عوامی تحریکوں کی حرکیات

تحریر: ایمل خٹک 
عوامی تحریکوں کی ظہور اور ارتقا کی اپنی حرکیات ھوتی ہے اور مختلف مراحل سے گزر کر پختگی حاصل کرتی ہے۔  عوامی تحریکیں عموما سماجی بے انصافی ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ریاستی جبر کے نتیجے میں ابھرتی ھیں اور مخصوص سیاسی ، سماجی ، اقتصادی اور ثقافتی حالات میں پنپتی ھیں۔ اس وجہ سے پاکستان جیسے معاشروں میں عوامی تحریکوں کے مطالعے کیلئے اس کے دو پہلو کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے ایک اس کا پولیٹیکل اور دوسرا سوشیو-کلچرل پہلو ۔ مثال کے طور پر اگر پشتون تحفظ مومینٹ کی اندرونی مسائل کا جاھیزہ لینا ھو تو مخصوص سیاسی تناظر کے علاوہ پشتونوں کی عمومی رویوں اور نفسیات کو بھی دیکھنا اور سمجھنا ھوگا۔
عوامی تحریکیں مخصوص مطالبات کو لیکر چلتی ہے اور عوام کو اس کے اردگرد موبلائیز اور منظم کرتی ہے ۔ جتنی زیادہ شدومد اور مستقل مزاجی سے یہ مطالبات آٹھائے جاتے ھیں تحریک اتنی زیادہ فعال اور متحرک رہتی ہے ۔ ھر عوامی تحریک نہ صرف نئے مطالبات اور نعرے بلکہ نئی قیادت کو بھی سامنے لاتی ہے ۔ تحریکیں عموما چند افراد مل کر شروع کرتے ھیں مگر مشترکہ مسائل اور مطالبات کی بناء پر مختلف الخیال افراد تحریک میں شامل ھوتے جاتے ھیں اور کاروان بڑھتا جاتا ہے ۔  تحریکوں کا پھیلاو اگر ایک طرف نئے امکانات پیدا کرتی ہے یعنی آپرچیونٹی ہے تو دوسری طرف کئی چیلنجز  بھی لاتی ہے۔
جب مختلف مزاجوں ، خیالات اور سماجی پس منظر کے لوگ آپس میں ملتے ھیں تو ابتدا میں اختلاف رائے اور جھگڑے زیادہ ھوتے ھیں۔ جوش و خروش زیادہ ھوتا ہے ۔ تحریک کے مقاصد تو واضع مگر اس کے حصول کے زرائع اور طریقہ کار واضع نہیں ھوتا ۔ جتنے دماغ اتنی سوچیں اور جتنے افراد اتنی آئیڈیاز ھوتی ہے ۔ جس سے تنازعات کا پیدا ھونا ایک قدرتی بات ہے ۔ یہ تنازعات طریقہ کار ، مقصد اور ترجیحات کے حوالے سے ھوتا ہے ۔ کونسا مطالبہ اھم ہے اور اس کے حصول کیلئے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے اور جہدوجہد کیلئے کونسا راستہ بہتر اور موزوں ہے اس حوالے سے آپس میں اختلافات ھوتے ھیں ۔
مگر جیسے جیسے مشترکہ جہدوجہد بڑھتی ہے اور ذمہ داران کے درمیان تنظیمی رابطے اور ملنا جلنا بڑھتا ہے تو آھستہ آھستہ ایک دوسرے کو سمجھا اور سنا جانے لگ جاتا ہے افہام و تفہیم بڑھنا شروع ھوجاتی ہے اور داخلی مباحث اور مشاورت کا عمل بڑھ جاتا ہے تو حالات بہتر ھونا شروع ھوجاتے ھیں ۔ بڑے مقصد کی خاطر چھوٹے چھوٹے مفادات قربان اور ایک دوسرے کو برداشت اور ساتھ چلنے کا جذبہ بڑھتا ہے ۔ عوامی تحریکوں میں اختلافات ایک قدرتی عمل ہے۔ مگر اھم بات یہ ہے کہ تحریکیں اپنی داخلی اختلافات اور تنازعات کو حل کرنے کیلئے کیا طریقہ کار وضع اور روکنے کیلئے کیا دانشمندانہ اقدامات کرتی ہے ۔
تحریکیں اپنے کام کو منظم اور تنازعات سے بچنے کیلئے تنظیمی اصول اور ضابطے بناتی ھیں۔ کام کو منظم اور بہتر بنانے کیلئے بنیادی اغراض اور مقاصد اور ذمہ داریوں اور اختیارات کا تعین ضروری ھوتا ہے۔ اکثر نئے شامل ھونے والے کارکردگی بہتر بنانے اور خصوصا تنظیم میں اپنی لئے جگہ بنانے کیلئے کچھ اصول اور ضابطے بنانے پر زور دیتے ھیں جبکہ بعض پرانے ارکان تنظیم کے پھلنے پھولنے اور تنظیم سازی یا ادارہ سازی میں کچھ زیادہ دلچسپی کا اظہار نہیں کرتے ۔ کیونکہ تنظیم سازی کا مطلب فیصلہ سازی اور مشاورت کا دائرہ وسیع کرنے میں نکلتا ہے اور نئے لوگو ں کو بھی آگے آنے اور کھپانے کا موقع دینا ھوتا ہے ۔
سیاسی جماعتوں اور عوامی تحریکوں میں بنیادی فرق ہے۔ سیاسی جماعتیں زیادہ فارمل یعنی ادارے اور تنظیمی ڈھانچہ رکھتی ہے جبکہ عوامی تحریکیں ڈھیلی ڈھالی تنظیمی ڈھانچہ رکھتی ہے ۔
اگرچہ سیاسی جماعتوں کی نسبت عوامی تحریکوں کی زندگی کا دورانیہ مختصر ھوتا ہے مگر عوامی تحریکیں سیاسی جماعتوں کی نسبت زیادہ متحرک اور پرجوش ھوتی ھیں کیونکہ عوامی تحریکوں کے قائدین اپنے مسائل خود لیکر حل کرنے کی کوشش کرتے ھیں جبکہ سیاسی قائدین عوام یا بعض اوقات اپنے حلقہ نیابت کے عوام کی نمائندگی کرتے ھوئے ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ھیں ۔ اس طرح وسائل کے لحاظ سے بھی سیاسی جماعتوں کے پاس عوامی تحریکوں کی نسبت وسائل زیادہ ھوتے ھیں ۔
 اب کسی پشتون تنظیم کا مطالعہ کرنا ھو تو پشتونوں کی عمومی نفسیات اور معاشرتی رویوں کو بھی مدنظر رکھنا ھوگا ۔ پشتونوں کی تربورولی ، قبائلی تعصبات اور غیرلچکدار طرزعمل یعنی رویوں میں لچک کا فقدان وغیرہ کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ بدقسمتی سے ھمارے اختلافات سیاسی یا نظریاتی کم جبکہ تربورولی اور قبائلی تعصبات کی وجہ سے زیادہ ھوتے ھیں ۔  اسطرح علاقائی ، گروہی اور قبائلی رقابتوں کا سلسلہ بھی چلتا رہتا ہے۔  پشتنوں کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ تربورولی ، قبائلی تعصبات اور انتہاپسندانہ طرزعمل بھی ہے ۔ پشتون نفسیات کو قبائلی اثرات سے آزاد اور میانہ روی ، رواداری اور جمہوری رویوں کو اپنانا ھوگا ۔
جہاں تک پی ٹی ایم کا تعلق ہے تو اس کے بڑھتے ھوئے اندرونی مسائل کی ایک وجہ مختصر عرصے میں تنظیمی پھیلاو اور قائدین پر کام کا بوجھ بھی ہے ۔قائدین کی ذمہ داریاں اور کام اچانک بڑھ گیا ہے اور مسلسل جہدوجہد اور مزاحمت کے عمل میں سرگرداں ھیں ۔
ریاستی جبر کی وجہ سے بھی زیادہ توانائی اور توجہ احتجاجی عمل میں صرف ھورہا ہے جبکہ تنظیم اور صفوں کو درست کرنے کی طرف کم توجہ دی جاتی ہے ۔  ایک مسلہ حل نہیں ھوتا کہ دوسرا آن پڑتا ہے ۔ تنظیم سازی اور ادارہ سازی کو جتنی توجہ کی ضرورت ہے وہ نہیں دی جاتی ۔
اندرونی مسائل اور بعض لابیوں کے آپس کے اختلافات سے کارکنوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے ۔ اور منظور پشتین پر اصلاح احوال کیلئے کارکنوں کا دباو بڑھ گیا ہے ۔ منظور پشتین  کے کارکنوں کے نام حالیہ پیغامات سے اگر ایک طرف اندرونی مسائل اور ساتھیوں کے بعض رویوں کی وجہ سے ان کی ناراضگی کا اظہار ھوتا ہے اور حتی کہ مایوسی جھلکتی ہے تو دوسری طرف معاملات کو درست سمت میں ڈالنے کیلئے اس کی عزم اور حوصلے کا اظہار بھی ہے ۔ سخت فیصلے اور اقدامات کا عندیا بھی دیا جارہا ہے ۔ اور غلط فہمیاں پیدا کرنے والے  عناصر  پر تنقید کے ساتھ ساتھ ان کو سخت الفاظ میں وارننگ بھی ہے ۔
ایک طرف عوامی جوش و خروش اور ثابت قدم جہدوجہد اور دوسری طرف مختلف قسم کے اختلافات اور تنازعات کا جنم لینا ابتدا میں مایوسی اور فرسٹریشن کا باعث بنتا ہے۔ بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ تحریک ان اختلافات کا شکار ھوکر بیٹھ جائیگی ۔مگر کامیاب تحریکیں اندرونی اختلافات اور تنازعات سے گھبراتی یا اسے نظرانداز نہیں کرتی بلکہ ان کا سامنا اور اسے حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ تنظیمی مسائل کو جذباتی یا جلدبازی میں حل کرنے کی بجائے حوصلے ، حکمت اور دانش سے دیکھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ تحریک کو جمہوری انداز میں چلانے اور مشاورت کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے اور تمام ساتھیوں کو ساتھ لیکر چلنے کی ضرورت ہے۔
کوئی بھی تحریک اصول اور قاعدے کے بغیر نہیں چل سکتی ۔ جب  تحریکیں تنظیم سازی اور کام کو منظم اور مربوط بنانے کیلئے اصول اور تنظیمی ضابطے  بنانے کی طرف جاتی ہے اتنی زیادہ اس کی فعالیت اور کارکردگی بڑھتی ہے ۔ نیا خون شامل ھونے سے تحریک کو زیادہ توانائی اور وسعت ملتی ہے ۔ مگر ڈھیلا ڈھالہ ہی سہی مناسب تنظیمی ڈھانچے سے بہتری اور تنازعات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے ۔  اندرونی مباحث اور واضع ذمہ داریوں کے تعین سے نہ صرف اختلافات اور تنازعات کی روک تھام میں مدد ملتی ہے بلکہ ان کو بروقت اور مناسب طریقے سے حل کرنے کی کوشش بھی ھوتی ہے ۔

Aimal Khattak

The author is a political commentator mainly covering socio-political and peace issues. He frequently comments on regional issues, especially Afghanistan. Aimal Khattak can be contacted at: aimalk@yahoo.com

aimal has 89 posts and counting.See all posts by aimal

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *