کیا پاکستانی منتخب حکومت آزاد ہے؟

تحریر: یمین الاسلام زبیری

پاکستان میں شروع سے ہی عجیب و غریب واقعات ہو رہے ہیں، جو اس بات کی کھلی علامت بھی ہیں، اور دلیل بھی کہ پاکستان میں لاقانونیت اپنے عروج پر رہی ہے۔ یہ واقعات عجیب و غریب اس لیے ہیں اپنے کام کی تنخواہ لینے کے باوجود انتظامیہ لیاقت علی خاں کے قتل سے لے کر اب تک ہونے والے تمام اہم قتلوں میں سے کسی ایک کا بھی سراغ نہیں لگا سکی، اور کسی بھی مجرم کو کیفر کردار تک نہیں پہنچا سکی۔ سوال اٹھتا ہے کہ کیا انتظامیہ ان کا حل ڈھونڈنے سے قاصر ہے؟ حل تو دور کی بات ہے بعض واقعات کی تفتیش میں پہلا قدم ہی نہیں اٹھایا جاتا۔ کیا یہ باتیں انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک سوال نہیں ہیں؟ کیا یہ انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک بدنما داغ نہیں ہیں؟ خاص کر ایسے شواہد کی موجودگی میں کہ ہاں جب انتظامیہ کا من کرتا ہے تمام تفتیش ہوجاتی ہے؛ ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں اسی انتظامیہ نے ایسے افراد کو ڈھونڈ نکالا جنہوں نے صرف ٹوئٹ کیا تھا جو انتظامیہ کو پسند نہیں آیا۔

بالکل تازہ خبر یہ آئی ہے کہ کراچی کی دہشت گرد عدالت نے راؤ انوار، جو کہ نقیب اللہ محسود کے قتل میں مطلوب ہیں، پر فرد جرم عائد کردی ہے۔ جسے راؤ انوار نے مسکرا کر مسترد کردیا ہے۔ یہ رد اس نے کس برتے پر کیا یہ جاننا کچھ بہت مشکل نہیں ہے۔ یہاں اس کہانی کو دہرانا کچھ مقصد نہیں ہے لیکن اتنا یاد کرانے میں کچھ حرج بھی نہیں کہ راؤ انوار اپنے اوپر الزام لگنے کے بعد کچھ عرصے کے لیے غائب ہوگیا اور پھر وہی پولیس جو اسے ڈھونڈ نہ پاتی تھی حیران کن طور پر، یہ اطمینان کر نے کے بعد کہ انوار کو تمام شواہد کے ہوتے ہوئے بھی فوری سزا نہیں دی جائے گی، برآمد کر کے لے آئی۔ قتل کا یہ ملزم جب عدالت میں آتا ہے تو اس دروازے سے آتا ہے جس سے صرف جج حضرات ہی داخل ہوتے ہیں۔

یہ تو ایک واقعہ ہے ایسے بہت سارے واقعات ہیں۔ کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں۔

بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان واقعات کی موجودگی میں ایسا لگتا ہے کہ منتخب حکومت موجود ہی نہیں ہے اور ان سب واقعات کو انتظامیہ ہی دیکھ رہی ہے۔ حکومت ان واقعات سے کیوں دور ہے یہ حکومت یا حکومت کا خدا ہی جانتا ہے۔ حکومت اس سے دور ہے اس کا ثبوت اتنا ہی کافی ہے کہ پشتون تحریک کو وزیر اعظم دلاسا تو دے سکتے ہیں لیکن اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں کرسکتے ۔

آپ اس قسم کا کوئی بھی واقعہ اٹھا کر دیکھ لیں حکومت مسائل کو حل کرتی نظر نہیں آئے گی۔ میں عمران خان پر کوئی انگلی نہیں اٹھا رہا ہوں۔ وہ تو یقیناً اپنی سی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن انہیں آگے آنے میں رکاوٹ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ پشتون تحفظ محاذ کی بات سنیں اور ان کے مسائل حل کریں۔ عمران کو نہ صرف پشتون علاقوں سے ووٹ چاہیے ہیں بلکہ ان کی اپنی فطرت ہے کہ وہ انصاف کا ساتھ دیں۔ ان کی اپنی پارٹی کا نام ہی تحریک انصاف ہے۔ سوال یہ ہے کیا انہیں ایسا کرنے سے روکا جارہا ہے؟

ایک طرف تو ٹارگٹ کلنگ وارداتیں ہورہی ہیں۔ ان میں آخری واقعہ جناب تقی محمد عثمانی پر ہونے والا حملہ ہے۔ اس سے پہلے ایم کیو ایم کے علی رضا عابدی کا قتل ہے۔ تقی صاحب خوش قسمت تھے بچ گئے، عابدی نہ بچے۔ نہ اِن کے، نہ اُن کے حملہ آوروں کا کوئی سراغ مل سکا۔

کوئی ایک مقدمہ ہو، جیسے کینیڈی کا قاتل نہیں مل سکا، تو صبر آسکتا ہے لیکن یہاں تو آئے دن ایسے واقعات ہو رہے ہیں اور قاتل ایسی پناہ گاہوں میں پہنچ جاتے ہیں جہاں وہ بالکل محفوظ رہتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے خلاف انیس سو چورانوے پچانوے کے آپریشن میں فوج کے رٹائر جنرل نصیر اللہ بابر نے ماورائے عدالت قتل کے احکامات جاری کیے تھے۔ کسی عدالت نے انہیں ایسا کرنے پر نہ روکا نہ طلب کیا۔ یہ بات تو کوئی ڈھکی چھپی نہ تھی۔

عدالتوں کا احترام اپنی جگہ لیکن عدلیہ کے بہت سے اقدامات پر دماغ چکرا جاتا ہے۔ بھٹو صاحب کے خلاف قتل کے فیصلے کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت فوجی حکومت تھی، اور جب فوجی حکومت ہوتی ہے تو فوج بادشاہ ہوتی ہے، وہی کرنا پڑتا ہے جو فوج چاہتی ہے۔ اور بھٹو صاحب لٹک گئے۔ لیکن اس کو کیا کیجیے جو حالیہ ملک ریاض کے شہر بحریہ ٹاون کے سلسلے میں ہوا۔ آخر عدالت نے اپنی تحقیق بٹھا کر طے کیوں نہیں کیا کہ ملک ریاض کو کتنا ڈنڈ ادا کرنا چاہیے۔ اور ایک اہم سوال یہ ان لوگوں کے لیے کیا کیا اٹھایا جارہا ہے جو اس زمین پر اپنے آبا و اجداد کے زمانے سے کھیتی باڑی کر رہے تھے۔ کیا ان کے ساتھ امریکہ کے لال ہندیوں والا سلوک نہیں کیا گیا؟

ایک بار پھر سوال اٹھتا ہے کہ موجودہ حکومت نے اس سلسلے میں کیا کردار ادا کیا؟ ایسا لگتا ہے کہ ملک ریاض کے مقدمے میں حکومت نے کیس نہیں بنایا؛ نہ ہی جن لوگوں کی زمینیں گئیں ان کے حقوق کا تحفظ کیا۔ اس مقدمے سے حکومت یکسر باہر ہے۔ نظر ہی نہیں آتی۔

بلوچستان کے ہزاروں لوگ غائب ہیں۔ پرانی کہانیوں میں سنا کرتے تھے کہ کسی آبادی سے کوئی بلا یا عفریت لوگوں کو اٹھا کر لے جاتا ہے۔ جو جاتا ہے وہ کبھی واپس نہیں آتا۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ وہ کہانیاں کہانیاں ہی تھیں کوئی حقیقت نہیں تھی۔ لیکن اب ایسا حقیقت میں ہو رہا ہے۔ لوگ غائب ہورہے ہیں کبھی واپس نہ آنے کے لیے۔ آخر ان لوگوں نے ایسا کیا کیا ہے؟ ان کی خطا کیا ہے؟ ان کو کون غائب کر رہا ہے؟ یہ اور اس قسم کے بہت سے سوالات پوچھے جارہے ہیں۔ اس کا جواب بہت سی خبریں پڑھتے ہوئے  بین السطور مل جاتا ہے۔ ان خبروں میں جب یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان میں غدار موجود ہیں۔ بلوچستان میں ہندوستان لوگوں کو اکسانے کی کارروائیاں کر رہا ہے۔ کلبھوشن یادیو اس بات کا ثبوت بھی ہے۔ جب ایسی باتیں کی جاتی ہیں تو پتا چلتا ہے کہ غداروں اور اکسائے ہوئے لوگوں کے خلاف کوئی قدم ضرور اٹھایا گیا ہے۔ لیکن انہیں عدالت میں لائے بغیر۔

کچھ بہت عرصہ نہیں گزرا، دوہزار چودہ میں، وائس آف مسنگ بلوچز کی رہبری میں کوئٹہ سے کراچی تک اور پھر اسلام آباد تک لونگ مارچ کیا گیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ غائب بلوچوں کا سراغ پتا لگایا جائے۔ لیکن بے سود۔ کسی انصاف کے ملنے کی بجائے، بلوچستان کے مختلف علاقوں سے اجتماعی قبریں ملیں۔ اس کے بعد بھی تحقیق کی جاسکتی تھی کہ کس نے ایسا کیا، لیکن ایسا نہ کیا گیا۔

آخر بلوچستان کا مسئلہ ہے کیا۔ بلوچستان کا مسئلہ بہت سیدھا سادا ہے۔ بلوچ اپنے علاقے کے وسائل سے مستفید ہونا چاہتے ہیں۔ وہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کے ہاں گیس کے چولہے ان ہی کی گیس سے جلیں۔ اس گیس سے جو سوئی سے اسلام آباد تک تقسیم کی جارہی ہے، لیکن سوئی کے اطرف دیہات میں نہیں پہنچائی جا رہی ہے۔ بلوچستان صرف گیس ہی سے نہیں بلکہ ہر قسم کی معدنیات سے مالا مال ہے۔

اس سلسلے مِیں تازہ ترین خبر گیارہ مارچ کی ہے، رائٹر نے دی ہے، خبر کے مطابق پاک فوج ریکو ڈک کانوں سے سونا نکالنے کے سلسلے میں فیصلوں میں اہم آواز ہے۔ بہت زیادہ امکان ہے کہ ان کانوں سے سونا نکالنے کا کام فوج کے ہی تجارتی ادارے فرنٹیر ورکس کو دے دیا جائے۔

خیال رہے کہ پاک فوج کے تجارتی اداروں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ چند ایک یہ ہیں شاہین ائر، فوجی کارن فلیکس، فوجی شوگر مل، فوجی فرٹلائزر، فرنٹئر ورکس، این ایل سی، ڈیفنس اتھارٹی، فوجی سمنٹ، وغیرہ وغیرہ۔

اس موقعے پر عائشہ صدیقہ کا ذکر بیجا نہیں ہوگا جنہوں نے اپنی کتاب ‘ملٹری انک’ میں لکھا ہے: فوج نے اس بات کو بہت اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ ایک ہوشیار فوج کے لیے اچھی معیشت بڑی خبیث ہوتی ہے۔ اور معیشت پر قابو خود ان کے اپنے کاروباری اداروں کی ترقی کو پہیے لگا دیتا ہے۔

یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بلوچستان کی سونے کی کانوں میں کیناڈا کی بارک گولڈ اور چلی کی اینٹوفاگاسٹا کمپنیاں دلچسپی ہی نہیں رکھتیں بلکہ انہوں نے کچھ کام بھی کیا ہے اور کوئی گیارہ بلین ڈالر کے ہرجانے کی دعویدار بھی ہیں۔

خبر رساں ایجنسی رائٹر کے مطابق ریکو ڈک کانوں کا ٹھیکہ عمران خان کے لیے ایک امتحان ہے۔ اس میں  انصاف کر کے وہ بیرونی سرمایہ کاروں کو اعتماد میں لے سکتے ہیں، یا ان کا اعتماد کھو سکتے ہیں۔

اربوں کھربوں کی باتیں ہو رہی ہیں۔ کیا بلوچ، جن کی زمین سے سونا نکلا ہے، بے فیض ہی رہ جائیں؟ کیا انہیں کچھ بھی نہیں ملنا چاہیے ہے؟ کیا ان کا اپنی ہی دولت پر ذرا سا بھی حق نہیں ہے؟ اب یہ بات کوئی خبر نہیں کہ زچگی کے دوران دنیا میں عورتوں کی سب سے زیادہ اموات بلوچستان میں ہوتی ہیں۔ بلوچستان اپنی تمام قدرتی دولت کے باوجود پاکستان کا سب سے پسماندہ صوبہ ہے۔

ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ یہ جو فوجی تجارتی ادارے ہیں ان کی آمدنی کتنی ہے۔ ان کی آمدنی مِیں شرکت دار کون کون ہے۔ جو شراکت دار ہیں وہ کتنا ٹیکس دیتے ہیں؟ خود یہ کمپنیاں کتنا ٹیکس دیتی ہیں؟

خاصے عرصے سے ایک بات اور بھی ہو رہی ہے، اور وہ یہ ہے کہ پاکستان کے نجی تجارتی ادارے ہمیشہ کسی نہ کسی رٹائرڈ فوجی کو اپنے ہاں ملازم رکھ لیتے ہیں۔ یہ مختلف سرکاری دفتروں میں مفت میں اور جلد کام نکلواتا ہے۔ اگر یہ نہ ہوں تو ان تجارتی اداروں کو رشوت دینی پڑتی ہے اور وقت الگ خراب ہوتا ہے۔ اس طرح یہ فوجی ان لوگوں کی نوکریاں بھی کھا رہے ہیں جو تجارت کی پڑھائی کر رہے ہیں۔

یہاں ایک بات اور سامنے آتی ہے کہ وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی بدعنوانی ہماری غیور فوج کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ ورنہ ان کے اداروں کو مقابلہ میں دھچکے لگنا شروع ہوجائیں گے۔

ایم کیو ایم کے الطاف حسین نے اپنی ۷، مارچ ۲۰۱۹ کے انٹرویو میں فوج پر کئی الزام لگائے ہیں۔ الطاف حسین کو پاکستانی سیاست میں اچھا نہیں گنا جاتا۔ بہت اچھا ہو کہ فوج ان کا نام لے کے یا لیے بغیر ان کے الزامات کا جواب ضرور دے، ورنہ یہ سوالات کاغذوں سے اٹھ کر دھوئیں کا بادل بن جائیں گے اور پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں جلد یا بدیر لے لیں گے۔

ان کے سوالوں میں سے چند یہ ہیں، ۱- پاکستان کی فوج پنجاب کے مفادات کا دفاع کرتی ہے٫ ۲- پاکستان کے تمام صوبوں پر فوج کا قبضہ ہے۔ ۳- بلوچوں کے قتل اور اجتماعی قبروں میں پاک فوج ملوث ہے۔ ۴- پنجابیوں کے خلاف آج تک کوئی ریاستی آپریشن نہیں ہوا۔ ۵- تمام جہادی تنظیمیں، جیش محمد، طالبان، لشکر طیبہ، لشکر صحابہ، لبیک یا رسول اللہ اور جماعت الدعویٰ یہ سب پاک فوج کی اولادیں ہیں اور ان کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا جائے گا۔ ۶- پاکستانی فوج کو دہشتگردی کا نشہ ہو گیا ہے۔ وہ یہ کام جاری رکھے گی۔

الطاف حسین کو الگ ہٹا دیں، ان کو تو انتظامیہ نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ ان پر بھتہ اور قتل جیسے الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان پر یا کسی اور پر اس قسم کے الزام ہو سکتے ہیں لیکن کوئی اس قسم کام کرتا ہے اور ان کا سلسلہ کا  جاری رکھتا ہے تو یہ انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک بد نما داغ ہے۔ یہ انتظامیہ کی مکمل ناکامی کا ثبوت ہے۔ یہ ریاستی اداروں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے نااہل ہونے کا ثبوت ہے۔ ان میں کا کوئی ادارہ احتساب سے نہیں بچتا۔

ہمیں پتا کرنا ہوگا کہ آخر ملک میں بد انتظامی کس کے حق مِیں جاتی ہے۔ جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے کہ عجیب و غریب قسم کے واقعات ہو رہے ہیں اور انتظامیہ اور منصفین بے بس نظر آتے ہیں۔ جرگےغیراہم باتوں پر لڑکیوں کو قتل کا حکم دیتے ہیں؛ قاتل خون بہا دے کر چھٹ جاتے ہیں؛ قتل کے ملزمان سر اٹھائے گھومتے نظر آتے ہیں؛ جن پر کروڑوں کے غبن کا الزام ہے ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملتا؛ خطیر رقوم قلاش لوگوں کے بینک کھاتوں میں نکل آتی ہیں؛ اہم آدمیوں کے قاتل پکڑے نہیں جاتے؛ جن عمارتوں کو گرادینا چاہیے وہ کھڑی رہتی ہیں؛ جن عمارتوں کو بہتر منصوبے پر ٹھیک کرنا چاہیے وہ گرا دی جاتی ہیں؛ ملک کا روپیہ مستقل گر رہا ہے اس سلسلے میں کوئی لائحہ عمل سامنے نہیں آتا؛ رشوت کا بازار گرم ہے کوئی پوچھنے والا نہیں؛ اور سب سے بڑھ کر نجی کاروبار کو ترقی دینے کا کوئی منصوبہ سامنے نہیں آرہا۔

 ایک سوال اور بھی ذہن میں اٹھتا ہے، وہ یہ ہے کہ کشمیر کے تنازعہ سے پاک فوج کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ اس کو مزید طاقتور کرنے کی اہمیت پر لیکچر پڑھے جانے لگتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ پاک فوج ہی ہے جو کشمیر کے مسئلہ کے حل میں ایک رکاوٹ ہے؟

اگر فوج براہ راست نہیں بھی ہے تو بھی وہ خارجہ معاملات پر اثر انداز ہو کر کشمیر کے موقف کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ فوج کی تربیت میں دوسرے ممالک سے بات چیت کرنا نہیں ہوتا۔ ساری دنیا میں فوجی حل آخری قدم سمجھا جاتا ہے۔ دوسرے ممالک سے بات چیت صرف اور صرف ایک منتخب حکومت کا ہی کام ہے، وہ اس کام کے لیے اپنے وقت کے چوٹی کے وکلا اور سیاستدانوں کے مشورے حاصل کرتی ہے اور پھر کوئی نتیجہ سامنے آتا ہے۔ ان وکیلوں نے بات چیت کے دشت کی سیاحی میں عمریں گزاری ہوتی ہیں، جبکہ فوج میں لوگ رٹائر ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ بے تجربہ لیتے ہیں۔ ان باتوں کو دیکھتے ہوئے کشمیر کا حل صرف اور صرف ایک آزاد منتخب حکومت ہی کر سکتی ہے، ورنہ اس کے حل کو تو بھول ہی جانا چاہیے۔

Yemeen Zuberi

Yemeen ul Islam Zuberi is an ex-journalist from Pakistan. He writes in Urdu and rarely in English. Besides essays, he also writes poetry. In Pakistan, he worked for different newspapers for 20 years. Now lives in the US.

yemeen has 14 posts and counting.See all posts by yemeen

2 thoughts on “کیا پاکستانی منتخب حکومت آزاد ہے؟

  • March 29, 2019 at 5:56 am
    Permalink

    Yameen Islam Zubairi nay talk mozo bohat jamay andaz men likha hay jis k liyay woh satayish Kay haq-daar hen.
    Shahid Lateef.

    Reply
  • March 29, 2019 at 6:01 am
    Permalink

    Yameen Islam Zubairi nay talkh baat jamae’ andaz main likhi.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *