مارٹن لوتھر کنگ: ایک تاریخ ساز شخصیت

تخلیص و ترجمہ یمین الاسلام زبیری

امریکی ہر سال  یومِ مارٹن لوتھر کنگ  جونیئربڑے دل سے مناتے ہیں۔ مارٹن لوتھر کنگ  15 جنوری، 1929 کو پیدا ہوئے تھے۔وہ امریکی بیپٹسٹ  پادری تھےاور انہوں نے  1955 سے  1968 میں اپنے قتل تک امریکی شہری حقوق کے لیے پر زور جدوجہدکی  تھی۔ انہوں نے اپنی تحریک کی بنیاد  عدم تشدد اور شہری نافرمانی  پر رکھی تھی۔ ایسا انہوں نے اپنے عیسائی عقیدے اور مہاتما گاندھی کی عدم تشدد کی تحریک سے متاثر ہو کر کیا تھا۔

مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے کالے امریکیوں کے حق رائے دہی، نسل پرستی کا خاتمہ، حقوقِ محنت، اور دوسرے بنیادی حقوق  کےلیے جلوس نکالے اور تحریکیں چلائیں۔ انہوں نے 1955 میں مشہور مانٹگمری بس بائیکاٹ کی رہنمائی کی اور اس کے بعد وہ جنوبی عیسائی رہنما کانفرنس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ اس کے بعد البنی تحریک کی البنی اور جارجیا میں  رہنمائی کی، 1963 میں عدم تشدد کے تحت کئی احتجاجی مظاہرے برمنگھم اور الاباما میں منعقد کیے۔کنگ نے اکتوبر14، 1964،کو عدم تشدد کی تحریک کے ذریعے نسلی عدم مساوات سے جنگ کرنے پر  نوبل امن انعام اپنے نام کر لیا۔

کنگ نے جنوری 17،  1963 میں واشنگٹن مارچ کیا، واشنگٹن میں انہوں نے اپنی مشہور تقریر ’میرا ایک خواب ہے‘ یادگارِ لنکن کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر دی تھی ۔ نیچے اس تقریر کے مکمل متن کا ترجمہ ہے۔

’میرا ایک خواب ہے ‘

میں بہت خوش ہوں کہ آج میں ایک ایسے موقع پر آ پ کے ساتھ ہوں جو ہماری قوم کی تاریخ میں آزادی کے سب سے بڑے مظاہرے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

ایک صدی قبل، ایک عظیم امریکی، جس کی یادگار کے سائے تلے آج ہم کھڑے ہیں، نے اعلانِ آزادی پر دستخط  کیے تھے۔ یہ انتہائی اہم فرمان ان لاکھوں نیگرو غلاموں کے لیے امید کی مشعل بن کر آیا جو ناانصافی کے کمھلا دینے والے شعلوں سے نیم جاں ہوچکے تھے۔ وہ مانند ایک خوشگوار صبح کے ان کی اسیری کی لمبی رات کا خاتمہ کرنے کو ظہور ہوا۔ لیکن اس کے سو سال کے بعد بھی، نیگرو آزاد نہیں ہے۔ سو سال ہوگئے لیکن افسوس نیگرو کی زندگی کو نسلی امتیاز کی بیڑیوں اور نسل پرستی کی زنجیروں نے مفلوج کر رکھا ہے۔

ایک سو سال گزر گئے ہیں، نیگرو اب بھی اپنے چاروں طرف پھیلے مادّی آسائشوں کے بیکراں سمندر کے بیچ ایک غربت کے مارے درماندہ جزیرے پر رہ رہا ہے۔ نیگرو امریکی ایک سو سال گزرنے کے بعد بھی امریکی معاشرے کے کونے کھتروں میں حسرت زدہ زندگی گزار رہا ہے، اور اسے لگتا ہے کہ وہ اپنے ہی دیس میں جلا وطن ہے۔ پس آج ہم یہاں اکھٹے ہوئے ہیں کہ ہم ایک شرمناک صورتِحال کا تماشہ بنا کر رکھ دیں۔

ایک طرح سے ہم اپنے دارالحکومت میں ایک چیک بھنانے آئے ہیں۔ جس وقت ہماری عظیم جمہوریہ کے معماروں نے آئین اور قراردادِ آزادی کے شاندار الفاظ کو تحریرکیا  ہےوہ اس وقت ایک تمسک پر بھی دستخط کر رہے تھے جس کا ہر امریکی وارث ہونے جا رہا تھا۔ یہ تمسک ایک وعدہ تھا کہ تمام آدمیوں سے ، جی ہاں، کالے آدمیوں سےاور گورے آدمیوں سے بھی، کہ ان کو زندہ رہنے، آزادی اور خوشی کی تلاش کے لاینفک حقوق کی ضمانت دی جاتی ہے۔

آج یہ بات تشت از بام ہے کہ امریکہ اپنے بادشندگانِ رنگ کے سلسلے میں اپنی اس تمسک پر اب تک غفلت اور نادہندگی کا مرتکب ہے۔ اپنی اس مقدس ذمہ داری کو پورا کرنے کی بجائے امریکہ نے اپنے نیگرو عوام  کو ایک ناقص چیک تھمادیا، ایک ایسا چیک جو واپس ملا ’ناکافی رقم‘ کے جواب کے ساتھ۔   لیکن ہم یہ ہرگز یقین کرنے کو تیار نہیں کہ انصاف کا بینک دیوالیہ ہو چکا ہے۔ ہم یقین کرنے کو تیار نہیں کہ اس قوم کی مواقعوں کی عظیم تجوریوں میں رقوم ناکافی ہیں۔ پس ہم اس چیک کو بھنانے آئے ہیں — ایک چیک جو ہمارے طلب کرنے  پر آزادی کی نعمتیں اور انصاف کی ضمانت دے گا۔ ہم اس مقدس مقام پر امریکہ کو  یہ بھی یاد دلانے آئے  ہیں کہ  اب وقت  بہت ہی کم ہے۔ یہ وقت گفت و شنید کے مزے لینے کا یا  ’رفتہ رفتہ ہو جائے گا‘ کی مسکن دوا لینے کا نہیں ہے۔ یہ وقت ہے جمہوریت کے وعدوں کو حقیقت کا روپ دینے کا۔ یہ وقت ہے نسل پرستی کی اندھیری اور اجاڑ وادی سے باہر نکل کر نسلی انصاف کی روشن روش اپنانے کا۔  یہ وقت ہے اپنی قوم کو نسلی نا انصافی کی دلدل سے نکال کر بھائی چارے کی ٹھوس چٹان پر کھڑا کرنے کا۔ یہ وقت ہے انصاف کو خدا کے تمام بندوں کے لیے ایک حقیقت بنادینے کا۔

ہماری قوم کے لیے اس فوری اہمیت کے لمحے کو نظر انداز کرنا موت کو گلے لگانا ہوگا۔ نیگرو لوگوں کی بالکل جائز بے اطمنانی کا  کڑی دھوپ کا موسم اس وقت تک دور نہیں ہوگا جب تک آزادی اور برابری کی فصلِ خریف اچھی نہیں ہوگی۔  انیس سو تریسٹھ اختتام نہیں شروعات ہے۔ وہ جوامید لگائے بیٹھے ہیں کہ نیگرو  زور دکھا کر بیٹھ جائیں گے اور خاموش ہو رہیں گے، اگر حالات یونہی چلتے رہے تو انہیں ایک ایسی بیداری سے واسطہ پڑے گا جو کسی کا لحاظ نہیں کرے گی۔  امریکہ میں اس وقت تک آرام و سکون نہیں ہوگا جب تک نیگرو کو اس کے شہری حقوق نہیں مل جاتے۔ بغاوت کے بگولے اس وقت تک ہماری قوم کی بنیادوں کو جھنجھوڑتے رہیں گے جب تک انصاف کا روشن دن طلوع نہیں ہوجاتا۔

البتہ ایک بات ہے جو میں اپنے لوگوں سے، جو انصاف کے محل کو جانے والی تپتی دہلیز پر کھڑے ہیں، زور دے کے کہنا چاہتا ہوں ۔ ہم اپنا جائز مقام حاصل کرنے کے عمل میں غلط کاریوں کے مرتکب ہرگز نہیں ہونگے۔  ہم اپنی آزادی کی تشنگی ہرگز بھی تلخی اور نفرت کے پیالے کو منہ لگا کر نہیں بجھائیں۔

ہم ہمیشہ اپنی جدوجہد وقار اور نظم و ضبط کے ارفع مقام سے چلاتے رہیں گے۔ ہم اپنے اس تخلیقی احتجاج کو ہرگز بھی بگڑ کر جسمانی تشدّد والا نہیں بننے دیں گے۔ ہم بار بار وقار کی عظمتوں کے ساتھ جسمانی طاقت کا روح کی طاقت سے مقابلہ کریں گے۔ یہ انیق جہاد جس نے نیگرو قوم کو آ لیا ہے ہر گز ہمیں تمام گورے لوگوں کو مشکوک نہیں بنانے دے، کہ ہمارے بہت سے گورے بھائی، اور ان کی یہاں موجودگی اس کا ثبوت ہے، اس بات کا شعور پا گئے ہیں کہ ان کی قسمت ہماری قسمت کے ساتھ بندھی ہوئی ہے۔ انہیں احساس ہوگیا ہے کہ ان کی آزادی ہماری آزادی کے ساتھ  لاینفک طور پر نتھی ہے۔ ہم اکیلے نہیں چل سکتے۔

جب ہم آگے بڑھنے لگیں گے، تواس عہد کے ساتھ کہ ہم مستقل آگے ہی بڑھتے جائیں گے۔ ہم پیچھے نہیں مڑ سکتے۔ کچھ لوگ شہری حقوق کے پرستاروں سے پوچھ رہے ہیں، ’تم کب مطمئن ہوگےَ؟‘ہم اس وقت تک ہر گز مطمئن نہیں ہونگے جب تک نیگرو پولیس تشدد کی ناقابل بیان دہشت کا شکار ہے۔ ہم اس وقت تک مطمئن نہیں ہونگے جب تک سفر سے تھکے ہارے ہمارے جسموں کو شاہراہوں پر بنی سراؤں اور موٹلوں میں اور شہروں کے ہوٹلوں میں ٹھیرنے کے لیے جگہ نہیں ملتی۔ ہم اس وقت تک مطمئن نہیں ہونگے جب تک نیگرو  کی زندگی کا سفر ایک چھوٹی کچی آبادی سے نکل کر کسی بڑی کچی آبادی تک محدود  رہے گا۔ ہم اس وقت تک مطمئن نہیں ہونگے جب تک وہ تختیاں جن پر لکھا ہوتا ہے ’صرف سفید فام لوگوں کے لیے‘ ہمارے بچّوں کی خودی  کوتار تار کر تی رہیں گی اور ان سے ان کی عزت چھینتی رہیں گی۔ ہم اس وقت تک مطمئن نہیں ہونگے جب تک مسیسیپی کا ایک نیگرو ووٹ نہیں دے سکتا اورنیو یارک کا ایک سیاہ فام یقین رکھتا ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کے لیے وہ ووٹ استعمال کرے۔ نہیں، نہیں، ہم مطمئن نہیں ہیں، اور نہ ہم اس وقت تک مطمئن ہونگےجب تک انصاف پانی کی طرح نہیں بہتا اوردیانتداری ایک چڑھے ہوئے دریا کی مانند نہیں ہوجاتی۔

میں اس بات سے ہر گز غافل نہیں ہوں کہ آپ میں سے کچھ لوگ بڑی آزمائشوں  سے گزر کر اور مصیبتیں اٹھا کر یہاں آئے ہیں۔ کچھ جیل کی تنگ کوٹھریوں سے تازہ چھٹ کر آئے ہیں۔ آپ میں سے کچھ وہ ہیں جو ایسے علاقوں سے آئے ہیں جہاں آپ کی آزادی کی کھوج پر آپ کو ایزارسانی کے طوفانوں نے مار کے رکھدیا اور پولیس تشدد کے تلاطم نے آپ کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ اب آپ مشقتِ تعمیری کے آزمودہ کار ہیں۔ جاری رکھیے اپنا کام اس یقین کے ساتھ کہ بِنا مانگے کی یہ اذیت دور ہونے والی  ہے۔

مسیسیپی کو لوٹ جاؤ، الاباما واپس جاؤ، جنوبی کیرولائنا واپس جاؤ، واپس جاؤجارجیا ، لوٹ جائو لوزیانا  کو، ہمارے شمالی شہروں میں اپنی کچی آبادیوں کو اور جھگی پاڑوں کو واپس جاؤ، یہ جانتے ہوئے کہ کسی نہ کسی طرح یہ حالت بدل سکتی ہے ،اور بدلے گی۔  ہمیں مایوسی کی وادیوں میں دھکے نہیں کھاتے رہنا ہے۔

آج میرے دوستو، میں تم سے کہتا ہوں، اگرچہ ہم آج اور آنے والے کل کی مصیبتوں کا سامنا کر رہے ہیں، پر میں اب بھی ایک خواب دیکھتا ہوں۔ یہ ایسا خواب ہے جس کی جڑیں امریکی خواب میں بڑی گہری اتری ہوئی ہیں۔

میرا خواب ہے کہ ایک دن یہ قوم اٹھ کھڑی ہوگی اور اپنے مسلک پر پوری اترے گی؛ ’ہمارے نزدیک یہ سچائیاں اظہر من الشمس ہیں: کہ تمام انسان برابر پیدا کیے گئے ہیں۔‘

میرا خواب ہے کہ ایک دن جارجیا کی سرخ پہاڑیوں پر سابق غلاموں کے بیٹے اور سابق غلاموں کے مالکوں کے بیٹے بھائی چارے کی میز پراکھٹے بیٹھ سکیں گے۔

میرا خواب ہے کہ ایک دن مسیسیپی کی ریاست، وہ ریاست جہاں ناانصافی کی آگ بھڑک رہی ہے، وہ  ریاست جہاں ظلم کی آگ بھڑک رہی ہے، وہ تک آزادی اور انصاف کے ایک نخلستان میں بدل جائے گی۔

میرا خواب ہے کہ میرے چار بچے جو ابھی چھوٹے ہیں ایک دن ایک ایسے دیس میں ہوں گے جہاں وہ اپنی جلد کی رنگت سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے پہچانے جائیں گے۔

آج یہ میرا خواب ہے۔

میرا خواب ہے کہ ایک دن، الاباما، اپنے تمام خبیث نسل پرستوں کے ساتھ، اپنے گورنر کے ساتھ جس کے لبوں سے ہر وقت ’دخل اندازی‘ اور ’تنسیخ ‘کے الفاظ  ٹپکتے رہتے ہیں۔ ایک دن بالکل اسی الاباما میں، چھوٹے چھوٹے کالے لڑکے اور کالی لڑکیاں اور چھوٹے چھوٹے سفید لڑکے اور سفید لڑکیاں ایک دوسرے کا ہاتھ بہنوں اور بھائیوں کی طرح تھام سکیں گے۔

آج  یہ میرا   خواب ہے۔

میرا یہ خواب ہے ہر وادی سرفراز ہوگی، ہر پہاڑ اور ہر کوہ  کو جھکا دیا جائے گا، تمام ناہموار جگہیں ہموار کر دی جائیں گی، اور کج جگہیں سیدھی کر دی جائیں گی، اور خدا کی شوکت ظاہر ہوگی، اور تمام ذی روح اسے ضرور اکھٹے دیکھیں گے۔

یہی ہماری امید ہے۔ یہی وہ  یقین ہے  جس کے ساتھ میں واپس جنوب پہنچوں گا۔ اسی  یقین کے ساتھ  کہ ہم ناامیدی کے پہاڑ کو چورا چور کر کے سنگِ امید حاصل کر سکیں گے۔ اسی  یقین کے ساتھ ہم نااتفاقی کے شور کو ایک خوبصورت بھائی چارگی  اور ہم  آہنگی میں بدل دیں گے۔ اسی یقین کے ساتھ ہم اکھٹے  ہو کر کام کرسکیں گے، ایک ساتھ عبادت کر سکیں گے، ایک ساتھ جدو جہد کر سکیں گے، ایک ساتھ جیل جا سکیں گے، آزادی کے لیے ایک ساتھ کھڑے ہو سکیں گے، یہ جانتے ہوئے کہ ہم ایک دن آزاد ہوں گے۔

یہ وہ دن ہوگا جب خدا کے تمام بندے ایک نئے معنی کے ساتھ گا سکیں گے، ’اے میرے وطن، یہ تُو ہے، آزادی والی پیاری زمین، میں تیرے ہی لیے نغمہ سرا ہوں۔ زمین جہاں میرے پُرکھوں نے موت کو گلے لگایا، زائرین کا فخر زمین۔ تمام پہاڑی ڈھلوانوں سے گونجنے دو آزادی کو ۔‘

اور اگر امریکہ کو ایک عظیم قوم بننا ہے تو اس سچ کو ضرور پورا ہونا چاہیے۔ گونجنے دو آزادی کونیو ہمپشائر کی شاندار پہاڑی

چوٹیوں سے۔ گونجنے دو آزادی کو نیویارک کے زبردست پہاڑوں سے۔ گونجنے دوآزادی کو پنسلوینیا میں الگھنیز کی بلندیوں سے!

گونجنے دوآزادی کو کولوراڈو کے راکیز سے!

گونجنے دوآزادی کوکیلیفونیا کی مدور ڈھلوانوں سے!

صرف یہی نہیں؛ گونجنے دو آزادی کو جارجیا کے جبلِ اسٹون سے!

گونجنے دوآزادی کو ٹینیسی کے جبلِ لُک آوٹ سے!

گونجنے دوآزادی کو مسیسیپی کی ہر چھوٹی بڑی پہاڑی سے۔  ہر پہاڑی ڈھلوان سے، گونجنے دو آزادی کو!

اور جب ایسا ہوجائے گا، جب ہم آزادی کو گونجنے دیں گے، جب ہم اسے ہرگاؤں ہر گوٹھ سے گونجنے دیں گے، ہر ریاست اور ہر شہرسے تو ہم اُس دن کو پَر لگادیں گے جس دن خدا کے تمام بندے، کالے آدمی اور گورے آدمی، یہودی اور غیرمذہب، پروٹسٹنٹ اور کیتھولک، سب ہاتھ میں ہاتھ ڈال سکیں گے اورگا سکیں گے قدیم نیگرو مقدس گیت، ’بلآخر آزاد ہیں ہم، بلآخر آزاد ہیں ہم! لاکھ شکراے ذوالجلال، بالآخر آزاد ہیں ہم۔

Avatar photo

Yemeen Zuberi

Yemeen ul Islam Zuberi is an ex-journalist from Pakistan. He writes in Urdu and rarely in English. Besides essays, he also writes poetry. In Pakistan, he worked for different newspapers for 20 years. Now lives in the US.

yemeen has 22 posts and counting.See all posts by yemeen

Leave a Reply

Your email address will not be published.