ہمارے شفیق نصراللہ چچا

تحریر: یمین الاسلام زبیری

 کیا قافلہ جاتا ہے، تو بھی جو چلا چاہے

میرؔ-

شفیق، مہربان، ہمدرد ایسے ہی الفاظ ذہن میں آتے ہیں جب مجھے نصراللہ خاں صاحب یاد آتے ہیں۔ انہیں ہم بھائی بہن نصراللہ چچا کہا کرتے تھے۔ نصراللہ چچا کا انتقال طویل عرصہ علیل رہنے کے بعد 22 فروری 2002ء   کو میری لینڈ امریکا میں ہوا اور ان کی تدفین بھی وہیں ہوئی۔

 میں یہاں ان کے طرز تحریر پر، ان کی صحافتی حیثیت اوران کی زبان، محاورہ اور اس پر ان کی گرفت پر کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ یہ چھوٹا منہ بڑی بات ہوجائے گی۔ میری ایسی حیثیت نہیں۔ ان کا کالم لکھنا اورکتابیں لکھنا ہم بہن بھایوں لیے ذاتی فخر کی بات رہی ہے، لیکن ہم انہیں جب دیکھتے تھے تو صرف نصراللہ چچا کی حیثیت میں دیکھتے تھے۔  یہاں میں ان پراپنے تعلق کے حوالے سے لکھوں گا۔ وہ ہمارے ہاں بہت آتے تھے، اور ہمیشہ لمبی بیٹھک کر کے جاتے تھے۔ وہ ہمیں اپنے ریڈیو پاکستان اور اخبار و رسائل اور اپنے ماضی کے قصے سنایا کرتے تھے۔ باتیں بہت کرتے تھے، اسی طرح دوسرے کی بھی غور سے سنتے تھے خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ ایک بار انہوں نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان میں ایک بار ایک کلاسیکی گانے والا اپنے پرگرام میں کسی وجہ سے نہیں آسکا، سارے سازندے بالکل تیار بیٹھے تھے، پروڈیوسر پریشان تھا کہ کیا ہوگا، تو نصراللہ صاحب نے پرڈیوسر سے کہا کہ وہ یہ راگ گا دیں گے۔ اور انہوں نے وہ کر بھی دیا۔ وہ عام معلومات، خبروں کا تجزیہ، ڈراموں کی باتیں، ان کے اپنے آئیندہ کے پروگرام، اپنے بچوں کی باتیں، اپنے بچوں کے بچوں کی باتیں سب ہم سے کیا کرتے تھے۔

نصر اللہ صاحب سے میرے والد امین السلام زبیری، چیف ایڈیٹر یو ایس آئی ایس، کی انیس سو پچاس کی دہائی کے شروع میں ملاقات ہوئی ہوگی۔ دونوں میں گاڑھی چھنتی تھی غالباً اس کی ایک وجہ یہ رہی کہ اُن کی طبیعتیں بہت ملتی جلتی تھیں، اور دوسرے دونوں  کے دوست احباب اور ملنے جلنے والے بھی ایک تھے جو اس وقت کے صحافی اور دانشور حضرات ہی تھے۔

نصر اللہ صاحب کے دو بیٹے اور پانج بیٹیاں تھیں۔ یہ اور نصراللہ صاحب کی بیگم صاحبہ سب ہمارے ہاں آیا کرتے تھے۔ لیکن ان کے بچوں اور ہماری عمروں میں بہت فرق تھا تو ہماری ان سے دوستیاں نہیں ہو سکیں۔ ان کے بڑے بیٹے نجم الحسنین اپنے والد کی طرح ریڈیو پاکستان میں پروڈیوسر تھے۔ انجم سب سے چھوٹے بیٹے  تھے انہوں نے سی اے کیا اور اکاونٹنگ میں ہی رہے۔ انجم امریکہ آگئے تھے، دو ایک بار ملاقات ہوئی لیکن اب بہت عرصے سے نہیں ملے۔ بیٹیاں نصر اللہ صاحب کی سب خوشحال ہیں۔

جب نصراللہ صاحب حریت سے منسلک ہوگئے تو ہمارے ہاں بھی حریت آنے لگا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اسکول سے آکر کچھ کھا پی کر پھر ہم سارا اخبار پڑھا کرتے تھے۔ اس میں ادارتی صفحہ پراول کالم میں علمی معلومات کے متفرقات ہوا کرتے تھے اور آخری کالم پر نصراللہ صاحب کا کالم  ’آداب عرض‘ ہوتا تھا۔ یہ ہمارا معمول تھا، اور میرا تو دسویں کے بعد تک رہا کہ اخبار میں اور کچھ پڑھوں یا نہ پڑھوں یہ دو کالم ضرور پڑھا کرتا تھا۔ میں ان دونوں کالموں کا کچھ اس قدر شیدا ہو گیا تھا کہ ان کو کاٹ کر رکھ لیتا تھا۔ یہاں تک کہ ان کے پلندے بن گئے تھے۔ لیکن اس معاملے میں میں قسمت کا ایسا اچھا نہ تھا اور وہ کالم گھر بدلنے کے دوران ضائع ہو گئے۔ ہم کرائے کے مکانوں میں رہتے تھے اور ہمیں اپنے مکان تک پہنچنے میں کئی سال اور تین کرائے کے مکان لگے تھے، تو تین ہی بار نقل مکانی کی گئی۔

جب نصراللہ صاحب سے ہمارے والد کی دوستی شروع ہوئی اس وقت ہم تین ہی بھائی تھے۔ وہ جب آئے تو انہوں نے پہلے بڑے انیس بھائی کو دیکھا؛ پھر کسی اور دن آئے تو راقم الحروف کو دیکھا، ہمارے تیسرے بھائی سیف ہماری نانی کے ساتھ رہتے تھے،  جلد ہی وہ بھی واپس آگئے۔ انہیں دیکھ کر نصراللہ صاحب ہمارے والد سے بولے کہ، ’یہ بچے کہاں بوریوں میں بند کر رکھے تھے کہ ایک ایک کر کے نکال رہے ہو۔‘ یہ بات انہوں نے ہمیں خود بتائی تھی۔

نصراللہ صاحب پہلے پیر الٰہی بخش کالونی (پی آئی بی کالونی) میں رہا کرتے تھے۔ میں والدین کے ساتھ ان کے گھرگیا تھا۔ ان کے ایک بھائی جو کسی ذہنی عارضہ میں مبتلا تھے انہیں میں نے وہیں پہلی بار دیکھا تھا۔ ان کی شکل نصر اللہ صاحب سے  بہت ملتی تھی۔ اس کے بعد وہ ناظم آباد چار نمبر میں رہائش پزیر ہوئے ان کے اس گھر میں بھی میرا جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ بہت قلیل عرصے کے لیے وہ ناظم آباد نمبر دو میں بھی رہے تھے۔

اور پھر شمالی ناظم آباد بلاک ایچ میں آگئے تھے۔ ہم آئی میں رہتے تھے، وہ اپنے گھر سے جو کسی طرح بھی ایک میل سے کم دوری پر نہیں ہوگا ہمارے ہاں پیدل آیا کرتے تھے، مہینے میں کم از کم  ایک بار ضرور، اس وقت ان کی عمر ساٹھ پینسٹھ سال رہی ہوگی. وہ پیدل بہت چلتے تھے۔ انہوں نے کار چلانا کبھی نہیں سیکھا۔ ایک وقت وہ بھی آگیا کہ جب وہ واکر کے سہارے چلا کرتے۔ وہ تب بھی گھر سے نکلتے،  انہیں ان کا ڈرایور یا پھر ہم میں سے کوئی لے آتا تھا۔ تب وہ ہمارے قالین پر ہی کچھ نہ کچھ چلا کرتے۔

ہم اگر بچپن میں ان سے نہ ملے ہوتے تو ہمیں کبھی پتا نہ چلتا کہ وہ بچوں کے ساتھ بالکل بچہ بن جاتے ہیں۔ اکثر وہ پیدل آرہے ہوتے تو ہم انہیں دیکھ کر ان کے ساتھ گھر تک چلنے لگتے۔ پھر اچانک ہمیں لگتا کہ کسی نے ہمارے پیچھے سے لات ماری ہے۔ دو ایک لاتوں پر ہم سمجھ جاتے کہ یہ نصر اللہ صاحب کی شرارتیں ہیں۔ ہوتا یہ تھا کہ اگر ہم ان کے دائیں ہاتھ پر چل رہے ہوتے تو وہ اپنی بائیں ٹانگ سے، ترکیب سے، ہمارے ایک لگاتے۔ ہم جب جان جاتے تو بہت ہنستے۔

 میری انیس بھائی سے بات ہو رہی تھی اور ان کا حلیہ بیان ہورہا تھا۔  انیس بھائی نے درست کہا کہ انہوں نے کبھی نصراللہ صاحب کے بال بنے ہوئے نہیں دیکھے۔ بہت عرصے تک کرتے کے ساتھ چوڑے بائینچے کا پاجامہ  پہنتے رہے لیکن پھر علیگڑھ کٹ پاجامہ پہننے لگے تھے۔ اوپر سے عام طور پر ایک واسکٹ ہوتی، اگر سردی ہو تو اس کی مناسبت سے کچھ اوپر سے۔ گلے میں ایک مفلر رہا کرتا تھا۔ ’کیا قافلہ جاتا‘ ہے کے پچھلے صفحے پر جو ان کی تصویر ہے وہ ان کے حلیہ کا زیادہ پتا دیتی ہے بہ نسبت یونی کیرئینزکے رسالہ کے جو کراچی یونیورسٹی کے سابق طلبہ کی تنظیم نے نصراللہ صاحب کے پچھترویں جنم دن، اور ان کے قلم کی پچاسویں سالگرہ کی تقریب سپاس پر نکالا تھا جس میں ان کے بال بھی بنے ہوئے ہیں اور وہ ڈھنگ سے شیروانی پہنے ہوئے ہیں،  شاید اسٹوڈیو میں کھنچوائی گئی ہے۔کیونکہ عام طور پرجب وہ شیروانی میں ہوتے تھے تو ان کی شیروانی کے بٹن کھلے رہتے تھے۔ عمر کے ساتھ ساتھ ان کے دانت گر گئے تھے اور آخر میں بتیسی لگانے لگے تھے۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ان کے بال سفید جھک ہی دیکھے۔ ان کی شکل میں معمولی تبدیلی آئی۔ 1998 میں میں امریکہ آگیا تو اس کے بعد ان سے کبھی نہیں ملا۔

میرے لیے نصراللہ صاحب کو بھولنا بہت مشکل ہے۔ میں بہت چھوٹا تھا، چار سال کا، غالباً انّیس سو چوّن کی بات ہے، میرے کتّے نے کاٹ لیا  تھا۔ میرے والد امریکن ایمبیسی کی طرف سے تربیت کے لیے امریکہ گئے ہوئے تھے۔ میرے ماموں جو ہمارے ساتھ رہتے تھے خود بہت صغیر سن تھے، دوسرے اعزأ قریب نہیں تھے۔ اس وقت نصراللہ صاحب ہی تھے جومجھے ٹیکے لگوانے کے لیے ناظم آباد سے جناح اسپتال لے جایا کرتے تھے۔ ہم دو بچّے تھے جنہیں کتّوں نے کاٹ لیا تھا، دوسرا بچّا مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ کوئی بارہ چودھا سال کا ہوگا۔ چودھا ٹیکے لگے، مجھے یاد نہیں ہر ٹیکہ کتنے دن کے بعد لگتا تھا۔ لیکن مجھے  (غالباً،  سندھ) سنڈیکیٹ کی ہری اور پیلی بس یاد ہے جس میں ہم جناح اسپتال جایا کرتے تھے، اس پر ایک گول مہر بنی ہوا کرتی تھی۔ اور مجھے یہ بھی یاد ہے کہ کبھی کبھی  میں بہت زیادہ رونے لگتا تھا تو نصر اللہ صاحب وہیں کسی چائے والے سے زیرے والے نمکین بسکٹ خرید کر بہلایا کرتے تھے۔ مجھے اپنے رونے کی وجہ سے ان کی کچھ پریشان سی شکل ابھی تک یاد ہے۔ نصراللہ چچا کا میری زندگی میں دخل رہا، اور میری  شادی بھی ان ہی کے مشورے سے ان کے دور پرے کے بھانجے عبدالمجید خان صاحب کی بیٹی غزالہ سے ہوئی، وہ بھی ہیپی ڈیل کی پڑھی ہوئی ہیں۔

میں جب اسکول جانے کے لائق ہوا تو میرا داخلہ ہیپی ڈیل اسکول میں کرادیا گیا۔ یہ اسکول نصر اللہ خاں صاحب اور ان کی منہ بولی ہمشیرہ مس آمنہ ممتاز نے قائم کیا تھا۔ میرے والد ہیپی ڈیل کے بورڈ ممبر بھی تھے اور اس کے اجلاسوں میں برابر جاتے تھے، حتٰی کہ اسکول قومیا لیا گیا۔

یہاں آمنہ ممتاز صاحبہ، جنہیں ہم پھوپھی کہا کرتے تھے، کے بارے میں کچھ نہ لکھنا نا انصافی ہوگی۔ ہیپی ڈیل اسکول کی ترقی میں وہ نصراللہ خاں صاحب کے شانہ بہ شانہ رہیں۔ وہ بہت محنتی اور انتہائی پڑھی لکھی خاتون تھیں، اور ایک نہایت نفیس، عمدہ اور باوقار خاندان سے تھیں۔ ان کی رشتہ داری کہیں سے ضیا محی الدین اور جنرل صاحبزادہ یعقوب خان سے بھی ہوتی تھی۔ مس آمنہ ممتاز کے والد ممتاز اللہ خان اور ہمارے دادا محی الاسلام علیگڑھ میں ساتھ پڑھے ہوئے تھے۔ ممتاز اللہ خاں صاحب کا ایک اہم واقعہ سلطانہ (سلتنا) ڈاکو کو گرفتار کرنے کی ناکام کوشش تھا۔ وہ سلتنا کی ہوشیاری کے قائل تھے۔ وہ شمالی ناظم آباد میں ہمارے گھر کے قریب اپنے بیٹے ذکا اللہ خاں کے ساتھ رہتے تھے اور ہم ان کے ہاں جایا کرتے تھے۔ اس وقت ان کی عمر کوئی نوے سال ہوگی۔ آمنہ پھوپھی کی بہنیں بھی بہت باکمال گزری ہیں۔ عذرا بٹ نہایت عمدہ لکھنے والی تھیں، بہن بھائیوں میں تیسری تھیں۔ انہوں نے لڑکپن میں اپنے خاندانی رسم و رواج کو توڑتے ہوئے اودے شنکر بیلے کمپنی میں کام کیا۔ ان کے ساتھ ان کی بہن زہرا سہگل بھی اسی کمپنی میں تھیں۔ زہرا سہگل نےہالی وڈ کے مشہور اداکار   یُل برینر کے ساتھ فلم ’دی لانگ ڈویل‘ میں یُل برینر کی ماں کا کردار بھی ادا کیا تھا۔ عذرا بٹ صاحبہ لکھنے کے علاوہ تھیٹر کی دنیا سے منسلک رہیں۔ انہیں 1994 میں اداکاری کا سنگیت ناٹک اکیڈمی کا ایوارڈ ملا۔

 مس ممتاز ہیپی ڈیل اسکول کی ہیڈمسٹرس تھیں اور انہوں نے اسے نہایت اعلیٰ معیار تک پہنچادیا تھا۔ اسکول کے قومیائے جانے کے بعد ان سے کہا گیا کہ انہیں وہاں نوکری دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے انکار کردیا۔ انہوں نے ایک اور اسکول ناظم آباد چار نمبر میں کھولا تھا جہاں میری بہن نگین اور سب سے چھوٹے بھائی عماد بھی پڑھایا کرتے تھے۔

ہیپی ڈیل سب سے پہلے، ۱۹۵۲ میں، ناظم آباد نمبر دو کی دو عمارتوں میں بنا تھا۔ یہ دونوں سبطین منزل جو کہ پہلی چورنگی سے لالوکھیت کو جانے والی سڑک الطاف علی بریلوی روڈ  پر واقع ہے ، کے ساتھ والی عمارت اور اس کے بالکل سامنے  والی عمارت میں تھا۔ سبطین منزل کے برابر والی عمارت کے دوسری طرف خالی پلاٹ تھا جس پر ہیپی ڈیل اسکول کے فنکشن ہوا کرتے تھے۔ ایک میں میں اور میرے انیس بھائی کو بھی شرکت کرنی تھی۔ انہیں ایک فارسی نظم، جس کے ایک مصرع کا ٹکڑا  انہیں کچھ اس طرح یاد ہے: خستہ میشی (آگے پتا نہیں)۔ اور مجھے بہت ہی چھوٹی سی نظم پڑھنی  تھی جو کچھ یوں شروع ہوتی تھی: ایک تارا گگو تارا۔ لیکن میں گھر میں چھپ گیا اور نظم پڑھنے نہیں گیا۔ بعد میں رونق دیکھنے گیا تو وہاں بینڈ باجا ذور  و شور سے جاری تھا۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ فنکشن ختم ہونے کے اگلےدن آمنہ پھوپھی ہمارے لیے ٹافیوں، چاکلیٹوں اور کینڈیز سے بھرا ایک خاکی تھیلہ لائی تھیں۔ ہو سکتا ہے کہ فنکشن میں بچ گئی ہوں۔

ناظم آباد سفید پوشوں کی بستی تھی، اور سب کے بچے ہیپی ڈیل جایا کرتے تھے۔ لیکن داخلہ وہاں سب کو ملتا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرا اسکول کا پہلا دوست ایک سائیکل رکشا والے کا بیٹا تھا۔ میں اس اسکول میں بہت خوش تھا۔

سبطین منزل مشہور خطاط صادقین کے والد نے بنوائی تھی اور ان ہی کے نام پر تھی۔ وہاں صادقین کے بھائی کازمین صاحب بھی رہا کرتے تھے جو میرے والد کے دوست بھی تھے، اور یقیناً نصر اللہ صاحب کے دوست بھی رہے ہوں گے کیونکہ وہ بھی ریڈیو کراچی میں پرڈیوسر تھے۔

نصراللہ صاحب نے کب سے اور کتنا لکھا ہے یہ ان پر لکھنے والے سارے ہی لوگ لکھ چکے ہیں۔ یہاں میں یہ ضرور بتانا چاہوں گا کہ انہوں نے اپنا سب سے مشہور اور اچھا ڈرامہ ’لائٹ ہاؤس کے محافظ‘ ہمارے گھر ، مسکنِ طارق، ناظم آباد 2، ہی  میں بیٹھ کر لکھا تھا، اس بات کا ذکر وہ ہم سے بارہا کیا کرتے تھے۔ اسی طرح کئی کالم ہمارے گھر بیٹھ کر لکھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارا گھر اس زمانے میں ہیپی ڈیل اسکول سے بہت قریب تھا، اور ان کا گھرپیر کالونی میں، تو آنے جانے کا وقت بچتا تھا۔ ایک بار مجھے یاد ہے کہ میں ان کے شمالی ناظم آباد والے گھر گیا تو ان کے کمرے تک چلا گیا، میں نے دیکھا کہ وہ بستر پر لیٹے ہوئے ایک کاغذ پڑھتے بھی جاتے ہیں اور کچھ لکھتے بھی جاتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں ان تک پہنچتا مجھے روک دیا گیا، بتایا گیا کہ وہ اس وقت اپنے کالم پر آخری نظر ڈال رہے ہیں، باہر جنگ کا ڈرائیور کھڑا ہے جو یہ کالم لے جائے گا۔ اس زمانے میں ای میل اور واٹس ایپ نہیں تھا، گاڑیاں دوڑتی تھیں، اور کتابت ہوتی تھی کمپیوٹر نہیں تھا۔ اس وقت تک حریت بند ہو چکا تھا اور وہ جنگ کے لیے لکھ رہے  تھے۔

ایک بار وہ ہمارے ہاں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ انیس بھائی نے پوچھا  کہ انہیں کالم لکھنے کی تحریک کیسے اور کس وقت ہوتی ہے۔ وہ بتانے لگے کہ اس میں کوئی وقت خاص نہیں  اور کبھی بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی خیال آجائے؛ اسی طرح کوئی چھوٹی سی بات بھی کالم سجھا سکتی ہے۔ اس کے بعد باتیں ہونے لگیں اور کوئی بات ان کو اچھی لگی تو بولے کہ، ’کل اسی پہ کالم ہو جائے گا۔‘

اس موقع پر مجھے ان کا ایک کالم یاد آرہا ہے جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ اگر ایک  کسی اسلامی جماعت کی حکومت آگئی تو کیا تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ انہوں نے لکھا تھا کہ دانتوں کے برش کی بجائے مسواک ہوا کرے گی اور یہ کہ   داڑھی مونڈھنے والےمردوں کو جب تک ڈاڑھی نکل نہیں آتی اس  وقت تک نقلی داڑھی لگائے رکھنا ہوگا ، ورنہ جرمانہ ہو سکتا ہے۔  نقلی داڑھی کی دکانیں جا بہ جا کھلی ہوئی ہوں گی۔ ان کے کالموں سے ایک جملہ مجھے کبھی نہیں بھولتا۔ کراچی کی بسوں اور ان میں رش کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بس کے دروازے میں لٹک کر سفر کرتے لوگوں کے لیے لکھا تھا، ’راسیں لدی جارہی ہیں۔‘ یعنی بے جان گوشت کی طرح بے دردی سے۔ سب نے ہی دیکھا ہو گا کہ گوشت کے ٹرکوں میں گایوں کی راسیں کیسے لٹکا کر لے جائی جاتی تھیں۔

میں نے نصر اللہ صاحب کی زبان سے دو بار افسوس کا لفظ سنا، ایک بار جب وہ امریکہ گئے اور آرٹ بخوالڈ کے دفتر کا چکر لگایا لیکن اس سے ملاقات نہیں ہوسکی۔ دوسرے ایک بار انہیں فیض احمد فیض  کا انٹرویو کرنا تھا لیکن ٹریفک میں پھنس کر وہ وقت پر نہ پہنچ سکے، اور فیض کو ہوائی جہاز پکڑنا تھا۔ انہیں ان باتوں کا افسوس تھا لیکن وہ افسردہ نہیں تھے۔ میں نے انہیں کبھی افسردہ نہیں دیکھا، ہمیشہ خوش اور مزاحیہ رہتے تھے۔ آرٹ بخوالڈ کے دفتر کے بارے میں وہ ہمیں بتایا کرتے تھے کہ کئی منزلہ عمارت میں تھا اور بہت لوگ اس کے لیے کام کرتے تھے۔ امریکہ کی سیر کا انہوں نے بتایا کہ ان کے داماد، ان کی بیٹی شاہین کے شوہر، نے ایک کیمپر لے لیا تھا اور اس میں ان سب نے امریکہ کی سیر کی تھی۔

نصراللہ صاحب نے اگر یوں کہیں کہ اپنی عمر سے زیادہ زمانہ دیکھا تھا تو غلط نہ ہوگا، یعنی اوور ٹائم بھی بہت کیا تھا۔ ایسا کہنےکی وجہ یہ ہے کہ وہ گھر بیٹھنے والے آدمی نہیں تھے، وہ مستقل گھر سے باہر کسی نہ کسی سے ملتے رہتے تھے۔ وہ خوامخوہ باہر نہیں گھوما کرتے تھے ان کے کالموں کو پڑھ کر لگتا ہے کہ انہوں نے زندگی کے ہر رخ کا مطالعہ غور سے کیا۔ پھر انہیں لوگ بھی ایسے ایسے دیکھنے کو ملے جو بہت ہی تجربہ کار تھے اور اعلیٰ ذہانت رکھتے تھے۔ نصر اللہ صاحب شروع ہی سے ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور صحافیوں کے درمیان رہے، کوئی کہہ سکتا ہے کہ انہیں موقع ملا ہوگا، لیکن میں کہوں گا کہ یہ، کند ہم جنس بہ ہم جنس پرواز والی بات تھی۔

نصراللہ صاحب کی زندگی کےبارے میں ان پر تقریباً سارے ہی لکھنے والوں نے بہت سی باتیں لکھی ہیں میں کچھ یہاں دہراتا ہوں کہ مضمون ادھورا نہ لگے ۔ وہ ۱۱نومبر۱۹۲۰ء کو ریاست جاؤرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے کانوں میں علمی گفتگو پیدا ہوتے ہی  پڑنی شروع ہو گئی تھی اس لیے کہ ان کے والد محمد عمر خاں صاحب مسلم ہائی اسکول امرتسر کے ہیڈ ماسٹر اور ماہر تعلیم تھے اور معیاری کتابوں اور ترجموں کے مصنف بھی تھے؛ جن کے شاگردوں میں سے  اے حمید اور منٹو نے دانشوری میں نام کمایا۔ بجا ہوگا اگر کہیں کہ لکھنا لکھانا نصراللہ خاں صاحب کی گھٹی میں پڑا تھا۔ اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے انہوں نے بھی بی اے اور بی ٹی کیا، ناگپور یونیورسٹی سے ایم اے کیا اورہیپی ڈیل جیسا مثالی اسکول قائم کیا۔

نصراللہ صاحب نے جب صحافت میں آنکھ کھولی تو اس وقت مولانا ظفر علی خاں زمانے پر چھائے ہوئے تھے۔ نصراللہ صاحب کیا قافلہ جاتا ہے میں مولانا کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرتے لکھتے ہیں: میرا تعلق روزنامہ ’زمیندار‘ سے زیادہ مولانا ظفر علی خان سے تھا۔ حضرت مولانا مجھ پر بے پناہ شفقت فرماتے اور میں ان کے ساتھ سائے کی طرح رہتا۔ وہ جب بھی امرتسر آتے میرے یہاں قیام فرماتے۔ میں زمیندار میں ملازم نہیں تھا زیر تربیت تھا۔ میرے مضامین زمیندار میں شائع ہوتے رہتے تھے۔ اور میں جب بھی حضرت مولانا کے سامنے آتا وہ مجھے دیکھ کر ’اذاجأ نصراللہ کہتے۔‘

کہتے ہیں کہ بیج اگر مناسب آب و ہوا میں ہو تو اسے تناور درخت بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ نصراللہ صاحب نے بھی اسکول کے زمانے ہی سے اپنے ارد گرد  فن تحریر کے اساتزہ کا اثر قبول کرناشروع کردیا تھا۔ وہ جب نویں میں تھے تو ان کا پہلا مضمون رسالے ’آبشار‘ میں چھپا تھا۔   نصراللہ خاں صاحب کی طبیعت میں طنزو مزاح ویسے ہی خوب موجود تھا، مولانا ظفر علی خان کے زیرِ سایہ یہ نشتر اور ہی تیزہوگیا ہوگا۔ ڈاکٹر یاسمین سلطانہ فاروقی اپنے مضمون میں لکھتی ہیں، بقول نصراللہ خان وہ  شخصیات جو میرے (نصراللہ صاحب کے) لیے اساتذہ کا درجہ رکھتی ہیں، ان میں مولانا ظفر علی خان، مولانا چراغ حسن حسرت، مرتضیٰ احمد  میکش، حاجی لق لق اور مولانا عبدالمجید سالک کے علاوہ شورش کاشمیری، سعادت حسن منٹو، اے حمید، فیض احمد فیض بھی شامل ہیں۔ ان کی کتاب ’کیا قافلہ جاتا‘ ہے میں ایک طویل فہرست ایسے لوگوں کی ہے  جن سے نصر اللہ صاحب کا تعلق رہا اور جن کی دانشوارانہ صلاحیتوں کے سب ہی قائل ہیں۔

نصراللہ صاحب کی بڑی بات ہے گو وہ کسی سے کم نہیں تھے لیکن انہوں نے دعویٰ ان سب حضرات سے سیکھنے ہی کا کیا ہے۔

انہوں نے مولانا ظفر علی خاں کے زیر سایہ امرتسر کے ’زمیندار‘ اور ’احسان‘ میں لکھنا شروع کیا۔ شمس زبیری کے ’نقش‘ کے لیے مزاحیہ ’شوخی تحریر‘ کا سلسلہ لکھا۔ مجید لاہوری کے’نمکدان‘ کے لیے سلسلہ ’پیارے میاں‘ لکھا۔ ’ساقی‘ کے لیے ’کلن مر جائے گا؛‘ ’امروز‘ میں کالم؛ ’حریت‘ میں ’آداب عرض؛‘ پھر حریت کے بند ہونے کے بعد جمیل الدین عالی اور میر شکیل الرحمٰن کے اسرار پر  جنگ میں آگئےاور اس میں بھی ’آداب عرض‘ کالم لکھنے شروع کیے۔ انہوں نے تکبیر کے لیے بھی ’نصراللہ کا کالم‘ لکھا جو کہ خاکے تھے۔ نوائے وقت میں ’پیر صاحب‘ کے عنوان سے لکھا۔

 نصراللہ صاحب 1947 میں ریڈیو سے منسلک ہوئے، اور ریڈیو پاکستان کے لیے بہت سے ڈرامے اور فیچر لکھے۔ ڈراموں میں’لائٹ ہاؤس کے محافظ،‘’سومنات،‘ ’ایک حقیقت چار فسانے ‘اور ’نام کا چکر‘ مشہور ہیں؛ جب کہ فیچروں میں  ’بات سے بات‘ اور’دیکھتا چلا گیا‘ نے داد پائی ہے۔

انہوں نے تین کتابیں لکھیں، کالموں کا مجموعہ ’بات سے بات‘ اور خاکوں کا مجموعہ ’کیا قافلہ جاتا ہے،‘ جس کا عنوان میر تقی میرؔ  کے اس  شعرسے لیا گیا ہے :

رنگِ گُل و بوئے گُل  ہوتے ہیں ہوا دونوں

کیا قافلہ جاتا ہے تو بھی جو چلا چاہے

حریت کے کالموں کا انتخاب (دس جلدوں میں)، ایک ڈراموں کا مجموعہ اور کتابوں پر تبصرے بعنوان ’تبصرے اور تذکرے‘ شائع ہوچکی ہیں، ان کی آپ بیتی’ایک شخص جو مجھی سا تھا‘غیرمطبوعہ ہے۔

نصر اللہ خاں صاحب کی مقبولیت بتا تی رہی کہ ان کی نصف صدی کی صحافتی کاوشوں کو عوام نے بہت سراہا۔ سرکاری اور صحافتی حلقوں سے بھی ان کے قلم کی کاٹ کا اعتراف کیا گیا۔ انہیں ’صدرِ پاکستان کا تمغہ حسنِ کارکردگی‘ ملا،  اور اے پی این ایس  اپنے سب سے پہلے ’بہترین کالم نگار‘ کے اعزاز کے لیے کسی اور کو نہیں چن سکی۔

اگر ہمیں اردو سے محبت ہے تو ہمیں اردو کے مصنفین کو یاد رکھنا چاہیے۔ کوئی ایسا بھی رسالہ ہونا چاہیے یا وبگاہ جس پر ان  مصنفین کی تحاریر ڈالی جائیں جو گزر گئے ہیں۔تعلیم کا حال ہمیں معلوم ہے۔  اردو  میں روز تبدیلیاں آرہی ہیں اس کو ابھی بہت ترقی کرنی ہے۔ اگر ہم پرانوں سے دور رہیں گے تو تختِ اردو کے پائے خشکی پر نہیں دلدل میں رکھے ہوں گے اوریہ بہت جلد اپنا  توازن کھو رہے گا۔

نصراللہ صاحب ان لوگوں میں سے تھے جو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کر کے گھر سے صرف ایک قلم لےکر نکلتے ہیں۔ ان کے قلم کی روانی ، کاٹ اور جادو سب کو  فتح  کرتے چلے جاتے ہیں ۔ میں امیر الاسلام ہاشمی بدایونی کےدو بیتوں پر جو انہوں نے نصراللہ خاں صاحب کی مداح میں کہے تھے اپنا مضمون ختم کرتا ہوں۔

ہر اک فرعون سے کی ہےلڑائی خان صاحب نے

ہزاروں سانپ مارے ہیں مگر ٹوٹی نہیں لاٹھی

صحافت کے یہ رستم ہیں، قلم گرزِ فریدوں ہے

نظر کچھ اور آتی ہے مگر کچھ اور ہے کاٹھی

                                             ۔امیر الاسلام ہاشمی بدایونی

Avatar photo

Yemeen Zuberi

Yemeen ul Islam Zuberi is an ex-journalist from Pakistan. He writes in Urdu and rarely in English. Besides essays, he also writes poetry. In Pakistan, he worked for different newspapers for 20 years. Now lives in the US.

yemeen has 22 posts and counting.See all posts by yemeen

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *