سیاستدان طاقت کھو رہے ہیں۔ لیکن تنقید نہ روکیں۔

اس کے علاوہ عمران حکومت کئی محاذوں پر ناکام رہی۔ قرضہ بڑھتا گیا؛ معیشت گرتی گئی؛ دہشت گردی اپنی جگہ قائم رہی؛ بیروزگاری ویسے ہی رہی؛ مہنگائی کمر توڑ ہوتی چلی گئی؛ ریل حادثے ہوتے رہے؛ تیل ہر کوشش کو تیل کرتا رہا، اور سب سے بڑھ کر شہزاد مرزا کو نواز اور زرداری سے لوٹی ہوئی رقومات نکلوانے پر لگایا تھا تو انہوں نے لاکھوں یا کروڑوں رپیہ خرچ کر نے کے بعد کہہ دیا کہ، مافیا سے رقوم نکلوانا کچھ آسان کام نہیں۔ تو خرچہ بھی ہوا اور رقوم بھی نہ ملیں۔

عمران کے چاہنے والوں پر منفی خبروں کا کوئی اثر نہیں ہوا، لگتا ہے۔ وہ مستقل کہتے رہے کہ اسے ایک موقع ضرور دینا چاہیے۔ اب قاضی فائز عیسیٰ کا مقدمہ لیں۔ عمران خان نے ان کے  خلاف بات کی تو سب لٹھ لے کر ان کے پیچھے پڑ گئے، بے جانے بوجھے  اور بنا تحقیق کے کہ قاضی کون ہیں اور مقدمہ کیا تھا، مقمہ تھا تحریک لبیک پاکستان کا۔ قاضی عیسیٰ ایک نہایت اچھی ساکھ رکھنے والے جج ہیں؛ اور انہوں نے اس مقدمے میں فوج سے ٹکر لی تھی۔ اب، حکومت جانے کے بعد، عمران خان نے ایک بیان دیا ہے کہ اس سے  قاضی صاحب کے خلاف غلط بیانی ہوگئی۔

عمران کی حکومت اپنے آخری دنوں میں خاصی مقبولیت کھو رہی تھی، امکان تھا کہ اگلے انتخابات میں اسے مشکل سے ووٹ ملیں لیکن اس کی حکومت کو قبل از وقت گرا کر اسے شہادت کا درجہ دے دیا اور اب جو اس کے ساتھ نہیں بھی تھے ان کے دلوں میں بھی اس کے لیے ہمدردی جاگ اٹھی۔ اور جیسا وہ خود کہتا تھا کہ، ’باہر آ کر میں اور خطرناک ہوجائوں گا!!!،‘ وہ واقعی مخالفین کے لیے خطرناک ہو گیا ہے۔

یہاں میں ان لوگوں کے بارے میں بھی ضرور کچھ کہوں گا جو عمران خان کے حق میں رہے، یا مخالفت میں۔ ان دونوں کے رویوں کا بیان بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ وہ لوگ جو عمران کے چاہنے والے ہیں وہ اسے دوسرا قائدِ اعظم، کوئی پیر یا درویش سمجھتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ بنی گالہ کی مہنگی رہائش گاہ میں ایک درویش رہتا ہو۔ پیر الطاف حسین تو ایک ڈیڑھ سو گز کے مکان میں رہا کرتے تھے، بلکہ ان کی تصویریں پتوں پر بھی آیا کرتی تھیں۔ عمران کے چاہنے والوں کا کہنا ہے کہ اسے پورا موقع نہیں دیا گیا۔ انہیں اس سے غرض نہیں کہ پچھلوں کو پورا موقع دیا گیا کہ نہیں۔ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ سب کو پورا موقع دیا جانا چاہیے۔ وہ یہ جانتے بھی نہیں کہ جب پورا موقع نہیں دیا جاتا ہے تو بدعنوانی در آتی ہے، ووٹ کی عزت خاک میں ملتی ہے۔ ان میں سے بہت سے عمران کو تا حیات وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔ کچھ کی خواہش ہے کہ ملک میں صدارتی نظام آجائے اور عمران تا حیات صدر ہوجائیں، تاکہ وہ ایک خلیفہٴ وقت کی حیثیت میں ہوں۔ لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ اگر ایسا ہوسکتا تو عمران کو اب تک کم از کم تاحیات وزیر اعظم مقرر کردیا جا چکا ہوتا۔ ہم بھول نہیں سکتے ان پردہ نشینوں کو جن کے ہاتھوں میں کٹھ پتلیوں کی ڈوریاں ہوتی ہیں۔

ایک معاملہ امریکہ بہادر کا بھی ہے۔ عمران اور ان کے چاہنے والے کہتے ہیں کہ اس حکومت کو امریکہ نے ختم کیا ہے۔ وہ یہ بھی بتائیں کہ پچھلی حکومتوں کو کس نے گرایا تھا، روس نے؟ میں نے حال ہی میں نوم چومسکی کی ریاستی دہشتگردی پر کتاب پڑھی ہے۔ اس کے مطابق امریکہ دنیا بھر میں دخل اندازی کرتا رہتا ہے۔ لیکن وہ بہت سی جگہوں پر ناکام بھی ہے، جیسے ویتنام، شمالی کوریہ، افغانستان، ایران وغیرہ۔ پاکستان میں جتنا یہاں کی افواج کو امریکہ کی ضرورت ہے اتنی امریکہ کو شاید پاکستان کی  ضرورت نہیں۔ امریکہ کے لیے بھارت زیادہ کشش رکھتا ہے بنسبت پاکستان کے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ایک تو بھارت کی آبادی بہت ہے ہر تھوڑی  دور پر ایک میک ڈانلڈ اگر ہو تو امریکہ کی کمائی خوب ہے؛ دوسرے، بھارت کی معیشت مستحکم ہے جو سرمایہ کاری کے لیے مناسب ہے؛ تیسرے، دہشتگردی نہ ہونے کے برابر ہے؛ چوتھے، چین کا مقابلہ کرنے کا عظم بھی ہے حوصلہ بھی ہے اور طاقت بھی ہے۔ دوسری طرف مقروض، غیر مستحکم، دہشتگردوں کی آماجگاہ اور مفلس پاکستان ہے؛ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ فوج یہاں کی بہت مضبوط ہے لیکن فوج کو مضبوط رکھنے کے لیے پیسہ چاہیے جو کہ محصول سے آتا ہے۔ کیا اس قوم سے اتنا محصول مل سکتا ہے، جواب ہے کہ کیا ننگی نہائے گی کیا نچوڑے گی۔

پچھلے پیرا گراف میں ساری باتیں اس لیے نہیں کہی گئیں کہ عمران کے چاہنے والوں سے یہ کہنا ہے کہ وہ اسے نہیں چاہیں۔ وہ اسے ضرور چاہیں۔ ہمیں اور بھی سیاستدان چاہیے ہیں، موجودہ کے علاوہ، جن کے چاہنے والے بڑے پکّے ہوں۔ یہ باتیں اس لیے لکھ دی گئی ہیں کہ تمام ہی لوگ وہ پوری  باتیں ذہن میں رکھ کر بات کریں اور انہیں کوئی بھی پچھاڑ نہ سکے۔

اب رہے عمران کے مخالفین۔ پہلے تو میں اپنا بتائوں کہ میں عمران کے الیکشن سے پہلے اس کا مخالف تھا کیوںکہ وہ اناڑی سیاستدان تھا، اسے تجربہ چاہیے تھا؛ اس کے حکومت بنانے کے بعد میں حمایتی ہوگیا، کیونکہ وہ اپنے مخالفین کے مقابلے میں ایماندار لگتا تھا؛ لیکن حکومت میں کارکردگی دیکھنے کے بعد میں پھر مخالف ہوگیا، دل میں یہ رکھ کر کہ کاش عمران درست فیصلے کرنے لگے۔ عمران کے مخالفین کی سب سے بڑی شکایت یہی رہی ہے کہ وہ فوج کے کہے پر آنکھ بند کر کے عمل کرتا رہا ہے۔

اب دیکھیں کہ نواز اور زرداری کس کھاتے میں آتے ہیں۔ پی پی نے اپنی دو سرکردہ رہنمائوں کو شہید ہوتے دیکھا ہے۔ وہ خاصہ عرصہ اپنے منشور پر ملک کو چلانے کی کوشش کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ فوج جیسا کہے ویسا کرلو، مال بنائو اور خوش رہو۔ دوسری ہے ن لیگ، نواز نے شروع میں خاصے ہاتھ پیر مارے کہ کسی طرح تاجر اور صنعتکاروں کا ذور ہو جائے لیکن اس نے بھی فوج کے آگے بے بس ہو کر گھٹنے ٹیک دیے۔ خیال رہے کہ عمران شروع ہی گھٹنے ٹیک کر ہوا تھا۔

عمران کی حکومت کے خاتمے سے ایک بڑا مسئلہ ان لوگوں کے لیے ہو گیا ہے جو عمران کے مخالفین ہیں۔ وہ جیسا کہ پہلے بھی کہا ہے کہ مخالف اس لیے تھے کیوںکہ ان کے نذدیک عمران فوج کی سن رہا تھا۔ اب فوج نے ہی اِسے نکال باہر کیا۔ اس سے گویا عمران کے مخالفین کے قدموں سے زمین کھسک گئی ہے اور اب وہ بغلیں جھانک رہے ہیں کہ کیا کہیں۔ عمران کے حمایتی اب ان پر آسانی سے حاوی ہو رہے ہیں۔ یہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے ایک میرے ملنے والے تھے انہیں بلڈ پریشر رہتا تھا، جب ملتے ہم ان کے مرض کے بارے میں کچھ بات کرلیا کرتے۔ ایک بار ملے تو میں نے پوچھا، اور صاحب، بلڈ پریشر کیسا ہے۔ بولے، وہ تو ختم ہوگیا، اب نہیں ہے، ٹھیک ہوگیا۔ اب میں سوچ میں پڑ گیا کہ ان سے اب کیا بات کروں۔

اب کیا کریں؟

بڑا سوال ہے کہ، اب عمران کے مخالفین کیا کریں؟ تو میرا ذاتی مشورہ ہے کہ عمران کے مخالفین جو کچھ ہو رہا ہے اس میں دلچسپی لیں۔ یہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ اگر ایسا ہی چلتا رہے تو بہتری کی سمت ہی جائے گا۔ اس وقت وہ تمام جماعتیں جو کسی وقت ایک دوسرے کے خلاف صف آرا تھیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہیں اور عمران کی جماعت ایک طرف ہے۔ سوشل میڈیا پر جو کچھ چل رہا ہے اس سے فوج بہت بڑے دبائو میں ہے۔ اب جب بھی انتخابات ہوتے ہیں ایک اندازے کے مطابق عمران بہت بڑی اکثریت سے آجائے گا، اگر کوئی گڑبڑ نہیں ڈالی گئی۔ اس ملک میں کوئی بھی جماعت اگر بڑی اکثریت سے آتی ہے تو اس میں اس ملک کے عوام کا بہت بڑا فائدہ ہے، وہ پارٹی کوئی بھی ہو۔ اس کی دعا بھی کرنی چاہیے۔ اور دعا کرنی چاہیے کہ ہر حکومت اپنی مدّت پوری کرے۔

Yemeen Zuberi

Yemeen ul Islam Zuberi is an ex-journalist from Pakistan. He writes in Urdu and rarely in English. Besides essays, he also writes poetry. In Pakistan, he worked for different newspapers for 20 years. Now lives in the US.

yemeen has 22 posts and counting.See all posts by yemeen

Leave a Reply

Your email address will not be published.