مارشل لاء کی بازگشت: کیا بلی تھیلی سے باھر آنا چاہتی ہے

ایمل خٹک
اسلام آباد سے شائع ھونے ایک اخبار میں ھفتے کے روز شائع ھونے والی خبر میں ملک میں جولائی تک براہ راست مارشل لاء لگنے کی نوید دی گی ہے۔ خبر کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف پہلے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ھونگے اور مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد فوجی اقتدار اپنے بعد آنے والے جنرل زبیر محمود حیات کے حوالے کرکے چلے جائیں گے۔
ملک میں مارشل لاء اور مارشل لاء پلس کی باتیں نئی نہیں۔ گزشتہ دو سالوں میں “وقتا فوقتا” افواہوں کی شکل میں یہ باتیں زیب داستان بنتی رہی ھیں۔
 
اب دیکھنا یہ ھوگا کہ آیا یہ خبر واقعی مستند ھے یا اخبار نے سنسنی پھیلانے کیلئے چھاپی ہے۔ ایسے موضوعات اور اتنی صراحت اور اعتماد کے ساتھ ایسی خبریں چھپ جانے کا مطلب یا تو باوثوق زرائع تک رسائی ھوتی ہے یا مفادی حلقوں کی جانب سے قصدا پھیلائی گی یعنی پلانٹیڈ ھوتی ہے۔  اس خبر کے بعد ایک غیر معروف تنظیم کی جانب سے مختلف شہروں میں یکایک جنرل راحیل شریف کو اقتدار سنبھالنے کی دعوت پر مبنی “خدا کیلئے اب آجاؤ ” کے پوسٹرز بھی نمودار ھونا شروع ھوگئے۔ لیکن طریقہ واردات سے تو اس میں فرشتوں کا ھاتھ لگتا ہے
 
خبر میں مارشل لاء کا جواز یہ بتایا گیا ہے کہ حکومت عملا” مفلوج ہے ملک کو معاشی، اقتصادی اور خارجہ امور پر چیلنجز درپیش ہیں جن پر قابو پانا حکومت کے بس میں نہیں۔ ملک میں دھشت گردی کے خلاف فوج کی ملک بھر میں آپریشن جاری ہے اور اگر ان سب کو ادھورا چھوڑا گیا تو فوج کی ساکھ بری طرح متاثر ہوگی اور قوم اسے کسی طور بھی معاف نہیں کرے گی۔ اسلئے مارشل لاء لگانا ناگزیر ھوگیا ہے۔
خبر کے مطابق پاکستان میں مارشل کے ممکنہ نفاذ کے سلسلے میں شرائط و ضوابط اور طریقہ کار طے کرنے کے لئے سابق صدارتی امیدوار ریپبلکن سینیٹر جان میکین اور ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراھم کا دورہ پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف جرنل راحیل شریف سےملاقات اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ مذید براں یہ کہ فوج مارشل لاء کیلئے بیرونی حمایت کے حصول کیلئے بین الاقوامی برادری سے سودا بازی کیئے تیار ہے ۔
رپورٹ کے مطابق یہ واضع نہیں کہ مارشل لاء کا قیام کتنے عرصے کیلیے ھوگا ۔ دہشت گردی، خارجہ ایشوز اور کرپشن سے قوم کو نجات دلا کر ہی فوج چین سے بیٹھے گی لہذا مدت کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔
اس بات سے قطع نظر کہ آئندہ چند روز میں ملک میں مارشل لاء کی لگنے کی خبر کتنی مستند ھے ۔ لیکن مجھ سمیت کئ لوگ یہ سمجھتے ھیں کہ ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کی موجودگی میں فوج جمہوری حکومت کو فارغ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ ہاں پاکستان دشمن قوتوں کی یہ سوچ یا سازش ھوسکتی ہے کہ فوج کو سیاسی معاملات میں ملوث کرکے اسے کمزور کیا جائے اور عوام میں فوج کیئے جو خیرسگالی کے جذبات موجود ہے اس کو کمزور کیا جائے۔
CnF68tzXEAUyGd1
جمہوری حکومتوں میں لاکھ قباحتیں اور کمزوریاں سہی مگر کئ حوالوں سے جمہوریت آمریت سے بہتر ھوتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ سے کوئی نابلد فرد یا ادارہ اس مہم جوئی کا سوچ سکتی ہے کیونکہ پاکستان میں جمہوریت کی نسبت فوجی آمریتوں کی تاریخ کبھی بھی روشن اور مثالی نہیں رہی ۔ بلکہ کئی حوالوں اور طویل المدت اثرات کے لحاظ سے فوجی آمریتں جمہوری حکومتوں کی نسبت زیادہ نقصاندہ اور تباہ کن رہی ہے۔
فوجی آمر جن شعبوں میں اصلاح احوال کیلئے آئیگا انہی وجوہات کا ھر ڈکٹیٹر نے اقتدار پر شب خون مارتے ھوئے سہارا لیا۔  بدقسمتی سے پاکستان کی سیاسی تاریخ ان شعبوں میں فوجی آمروں کی کارکردگی کے بارے میں متضاد اور افسوسناک واقعات سے بھری پڑی ہے۔ جس گند کو صاف کرنے کیئے آمروں نے مداخلتیں کی ان کے جانے کے بعد اس میں کمی کی بجائے اضافہ ھوا ہے۔ اور ھر ماشل لاء کے بعد فوج کی عوامی حمایت اور مقبولیت میں خاطر خواہ کمی واقع ھوئی ہے۔ اور عوام سے براہ راست تعلق میں آنے کی وجہ سے قومی ادارے میں مختلف قسم کی قباحتیں پھیل جاتی ہے۔
جنرل محمد ضیاء الحق کے دور میں انتہاپسندی اور دھشت گردی کو پروان چڑھایا گیا ۔ مدرسوں اور جہادی مراکز کا جال بچھادیاگیا۔ منشیات کی اسمگلنگ تک میں جنرلوں کے نام لئے جانے لگے اور کرپشن عام ھوئی ۔ ضیاء الحق کے دور میں ڈیفنس اور اس قسم کی دیگر پوش ھاوسنگ اسکیموں میں تیزی سے اضافہ ھونے لگا اور پراپرٹی کاروبار میں ریٹائرڈ اور حاضر سروس افسران کی اربوں نہیں کھربوں روپے کی سرمایہ کاری ہے۔ اس وقت کی اقتدار کی راھداریوں میں ھونے والی سرگوشیوں کے مطابق ضیاء حکومت کے خاتمے کے بعد ایک اھم جنرل  کے بیٹے دوسرے جنرل کے بیٹوں کا مذاق اڑانے لگے کہ ان کے پاس سینکڑوں ملین ڈالرز کے اثاثے ھیں جو کہ ان کی دولت کے مقابلے میں کچھ نہیں۔  جنرل مشرف کے دور میں ملک میں دھشت گردی اتنی پھیلی کہ فوجی افسران کا وردی میں اور سرکاری گاڑیوں میں نکلنا بند ھوگیا تھا اور مشہور فوجی کٹ بھی چھوڑ دیا گیا ۔ جی ایچ کیو سمیت کوئی بھی اھم فوجی سرکاری دفتر دھشت گردوں کے حملوں سے محفوظ نہیں رہا۔ کرپشن کے بارے میں خود جنرل پرویز مشرف کے بیرون ملک اکاؤنٹس اور اثاثے گواہ ھیں۔ جنرل کیانی کے دور میں اور تو اوراسکے رشتہ داروں کے کرپشن کے قیصےعام ھوئے۔ اور اس کی بیرون ملک اکاؤنٹس کے بارے میں انکشافات ابھی تازہ ھیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جاہے تو ملک کو فوجی آمروں کے دور میں ناقابل تلافی سماجی، سیاسی اور اقتصادی نقصانات اٹھانا پڑے ھیں۔
غیر جمہوری حکومتوں نے اپنی اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے اندرون ملک اور بیرون ملک قوتوں کے ساتھ سودا بازی میں اقتدار اعلی تک کو گروی رکھنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ جنرل یحیی خان کے دور میں ملک دولخت ھوا اور ملک کے ٹوٹنے میں اندرونی عوامل کا کردار بہت اھم تھا ۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں قومی وقار اور عزت نفس کا یہ حال تھا کہ قیادت ایک ٹیلیفون کے سامنے ڈھیر ھوگئ۔ گیارہ ستمبر کے بعد جس طریقے سے آمر حکمرانوں نے بلا چون و چرا امریکی شرائط مان لی خود امریکی حکام بھی ھماری فرمانبرداری کی انتہا کو دیکھ کر ششدر رہ گئے تھے اور وہ بے یقینی کی حالت میں ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ کیا واقعی پاکستان نے یہ شرائط مان لئے۔  جنرل ایوب خان نے امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے پاکستان کی سرزمین پر سوویت یونین کے خلاف پشاور اور چین کے خلاف ڈھاکہ میں فوجی اڈے دیے۔ پشاور سے آڑنے والے امریکی جہاز سوویت یونین کی جاسوسی اور ڈھاکہ میں اڈہ چین کی مخالفین کی تربیت اور انھیں جہاز کے زریعے وہاں اتارنے اور ان کو فوجی امداد پہنچانے کیلئے استعمال ھوتے تھے۔  جنرل ضیاء مرحوم نے پورے ملک کو جہادی مراکز میں تبدیل کردیا۔ جنرل مشرف نے بھی امریکہ کو ڈرون حملوں کیلے فوجی اڈےدیئے اور سینکڑوں امریکی جاسوسوں اور خصوصی دستوں کو پاکستان میں آپریشنز کی اجازت دی۔ اور افغانستان پر حملے اور وہاں غیر ملکی افواج کی رسد کیلئے زمینی اور فضائی راستے بھی دئیے۔
ھر فوجی حکومت کے دوران سیاسی اور جمہوری ادارے کمزور اور جمہوری کلچر آلودہ ھوا ہے۔  ھر فوجی آمر کی متعارف کردہ سرپرستی اور مراعات پر مبنی قسماقسم سیاسی تجربات نے سسٹم کو کمزور اور کھو کھلا  کردیا ھے۔
اگر مارشل لاء کی خبر درست ھو تو مداخلت سے پہلے ھماری فوجی قیادت تھوڑی سی خود احتسابی کریں اور یہ دیکھنے کی کوشش کریں کہ جس نظام کی خرابی کا وہ رونا رو رہے ھیں اور اس کو درست کرنے آرہے ھیں اس کو خراب اور آلودہ کرنے میں خود فوج کا کتنا کردار ہے۔ اور یہ ضمانت کون دئیگا کہ فوجی مداخلت سے واقعی اصلاح احوال ھوگئ اور معاملات مذید نہیں بگڑینگے۔ کیونکہ ھر آمر نے حالات درست کرنے اور گیند صاف کرنے کے بہانے اقتدار پر قبضہ تو کیا ہے مگر گند نہ صرف جوں کا توں رہا بلکہ اس میں اضافہ کیا۔
اب قوم پر رحم کرنے کا وقت آگیا ہے کیونکہ قوم مذید مہم جوئی اور تجربات کی متحمل نہیں ھو سکتی۔ سسٹم کو درست کرنے کا یہ آزمودہ اور روایتی طریقہ ماضی میں نہ صرف بار بار ناکام ھوچکا ہے بلکہ سسٹم میں افراتفری اور کمزوری کا باعث بنا ہے۔

Aimal Khattak

The author is a political commentator mainly covering socio-political and peace issues. He frequently comments on regional issues, especially Afghanistan. Aimal Khattak can be contacted at: aimalk@yahoo.com

aimal has 89 posts and counting.See all posts by aimal

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *