پاکستان اور علاقائی تزویراتی تبدیلیاں

ایمل خٹک

پاکستان اور افغانستان میں دھشت گردی کے خلاف جاری آپریشنوں کے نتائج اور اثرات اپنی جگہ مگر کابل اور کوئٹہ میں دھشت گردی کے حالیہ واقعات دھشت گردوں کی موجودگی، طاقت اور حملے کرنے کی صلاحیت کی غمازی کر رہی ہیں ۔ لگتا ہے کہ جنوبی اور وصطی ایشیاء میں جاری پراکسی وارز میں تیزی آرہی ہے۔

کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ھوئی صورتحال ، بھارتی وزیراعظم کا بلوچستان کے مسلے پر غیر معمولی بیان اور افغانستان اور بھارت کی بڑھتی ھوئی قربت، امریکہ کی بدلتی ھوئی ترجیحات علاقے میں قوتوں کی نئی صف بندی اور علاقائی رقابتوں کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ بھارت ، ایران اور افغانستان کی اقتصادی اور سٹرٹیجک معاہدات، امریکہ اور بھارت کی قربت اور امریکہ کی آفغانستان میں دھشت گردی کے خلاف دوبارہ فوجی لحاظ سے سرگرم عمل ھونا نئی تزویراتی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ھو رہی ہیں۔ پاکستان، چین کے علاوہ دیگر بننے والی صف بندیوں میں شامل نہیں۔ جہاں تک چین کا تعلق ہے اس کو ایک بنیا کی طرح اپنے مفادات سے سروکار ہے اور پاکستان کیلئے شاید وہ کسی اور ملک سے پنگا نہ لیں۔ چین کی افغانستان، بھارت اور ایران سے مضبوط اقتصادی تعلقات ھیں اور ھر ایک سے ان کے مختلف نوعیت کے تعلقات ہیں۔ بھارت سے سرحدی تنازعہ اور دیگر علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر اختلافات کے باوجود چین اس کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔

ایک دوسرے کو مات دینے ، نیچا دکھانے اور اقتصادی اور سیاسی ضرب پہنچانے کیلئے علاقائی قوتوں کی جانب سے پراکسیز کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پاک-افغان تعلقات میں کشیدگی اور تناؤ ختم ھونے کا نام نہیں لے رہی ہے اور حالیہ طورخم اور اب چمن کے واقعے اور کوئٹہ اور کابل میں دھماکوں کے بعد ایک دوسرے پر الزامات دونوں پڑوسی ممالک کے بیچ بڑھتی ھوئی بد اعتمادی اور چپقلش کی غمازی کررہی ہیں۔

ایک طرف اگر پاک-افغان تعلقات میں سرد مہری بڑھ رہی تو دوسری طرف بھارت-افغان تعلقات میں گرم جوشی بڑھ رہی ہے۔ آج ھم اس صورتحال سے دو چار ھیں اس کی وجہ یہ ہےکہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بردباری اور دور اندیشی سے کام نہیں لیا گیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ حکومتوں کے درمیان جو تناؤ اور کشیدگی تھی اس کو عوامی سطح تک پھیلایا گیاہے۔ اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان خیرسگالی کے جذبات کو گرہن لگ گیا ہے اور مخاصمت اور دشمنی کی جذبات روز آفزوں ھیں ۔مثلا افغان مہاجرین کو اچھے اور باعزت طریقے سے بھی واپس بھیجا جاسکتا تھا بجائے ان کو ذلت اور بے عزتی سے نکالنے کے۔ افغان مہاجرین کی تین چار نسلیں یہاں رہی ہیں ۔ بہت سے افغان یہاں پیدا ھوئے، یہاں بڑھے ھوئے اور یہاں شادیاں کی اور ان کی اولادیں پیدا ھوئی۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ بہت سے افغان مہاجرین جو یہاں پیدا ھوئے اور پلے بڑھے ان کی افغانستان سے زیادہ وابستگی پاکستان سے تھی ۔ مگر سالوں کی خدمت کو کوتاہ اور ناعاقبت اندیش پالیسیوں کے زریعے ضائع کیا گیا۔

لمحہ فکریہ یہ ہے کہ آج چار میں سے تین پڑوسی ممالک کے ساتھ ھمارے تعلقات کشیدہ ھیں ۔ سارک کے آٹھ میں سے تین اھم ممالک یعنی بھارت، بنگلہ دیش اور افغانستان نے اسلام آباد میں حالیہ وزرائے داخلہ کی کانفرنس میں کھلے عام یا دبے الفاظ میں پاکستان پر دھشت گردی کی حمایت کا الزام لگایا۔ وہ حامد کرزی جس نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملے کی صورت میں پاکستان کا ساتھ دینے کا ببانگ دھل اعلان کیا تھا آج وہ بلوچستان اور ناردرن ایریاز کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم کے حالیہ بیان جو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سمجھی جا رہی ہے کو سراہتا ہے۔ پالیسی سازوں کی صورتحال کی سنگینی کے احساس اور ادرک کا اندازہ لگائیں کہ اب بھی وہ کہتے ھیں کہ پاکستان کی سفارتی تنہائی کی باتیں غلط ھیں۔

ھاں پالیسی سازوں کیلئے یہ آسان ھے کہ تمام صورتحال کی ذمہ داری بیرونی ایجنسیوں یا دوسروں پر ڈالی جایے اور خود کو معصوم اور بے بس اور لاچار ظاھر کریں ۔ سوال یہ ہے کہ جب بیرونی ایجنسیاں یہ سب کچھ کررہی تھی تو ھمارے ادارے اس وقت کہاں تھے؟ تالی دونوں ھاتھوں سے بجتی ہے یہ اور بات ہے کہ ھمارے پالیسی ساز تالی کو ایک ھاتھ سے بجانے کی کوششوں میں مصروف ھیں ۔ اس طرز عمل کے نتائج بڑے خطرناک ھوتے ھیں۔ پاکستان آج جن داخلی اور خارجی بحرانوں اور چیلنجوں سے دو چار ہے تو اس میں اور باتوں کے علاوہ اس طرز عمل کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔

افغانستان کو دیوار سے لگانے میں، اور باتوں کے علاوہ، ھماری ناعاقبت اندیش اور غلط پالیسیوں کا بھی ھاتھ ہے۔ اب پل کے نیچے سے بہت زیادہ پانی گزر چکا ہے ۔ اب مشکل سے دونوں ممالک میں اچھے ھمسائیگی کے جذبات پروان چڑھ سکتے ھیں ۔ بہت سے مواقع ضائع ھو چکے ھیں ۔ گزشتہ چند ماہ میں جتنا نقصان ھو چکا ہے وہ شاید پچھلے اٹھاسٹھ سالوں میں بھی نہیں ھوا ھوگا۔ ھم نے ڈولی ڈانڈا کرکے افغانستان کو مخالف کیمپ میں پھینک دیا ہے۔ اس طرح اب افغانستان کی بھی ترجیحات تبدیل ھو رہی ھیں۔ اگر کسی کو یہ خوش فہمی ہے کہ طالبان یا حزب اسلامی ان کی پالیسیوں کا تحفظ کرئیگی تو یہ خام خیالی ہے نہ تو وہ 5-1994 والے طالبان ھیں اور نہ افغان جہاد کے دور کی حزب ۔ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد پاکستان کے حوالے سے طالبان کی سوچ اور فکر میں بہت بڑی تبدیلی آچکی ہے اور بہت سی چیزیں ایکسپوز ھوچکی ھیں ۔ وہ اپنے بہت سے راھنماوں کی گرفتاریوں، قید وبند کے دوران ھلاکتوں اور ان سے ناروا سلوک اور پاکستانی سرزمین پر اپنے کئی راھنماوں بشمول ملا منصور کے ھلاکتوں کے حوالے سے کافی شکوک وشبھات رکھتے ھیں۔ اپنی کچھ مجبوریوں اور مصلحتوں کی وجہ سے وہ کھلم کھلا کچھ کہنے سے قاصر ھیں مگر نجی محفلوں میں وہ بہت کچھ کہتے ھیں۔

ان دنوں افغانستان کے حوالے سے کافی سفارتی گہما گہمی نظر آرہی ہے۔ چین میں بین الا فغانی ڈائیلاگ کی انعقاد کی باتیں ھو رہی ھیں ۔ او آئی سی بھی سعودی عرب میں افغانستان کے حوالے سے بین الاقوامی علماء امن کانفرنس کے انعقاد کی تیاریاں کر رہی ھے۔ پاکستان پر طالبان کو امن مذاکرات میں شامل کرنے کیلئے بیرونی دباؤ بدستور موجود ہے۔ اور مستقبل میں مذید بڑھنے کا امکان ہے۔

افغان طالبان کی مسلسل سرپرستی کی پالیسی اب فائدے کی بجاہے نقصاندہ ثابت ھورہی ہے۔ طالبان اب اثاثہ کی بجاہے بوجھ بن گے ھیں جس کو پاکستان کا ناتواں وجود زیادہ عرصہ کندھوں پر اٹھا نہیں سکے گا۔ پاکستان کی بڑھتی ھوئی سفارتی تنہائی میں اس پالیسی کا بڑا ھاتھ ہے۔ امریکہ جس کی اقتصادی اور فوجی امداد کا ھماری قومی ترقی اور دفاعی استحکام میں بڑا رول رہا ہے ۔ اب اپنی فوجی اور اقتصادی امداد کو طالبان خاص کر اس کے ایک دھڑے حقانی نیٹ ورک کیخلاف موثر کاروائی سے مشروط کر رہی ہے ۔ سٹرٹیجک مفادات میں یکسانیت کے حوالے سے اس کی علاقے میں بھارت سے قربت بڑھنے لگی ہے۔ بھارت امریکہ کی علاقے میں تشویش اور حساسیت کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش میں ہے۔

چین کی نسبت امریکہ امداد دیتا ہے ۔ امریکہ پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ سے دھشت گردی کے خلاف آپریشنوں کے خرچے کے طور پر سالانہ اربوں ڈالر امداد دیتا ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق دو ھزار گیارہ کے بعد کئ سالوں تک پاکستان کے بیس فیصد فوجی اخراجات اس مد سے پورے ھوتے تھے۔ پاکستان اس مد میں ابھی تک چودہ ارب ڈالر وصول کرچکا ہے۔ ماضی میں کئی مواقعوں پر امریکہ نے عالمی مالیاتی اداروں میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ھوہے پاکستان کیلئے قرضوں کے مد میں آسانیاں اور سہولیات لی ھیں۔ اس سال کے بجٹ کے تخمینوں میں صرف کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں ایک اعشاریہ چھ بلین ڈالر کی آمدن شامل گی ہے ۔ اور اگر طالبان کی حمایت اور سرپرستی کی پالیسی جاری رہی تو یہ امداد معطل بھی ھوسکتی ہے ۔امریکہ کی افغانستان میں فوجی ترجیحات تبدیل ھونے سے اور دھشت گردی کے خلاف جنگ میں سرگرم حصہ لینے سے افغانستان میں اس کی فوجیوں کی ھلاکت کا سلسلہ دوبارہ شروع ھوچکا ہے۔ اور امریکی یونیورسٹی پر حملہ امریکی مفادات کو زک پہنچانے کی کوشش ھے۔

اب بھی افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی میں بنیادی تبدیلی سے کسی حد تک افغانستان کو نیوٹرالیز کیا جاسکتا ہے مگر بدقسمتی سے دور اندیشی کی بجایے اس کو ایک سیٹلائٹ یا نوآبادی سمجھنے کی سوچ ابھی تک حاوی ھے اور اب تو افغانوں کی جرات اور مجال پر اس کو سبق سکھانے کی باتیں ھو رہی ہے ۔ جہاں ھوش کے بجائے جوش سے کام لیا جا رہا ھو وہاں معاملات بگڑتے تو ھیں مگر ٹھیک کسی طور نہیں ہو سکتے ۔

Aimal Khattak

The author is a political commentator mainly covering socio-political and peace issues. He frequently comments on regional issues, especially Afghanistan. Aimal Khattak can be contacted at: aimalk@yahoo.com

aimal has 88 posts and counting.See all posts by aimal

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *