اس بارش میں بھی ہم باراں دیدہ نہ ہو پائے

تحریر: یمین الاسلا  زبیری

موسلا دھار بارش نے کراچی اور پاکستان کے کئی شہروں کو کچل کر رکھ دیا۔ کیا اب بھی رئیس بلدیہ کی اہمیت سمجھ میں نہیں آئے گی؟

 اگست 2020 کی بارشوں کے سلسلے میں ہمارے کرتا دھرتاوں کی مدد کے لیے اعداد و شمار ہاتھ باندھے کھڑے ہیں، کہتے ہیں کہ ان بارشوں نے تمام پچھلے رکارڈ توڑ کر بے بس کر دیا ہے۔ فیصل بیس، کراچی، میں 224 ملی میٹر بارش رکارڈ کی گئی جس نے 1967 کا 211 ملی میٹر کا ریکارڈ توڑ ڈالا۔ سڑسٹھ سے نہیں ہمیشہ ہی سے بارش ہمارے شہروں کے لیے زحمتیں لے کر آتی رہی ہے۔ دیہات کو بھی کم نقصان نہیں پہنچتا، جب پشتے ٹوٹتے ہیں اور سیلاب آتا ہے۔ اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ موسم تبدیل ہو رہا ہے، جس کے ہم عادی نہیں تھے وہ ہو رہا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ کئی سال سے ہو رہا ہے اور کہا جارہا ہے، اور اب تو بچہ بچہ اس بات کا ادراک رکھتا ہے کہ موسم میں تبدیلی کیا کیا گل کھلا سکتی ہے، اور کھلا رہی ہے۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے، ہمارے ذرائع ابلاغ، بی بی سی، وی او اے سب ہی سے ہمارے کسانوں نے موسم کے حوالے سے اپنی مشکلات بیان کی تھیں۔ میں یہاں اس میں زیادہ نہیں جاوں گا۔ کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اس سلسلے میں ہم سب باشعور ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب جانتے ہیں تو کچھ کرتے کیوں نہیں؟ ایک وجہ غالباً یہ ہے کہ ہمارے کرتا دھرتا، جو ہمارے ہی ووٹ سے حکومت بناتے ہیں خود کو حکمران سمجھتے ہیں اور کہتے بھی ہیں؛ اور اپنے آپ کو نہ ضمہ داران کہتے نہ سمجھتے ہیں۔

یوں تو پورے پاکستان کے تقریباً تمام ہی بڑے شہروں میں بارش تباہی لے کر آئی ہے، لیکن کراچی کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ یہ پاکستان کا سب سے دولتمند شہر ہے، میں اعداد و شمار میں نہیں جائوں گا، کیا فائدہ، اور سب کو معلوم ہے۔ مقصد اس بیان کا صرف اتنا ہے کہ جب سب سے زیادہ دولتمند اپنے کو نہیں سنبھال سکتا تو دوسروں کا کیا ذکر۔

کراچی کی آبادی ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ پچاس لاکھ ہے۔ یہ آبادی روز بہ روز بڑھتی ہی جاتی ہے۔ اس آبادی کے بڑھنے کی ایک ہی وجہ ہے، وہ یہ کہ پاکستان اپنے دوسرے شہروں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ کراچی سب کو گلے لگاتا ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ کراچی ایک غریب پرور شہر ہے، عام طور پر یہاں کا موسم بھی ایسا رہتا ہے کہ اگر کسی کے پاس گھر نہیں ہے تو سردی ہو یا گرمی وہ سڑک کے کنارے ہی چادر تان کر سو سکتا ہے۔ یہ بھی المیہ ہے کہ پچھلے تیس برسوں میں قرضے تو بہت لیے گئے  لیکن کراچی کی کچی آبادیوں میں انہی برسوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ تمام شہر ترقی کیوں نہیں کر رہے، غربت کیوں دور نہیں ہورہی، بعض لوگوں پر اربوں کھربوں کی بد عنوانی اور بے ایمانی کے مقدمے ہیں، اور جو سڑک پر سو رہا ہے تو اس کا کوئی مقدمہ نہیں، کہ کہاں سے اور کیونکر لٹ پٹ کر آیا ہے۔ دماغ کی چولیں ہلنے لگتی ہیں جب ہم یہ سوچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ پھر اپنے آپ ہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ بنگلہ دیش جو ہماری غلامی میں تھا وہ اب کیسے ترقی کر رہا ہے؟ کیوں اس کا ٹکا ہمارے روپے سے آگے نکلا جا رہا ہے؟

کراچی ایک عظیم الجثہ شہر ہے۔ اس قسم کے شہروں کی انتظیہ ساری دنیا میں دوسرے شہروں سے مختلف تو ہوتی ہی ہے لیکن ساتھ ہی وہ اہم بھی ہوتی ہے۔ اس لیے اس کے میئر بھی اہم ہوتے ہیں۔ شہری انتظامیہ کا تجربہ بہت اہم ہوتا ہے مثالیں موجود ہیں کہ کئی شہروں کے میئر اپنی مدت پوری کر کے اپنے ملک کی انتظامیہ کے سربراہ بنے اور اپنے شہر کے تجرہے کی بنیاد پر بہت کامیاب بھی رہے۔ ہم امریکہ سے بہت متاثر رہتے ہیں۔ امریکہ کے تین صدور ایسے گزرے ہیں جو اپنے شہروں کے میئر ہوتے تھے۔ سٹیفن گروور کلیولینڈ، 1881 میں بفیلو کے میئر تھے، 1885 سے1897 تک دو بار صدر رہے۔ اینڈریو جانسن گرینول، ٹینیسی، کے میئر رہے، اور 1865 تا 1869 امریکہ کے صدر رہے۔ صدر کیلون کولج 1923، نارتھمپٹن، میساچوسٹ، کے 1910 سے 1911 تک میئر رہے۔ ایک مثال احمدی نجاد کی بھی ہے، پہلے تہران کے میئر تھے پھر ایران کے صدر۔ ڈھونڈیں تو اور بہت سی مثالیں بھی مل جائیں گی۔

ہمارے ہاں لیڈر، رہنما اور سیاسی اکابرین آسمان سے آجاتے ہیں۔ چونکہ ان کا تعلق کسی سیاسی خاندان سے ہوتا ہے اس لیے وہ سیاستدان ہوتے ہیں۔ ان کو عوامی مسائل کے حل کا کوئی تجربہ نہیں ہوتا۔ یہ باتیں بنانے میں مہارت حاصل کرلیتے ہیں۔ اگر ہمارے عوام بلدیاتی عہدوں سے اٹھنے والے افراد میں سے اچھے دیکھ کر حوصلہ افزائی کریں تو ہمارے تمام ہی مسائل حل ہونا شروع ہوجائیں گے۔ اس سلسلے میں ایک الگ مسئلہ یہ بھی ہے کہ اردو میں الیکٹڈ اور سلیکٹڈ کے لیے ایک ہی لفظ ’چننا‘ کافی ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ ہم منتخب اور چنے ہوئے کے لیے الگ الگ معنی تجویز کریں۔ چنے کی بہترین تعریف تو نور جہاں کے گائے ہوئے گانے میں ہی ہے (فلم شبنم، 1965) چن لیا میں نے تمہیں سارا جہاں رہنے دیا۔ خیر یہ تو ہماری سیاست کا المیہ ہے۔

رئیسِ بلدیہ کا عہدہ اپنے تمام اختیارات کے ساتھ بحال کیا جائے

کراچی کے رئیس بلدیہ کے عہدے پر سن 1947 سے 1962 تک سنجیدہ اور اہم شخصیتوں کے نام ملتے ہیں جیسے جی اے الانا، اللہ بخش گبول اور محمود ہارون۔ 1962 کے بعد، دور ایوبی میں، میئر کے عہدے کو فضول سمجھا گیا کراچی یتیم رہا۔ اس کے بعد سن 1979 میں پھر خیال کیا گیا کہ میئر تو ہونا چاہیے۔ اور 1992 تک دو حضرات میئر رہے، یہ تھے عبدال ستار افغانی اور فاروق ستار۔ اس کے بعد پھر سوچا گیا کہ میئر چونکہ ایک منتخب نمائندہ ہے اس لیے یہ ذمہ دار ہے اور جوابدہ بھی ہے، یہ کسی اور کو کام ہی نہیں کرنے دے گا (غلط کام)، یا اس کی جواب دہی ہوگی۔ تو میئر کا عہدہ ختم کرکے ایڈمنسٹریٹر لگا دیے گئے۔ یہ کس کے دور میں ہوا میں نہیں کہوں گا، یہ کس کے ایما پر ہوا یہ قارئین کے سمجھنے کے لیے چھوڑدیا ہے۔ پھر 2001 سے 2005 تک دو میئر حضرات آتے ہیں، جو کراچی کے لیے خاصہ اہم کام کر کے جاتے ہیں، یہ ہیں نعمت اللہ خاں اور سید کمال مصطفی۔ اب ایک بار پھر میئر کانٹا بن کے چبھنے لگتا ہے۔ اور اگر اسے کوئی کراچی کے ساتھ کھلواڑ کہے گا تو میں اسے ایسا کرنے سے روکوں گا نہیں، اب کمشنری سسٹم لگایا گیا جو 2016 تلک چلتا رہا۔ پھر خیال آیا کہ لائو میئر کا کھیل کھیلیں، اور وسیم اختر کو ایسا میئر بنایا کہ وہ جاتے وقت کہہ سکیں کہ میرے پاس اختیارات ہی نہیں تھے میں کیا کرتا۔

ایک بات بہت اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ منتخب لوگ مسائل حل کرتے ہیں کیوںکہ وہ جوابدہ ہوتے ہیں اور غیر منتخب مسائل پیدا کرتے ہیں کیونکہ وہ جواب دہ نہیں ہوتے۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ ایک مشہور سیاستدان کی مشہور سیاستدان بیٹی نے ٹی وی پر یہ کہتے ہوئے ذرا جھجھک اور ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی کہ وہ ایک حکمران خاندان سے ہے۔ یہ عوام کے جاننے کی بات ہے کہ حکمران ضمہ دار نہیں ہوتے۔ ایسا کہنے والا جب ووٹ بھی مانگے تو کیا ہم اسے ڈھیٹ نہ کہیں؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے حبیب جالب کی وہ نظم بار بار سنیں: ایسے دستور کو ایسے قانون کو ۃ  میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا۔

کراچی کے میئروں کے ساتھ کچھ اچھا نہیں ہوتا رہا۔ ایک تو ان کی عملداری میں سارے علاقے نہیں آتے۔ کراچی کے آخری رئیسِ بلدیہ وسیم اختر، 29 اگست 2020 کو اپنے پاس اختیارات کے نہ ہونے کا رونا روتے ہوئے رخست ہوئے، اور اس بارش میں وہ یہ کہتے ہوئے رخست ہوئے، ڈبویا مجھ کو ہونے نے ۃ  نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا (غالب)۔

اوپر دی گئی میئروں کی مختصر اور غیر مفصل تاریخ سے ایک اندازہ یہ تو ہوتا ہے کہ کوئی تو ہے جو اتنا با اختیار ہے کہ کراچی کے ساتھ اور اس کے عوام کے ساتھ اور آئین کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے۔ یہ زمینوں کے قصے؛ یہ نالوں پہ عمارات؛ چائنا کٹنگ؛ یہ ٹینکر مافیا؛ یہ سڑکوں کا مکمل نہ ہونا یا مکمل ہوتے ہی ٹوٹ پھوٹ جانا؛ کچرے کے انبار لگنا؛ شہر میں پولیس کے ساتھ ساتھ رینجروں کا گشت؛ دریائوں سے زمین نکال کر بیچنا؛ نئی بستیوں کا بغیر کسی منصوبہ کے عملی طور پرغیر افادی بن جانا۔ ایک میئر یہی سب تو دیکھتا ہے۔ میئر ایک منتخب نمائندہ ہوتا ہے وہ جواب دہ ہے، وہ ذمہ دار ہے، وہ شہر کا باپ ہے۔ ہمارا مطالبہ ہونا چاہیے کہ رئیس البلدیہ کا عہدہ اپنے تمام اختیارات کے ساتھ بحال کیا جائے۔

سنتے ہیں کہ تیمور لنگ جب کسی ملک کو فتح کرتا تھا تو وہاں کے تمام اچھے اچھے ماہرین، کاریگروں اور اپنے کام میں استاد افراد کو اپنے ساتھ لے جاتا تھا۔ اس زمانے میں مغربی ممالک جنہیں ہم ترقی یافتہ ممالک بھی کہتے ہیں دنیا بھر سے قابل افراد کو اپنے ملکوں میں کھینچ رہے ہیں۔ غریب ممالک بڑی مشکل سے اپنے ہاں تعلیم یافتہ قابل آدمی پیدا کرتے ہیں اور جب وہ کسی قابل ہو جاتے ہیں تو انہیں باہر نوکری مل جاتی ہے۔ دوسری طرف ہم ہیں، ہمارے ہاں قابل لوگوں کی کئی شعبوں میں کوئی کمی نہیں، لیکن ہم ان سے رجوع نہیں کرتے، انہیں کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے۔ اس کے علاوہ باہر کے ملکوں میں جو تجربات ہو چکے ہیں ان کی تمام رپورٹیں حاصل کی جا سکتی ہیں اور اپنے مسائل حل کرنے میں کم از کم سوچ بچار کرنے سے بچت ہو سکتی ہے۔ لیکن ہم ایسا کچھ نہیں کرتے ہم جو کچھ کیے جا رہے ہیں تو کہنا چاہیے کہ: ہم وہ مست بیل ہیں جو کانچ کی اشیاٗ کی دکان میں گھس گیا ہے۔ اللہ اپنا رحم کرے۔

ہمارے ہاں اب بھی ایسے افراد کی کمی نہیں جو انتظامیہ کو نیک اور کارآمد مشورے دے سکتے ہیں۔ بلکہ یہ افراد وقتاً فوقتاً اخبار و رسائل، ٹی وی اور دوسرے ذرائع ابلاغ پر اپنے مشورے اور کرنے کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ لیکن جوں نہیں رینگتی۔ ایسے لوگوں میں سے کچھ کے نام یہ ہیں، آرکیٹیکٹ عارف حسن، سابق ایڈمنسٹر واٹر اینڈ سیوریج بورڈ فہیم زمان اور یاسمین لاری کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ۔ ان کے علاوہ بہت سے سماجی کارکن جن میں سے کچھ نے تو اپنی جان ہی اس وجہ سے دی کہ وہ شہر کی بہتری کے لیےکام کر رہے تھے۔ ایسے لوگوں میں یہ نام سر فہرست ہیں، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن زہرا یوسف، عقیلہ اسماعیل، پروین رحمان (شہید)، عظمیٰ نورانی، انور رشید، کوثر سید خان، کرامت علی، زبیدہ مصطفیٰ، اور  سبین محمود (شہید)، پرویز ہود بھائی۔ کچھ ادارے بھی خون کے آنسوئوں سے روتے ہوئے خدمت خلق کر رہے ہیں جیسے پاکستان انسٹیٹوٹ آف لیبر ایجوکیشن و ریسرچ، سائیبان، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان۔ اور بھی ہیں لیکن گنوانے کا کچھ فائدہ ہوتا ہو تو گنوایا جائے۔ بلدیہ عظمیٰ کو ان لوگوں اور اداروں کی مستقل مشاورت حاصل کرنی چاہیے کہ شہر کو کیسے بہتر کیا جاسکتا ہے۔ بلکہ ان کی ایک کمیٹی بنانی چاہیے جس کا دفتر بلدیہ عظمیٰ کی عمارت ہی میں ہو۔

ہمارے کرتا دھرتا اپنی عجیب و غریب سیاسی ترجیحات رکھتے ہیں۔ انہیں ایک دوسرے کی  دشنام طرازی سے ہی فرصت نہیں۔ اسی طرح مجھے اپنے ذرائع ابلاغ عامہ پر بھی اعتراض ہے کہ انہوں نے بارشوں کے سلسلے میں بلاول کا ایک جملہ چن لیا ہے اور اس کا لطف اٹھارہے ہیں۔

اے عوام کھلواڑ کو سمجھو

کسی بھی جدید ریاست میں عوام کی بہبود کے کام سیاست کی سب سے چھوٹی اکائی مقامی حکومتیں کر سکتی ہیں، اور ان کے علاوہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔ یہ ایک کلیہ ہے۔ اسے جھٹلانا غداری ہے یا حماقت ہے۔ اس بات کو اگر سمجھ لیا جائے تو ہر اس آدمی کو جو بلدیاتی اداروں کے ساتھ کھلواڑ کرے اسے سخت سے سخت سزا دینی چاہیے۔ اگر کوئی پھانسی تجویز کرے گا تو میں اسے رد نہیں کروں گا۔ عوام کو چاہیے کہ وہ کسی اور کو نہیں صرف اپنے بلدیاتی نمائندے کا گھیرائو کریں۔ صرف اس کو اپنے مسائل بتائیں اور کسی کو نہیں۔ ہم سنتے یہ رہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ بدمعاش ہے یا مٹی کا ڈھیر ہے، وزیر اعظم کاٹھ کا الو ہے اسے عوام کے مسائل سے دلچسپی نہیں۔ ان اعلیٰ عہدے والوں کے یہ کام ہی نہیں ہیں۔ یہ عوامی مسائل دیکھتے ہیں اور اخباری بیان دینا شروع کردیتے ہیں۔ ایک دوسرے کو تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔ سیاست چمکاتے ہیں۔ اس طرح یہ اپنے نام عوام کے کانوں میں ڈالتے رہتے ہیں اور انہیں موقع بھی ملتا ہے۔

میں عوام کے جذبات بیان کرتے آتشؔ کے اس شعر پر یہ مضمون ختم کرتا ہوں:

نہ پوچھ عالم برگشتہ طالعی آتش

برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے

Yemeen Zuberi

Yemeen Zuberi

Yemeen ul Islam Zuberi is an ex-journalist from Pakistan. He writes in Urdu and rarely in English. Besides essays, he also writes poetry. In Pakistan, he worked for different newspapers for 20 years. Now lives in the US.

yemeen has 19 posts and counting.See all posts by yemeen

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *