مشرف کے خلاف فیصلہ کیا عوام کی توجہ کھینچ پائے گا؟

تحریر: یمین الاسلام زبیری

سابق نام نہاد صدر، جناب پرویز مشرف کے مقدمے کا فیصلہ آگیا۔ انہیں سزائے موت سنادی گئی ہے۔ سزائے موت ایک خصوصی عدالت نے سنائی ہے۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل بھی ہو سکتی ہے اور صدر بھی مشرف کو معاف کر سکتے ہیں، سب سے بڑھ کر یہ کہ مشرف اس وقت دبئی میں ہیں، انہیں پاکستان لانے میں ہی بہت وقت لگ سکتا ہے۔ یہ فیصلہ پانی کی سطح کو چھیڑنے کے مترادف ہے، ابھی تہہ بہت گہری ہے۔ اگر یہ سمجھا جائے کہ یہ فیصلہ صرف دکھاوے کے لیے ہے تو یہ بھی بتانا ہوگا کہ کیوں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ عوام میں اس وقت فوج کی مقبولیت بہت کم ہو چکی ہے۔ خیبر، بلوچستان اور سندھ میں ایسی تحریکیں سر اٹھا رہی ہیں جو اقتدار پر فوج کی بالادستی کو مقابلے کی دعاوت دے سکتی ہیں۔ کشمیر، جس کی خاطر پاک فوج کو دنیا کے ہر ذریعے سے قرضہ لے کر مضبوط کیا جاتا ہے، ہاتھ سے جاتا نظر آتا ہے۔ کہیں مشرف کے خلاف یہ فیصلہ عوام کی توجہ ہٹانے اور بٹانے کی ایک کوشش تو نہیں؟

مشرف کے خلاف یہ فیصلہ عجیب بھی ہے اور غریب بھی۔ یہ فیصلہ خصوصی عدالت نے سنایا ہےجو چھ سال پہلے ۱۸ نومبر ۲۰۱۳ کو بنائی گئی تھی؛ اوراس کے بننے کے اگلے ہی دن یعنی۱۹ نومبر کو نواز حکومت نے مشرف کے خلاف غداری کے پانچ الزامات داخل کیے تھے۔ مشرف پر سب سے بڑا الزام تھا کہ انہوں نے آئین کو معطل کیا ہے۔

آئین کے آرٹکل ۶ کی شق نمبر

اس سلسلے میں آئین کے آرٹکل ۶ کی شق نمبر ۳ کی رو سے:

کوئی بھی شخص جو طاقت کے استعمال سے یا دیگر غیر آئینی ذریعے سے آئین کو تنسیخ کرے یا تنسیخ کرنے کی سازش کرے، تخریب کرے یا معطل کرے یا التوا میں رکھے یا اقدام کرے، سنگین غداری کا مجرم ہوگا۔

سزا اس کی یہ ٹھہری

کوئی شخص (الف) جو ۲۳ مارچ ۱۹۵۶ کے بعد سے کسی بھی وقت پاکستان میں طاقت کے ذریعے آئین کی تنسیخ یا بغاوت کا مرتکب ہو یا (ب) آئین کے آرٹیکل ۶ کے مطابق سنگین غداری کا قصوروار پایا گیا ہو اسے پھانسی یا عمر قید کی سزا ہوگی۔

یہاں اتنا لکھنا بے جا نہ ہوگا کہ اس قانون سے ضیا الحق کو آموں کی پیٹی بچاگئی۔ ان کا صدر کا عہدہ ویسے نہ بچ سکا تھا اور قومی مجلس نے اسے کالعدم قرار دے کر انہیں اس سے محروم کر دیا۔

عجیب و غریب فیصلہ

حضرت پرویز مشرف کے فیصلے کو میں نے اوپر عجیب اور غریب کہا ہے۔ اس کی وجہ میرے ذہن میں فیصلے کا وقت اور جنرل کا عہدہ ہیں۔ یہ عجیب گھڑی ہے اس وقت ملک میں فوج کے خلاف، گو اندر ہی اندر، جذبات پھیل رہے ہیں۔ بہت بڑی پشتون آبادی پی ٹی ایم کے ساتھ ہوتی جا رہی ہے۔ یہی تحریک بلوچستان میں بھی پھیل رہی ہے۔

 اب ایک نیا شوشہ طلبا کی تحریک کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ اس تحریک کا مطالبہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبا تنظیموں کی اجازت دی جائے۔ اس مطالبے کو فوج نے بہت غلط جانا ہے، اور اس کے خلاف فوج کی طرف سے ایک پرپگنڈا مہم شروع کی گئی ہے۔

اس سب کے علاوہ ایک بات بہت سے دانشور اور معیشت دان آج کل پیٹنے کی حد تک کر رہے ہیں کہ بنگلہ دیش جو ہم سے آزاد ہوا وہ ہم سے زیادہ ترقی کر رہا ہے۔ اور وجہ اس کی یہ بتائی جا رہی ہے کہ انہوں نے اپنی فوج کو قابو میں رکھا ہوا ہے۔  ان کی ترقی اس سے سمجھ لیں کے اس وقت پاکستان کا روپیہ بنگلہ دیش کے ٹکے کا آدھا ہے۔ غالب کا مصرعہ یاد آتا ہے، شرم تم کو مگر نہیں آتی۔

یقینا اس تحریر کے پڑھنے والوں میں سے اکثر کو اپنے فونوں پر کچھ ایسے تحریری یا صوتی اور تصویری پیغامات ملے ہونگے جن میں پہلے فوج کو اچھا کہا گیا ہے اس کے کارنامے گنوائے گئے ہیں اور پھر پشتون تحریک اور طلبا تحریک کو گھنائونی سازش قرار دیا گیا ہے اور کسی میں بنگلہ دیش والی بات کا جواب الٹے سیدھے دلائل سے دیا گیا ہے۔

ایک بات اور وہ یہ کہ فوج، انتظامیہ اور حکومت رائو انوار اور اس قسم کے دیگر مقدمات کے بارے میں بالکل خاموش ہے۔ ان مقدمات کی  وجہ سے پوری ریاست ایک دبائو کا شکار ہے۔ عوام میں انصاف اور نا انصافی کے بارے میں سوچ بیدار ہورہی ہے۔ دوسری طرف ان مقدمات کے فیصلے میں اَڑنے کی حد تک دیر لگائی جا رہی ہے۔ بے حسی سے، مٹھا ہو کر۔

یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ درست، کم یا زیادہ، ملک ریاض سے حاصل ہونے والی رقم بھی پہنچنے والی ہے۔ اس پر کرتا دھرتا بہت خاموش ہیں، کیوں پتا نہیں۔ ابھی تک یہ راز نہیں کھل رہا کہ آخر اس رقم کا کیا کیا جائے گا۔ ملک ریاض جن کی پہنچ بہت اوپر تک ہے ان کے ۲۰۱۸ والے مقدمے میں چیف جسٹس ان سے بھاو تاو کرتے نظر آتے ہیں۔ جسٹس صاحب کا ایسا لگتا ہے کہ اپنا کام مکمل نہیں ہے یا وہ جو کچھ ملک ریاض سے ہو سکتا ہے اس پر راضی ہونے کے لیے تیار ہیں۔

تو غریب بات یہی ہے کہ ایک طرف عدلیہ کسی معاملے میں کچھ نہیں کر پا رہی اور عجیب یہ ہے کہ ایک مشرف کے معاملے میں تیزی دکھا رہی ہے۔

کیا مشرف کو پھانسی ہوگی؟

سوال اٹھتا ہے کہ مشرف کے خلاف یہ فیصلہ  کیا انتظامیہ اور فوج کی کچھ مدد کر سکتا ہے؟ تو ایسا لگتا ہے کہ ہاں کم از کم عوام کی توجہ لمبے عرصے کے لیے اس طرف موڑی جاسکتی ہے۔

ایک اور سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا پرویز مشرف کو واقعی پھانسی ہوجائے گی؟ تو اس کا تو دور دور تک نظر نہیں آتا۔ مشرف اس وقت دبئی میں اسپتال میں زیر علاج ہے؛ اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں درخواست کی جاسکتی ہے؛ اور تیسرے صدر صاحب اسی آئین کے تحت جس کی رو سے مشرف کو سزائے موت ہوئی ہے اسے معاف کر سکتے ہیں۔ حکومت کے بیانات سے ہم سب پر بالکل واضع ہے کہ حکومت فوج کے بل پر کھیل کھیل رہی ہے۔

اس وقت مشرف کے بچ جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ لیکن فوج اور حکومت کے پاس یہ کہنے کے لیے کہ عدلیہ آزاد ہے کچھ تو ہے۔

ایک بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ عدلیہ صرف مشرف کا ہی فیصلہ کیوں کر سکی۔ عدلیہ اگر آزاد ہے رائو انواراور دوسرے بہت سے مقدموں کے فیصلے کیوں نہیں کر پا رہی۔ ملک ریاض کے فیصلے میں نرمی کیوں دکھائی۔ گم شدہ لوگوں کو بازیاب کیوں نہیں کر سکی۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کے اکثر واقعات میں یہ ناکام ہے۔ ساہیوال کیس کیوں لٹک رہا ہے۔

کیا عوام یہ سمجھیں کہ یہاں دال میں کچھ کالا ہے۔ کیا یہ کوئی نیا کھیل کھیلا جارہا ہے؟ کیا خلائی مخلوق پاکستان پر اپنا اقتدار جمائے رکھنے کی کوئی نئی ترکیب کر رہی ہے؟ کیا بڑے بھائی نے پینترا بدلا ہے؟

Yemeen Zuberi

Yemeen Zuberi

Yemeen ul Islam Zuberi is an ex-journalist from Pakistan. He writes in Urdu and rarely in English. Besides essays, he also writes poetry. In Pakistan, he worked for different newspapers for 20 years. Now lives in the US.

yemeen has 18 posts and counting.See all posts by yemeen

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *