اسٹیبلشمنٹ اور ایم کیو ایم میں طلاق ؟

ایمل خٹک

ماضی قریب میں اسٹیبلشمنٹ کی چہیتی کہلائی جانے والی متحدہ قومی موومنٹ یکایک اس کی مخالف کیسے بن گئی؟ اور آیا واقعی اسٹیبلشمنٹ اور ایم کیو ایم میں طلاق ھوگئی ہے؟ اور اس طلاق کی وجوھات کیا ھیں ؟ ایم کیو ایم اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت میں کس حد تک جاسکتی ہے؟ اور آیا فاروق ستار اینڈ کمپنی نے واقعی متحدہ کے بانی الطاف حسین سے قطع تعلق کیا ہے اور یا یہ ایم کیو ایم کو بچانے کیلئے ایک نیا ٹوپی ڈرامہ ہے؟ خالصتا” سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے قائم جماعت میں متشدد رحجانات کی طرف کیوں اور کیسے مائل ھوئی؟ اور ایم کیو ایم نے مہاجر کاز کیلئے کیا کیا ہے اور مہاجر قوم کو اس کی کیا قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے؟ کیا ایم کیو ایم اور تشدد لازم و ملزم ھیں یا کیا اور سیاسی جماعتوں کی طرح وہ بھی اپنے مقاصد کے حصول کیلئے خالصتا” سیاسی اور جمہوری مروجہ طور طریقے اپنا سکتی ہے یا نہیں؟ اور موجودہ بحران کا سامنا کرنے کے بعد پارٹی کی کیا ھئیت اور ترکیب ھوگی ؟ یہ اور بہت سے ایسے اور سوالات آجکل سیاست کے طالب علموں کے ذھن پر سوار ھیں۔

ایم کیو ایم کو اس وقت شدید داخلی اور خارجی چیلنجوں کا سامنا ہے اور حالیہ چند مہینوں میں داخلی بحران کھل کر شدت سے سامنے آنا شروع ھوگیا ہے۔ایم کیو ایم کو سخت ریاستی جبر کا سامنا ہے۔ گناہگاروں کے ساتھ کئی بیگناہ افراد کو بھی رگڑا پڑ رہا ہے۔ ریاستی ظلم و جبر ایک طرف لیکن ایم کیو ایم کے اندر عرصے سے پنپنے والی اندرونی خلفشار کو اب باھر آنے کا موقع ملا ہے۔ مشکلات اور آزمائشوں کے ساتھ ساتھ یہ بحران ایم کیو ایم کو خود تنقیدی اور اصلاح احوال کے کئی سنہرے مواقع بھی فراہم کر رہی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ پاکستانی سیاست میں ایم کیو ایم کا اھم رول رہا ہے۔ پاکستان کی جاگیردارانہ اور موروثی طرز سیاست میں ایک شہری تعلیم یافتہ مڈل کلاس کی پارٹی کا ظہور اور ملک کی ٹاپ تھری یا فور جماعتوں میں اس کا شمار کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ اور یہ پاکستان کی سیاسی اور جمہوری تاریخ میں ایک بہترین کیس سٹڈی کے طور پر موجود ہے۔ بلا شبہ ایم کیو ایم نے شروع میں اپنی منفرد طرز سیاست کی وجہ سے پاکستانی سیاست میں کچھ نئے اور مثبت رحجانات شامل کئے اور اس میں بھی شک نہیں کی بعد میں سیاست میں تشدد کا رحجان جس بری طرح سے ایم کیو ایم نے متعارف کرایا اس کی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ جرائم پیشہ افراد کی سرگرمیوں کی سرپرستی یا اس کو نظر انداز کرتے کرتے ایم کو ایم کے اندر کئی منظم جرائم پیشہ افراد کے ٹولے وجود میں آگئے جو پہلے پہل وہ یا تو جماعت کے کنٹرول میں تھے اور یا آہستہ آہستہ اپنی من مانی کرنے پر اتر آئے یا خود سر ھوتے گئے ۔

اسٹیبلشمنٹ کی گود میں ایم کیو ایم کی متشدد سیاست کو تقویت ملی اور سندھ کی شہری علاقوں خاص کر کراچی میں بلا شرکت غیرے کنٹرول کیلئے منظم جرائم پیشہ گروپ بنائے۔ پارٹی کیلئے چندہ جمع کرنے ، مخالفین کو ڈرانے دھمکانے اور حتی کہ پھڑکانے کے ساتھ ساتھ ریلیوں ، جلوسوں اور جلوسوں کو کامیاب کرانا بھی ان کی ذمہ داری تھی۔ انتخابات کے وقت پولنگ بوتھ پر قبضہ، بزور بیلٹ بکس بھرنا اور انتخابی دھاندلی کے تمام طریقے بروئے کار لانا بھی ان کے فرائض میں شامل تھا۔ یہ جرائم پیشہ گروہ بعد میں اندرون پارٹی اختلاف رائے دبانے یا بانی تحریک کیلئے چیلنج بننے والے راہنماوں کو ختم کرنے کیلئے بھی استعمال ھوئے۔

داخلی اختلافات کی بھینٹ چڑھنے والوں میں ایم کیو ایم کے بانی اراکین ڈاکٹر عمران فاروق ، طارق جاوید ، ایس ایم طارق ، خالید بن ولید اور دیگر سینکڑوں راھنما اور کارکن شامل ھیں۔ اپنے متشدد رحجانات کی وجہ سے تعلیم یافتہ اور سنجیدہ مہاجر حلقے آہستہ آہستہ ایم کیو ایم سے ناراض اور بیگانہ ھوتے گئے۔ مگر ڈر اور خوف کی وجہ سے لوگ اپنے رائے کا کھلم کھلا اظہار کرنے سے اجتناب کرتے تھے۔

ایم کیو ایم کے عسکری ونگ کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں ماضی کی طرح کئی دفعہ کراچی شہر کو جام کرنے اور افراتفری پھیلانے کی کوشش کی گئ مگر ناکام۔ کیونکہ عسکری مشین کے پرزے یا تو حوالات میں ہیں یا روپوش اور ملک سے باھر فرار ھوگئے ھیں ۔ اب الطاف حسین سے لیکر عامر لیاقت حسین تک سب اپنی کھال بچانے کی فکر میں ھیں۔ البتہ فرق یہ ہے کہ اندرون ملک موجود کارکن اور راھنما بیرون ملک والوں سے زیادہ تناؤ اور دباؤ میں ہیں جبکہ بیرون ملک موجود کارکنوں اور راہنماوں پر بھی آہستہ آہستہ گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت ھوتے ھوئے بھی ایم کیو ایم نے سیاست میں قبضہ گیری، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ وغیرہ کے رحجانات کو وسیع پیمانے پر رواج دیا۔ اور اس کی دیکھا دیکھی بعض دیگر مذھبی اور سیاسی جماعتوں نے بھی آھستہ آھستہ اس روش کو اختیار کیا۔ اب صرف ایم کیو ایم ہی نہیں بلکہ دیگرجماعتوں کے کارکنوں کو بھی مجرمانہ تشدد کی لت پڑچکی ہے۔ مگر ابھی تک اس میں متحدہ کا حصہ زیادہ ہے۔ پاکستان رینجرز نے حال ہی میں جاری کردہ جاری کراچی آپریشن کی تین سالہ کاروائیوں کی وائٹ پیپر شائع کی ہے جس کے مطابق کل 848 ٹارگٹ کلرز گرفتار کیئے گئے۔ جس میں 645 کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا اور جنہوں نے 5244 افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا اعتراف کیا۔ ایم کیو ایم سے منسوب ٹارگٹ کلرز کل ٹارگٹ کلرز کے 77 فیصدی سے زائد جبکہ وہ 81 فیصدی سے زائد ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث تھے ۔

بدقسمتی سے نہ صرف مجرمانہ سرگرمیوں کی سرپرستی سے اس کی سیاسی شہرت اور ساکھ کو بہت نقصان پہنچا ہے ۔ بلکہ اس کے آزمودہ سیاسی کارکن اور راھنما بیک گراونڈ میں چلے گئے اور غیر موثر ھوتے گئے جبکہ مجرمانہ پس منظر کے حامل افراد حاوی اور موثر ھوتے گئے۔ نتیجتا ” سیاسی کارکن یا تو آھستہ آھستہ خاموش ھو گئے اور یا ان کی جماعتی سرگرمیوں میں شرکت واجبی سی رہ گئ۔ زیادہ بھتہ جمح کرانے والا ، مخالفین کو ڈرانے دھمکانے حتی کہ پھڑکانے والہ معتبر اور سیاسی انداز سیاست کی تبلیغ کرنے والہ پس پشت چلاگیا۔ خوف اور دھشت کا ماحول نہ صرف اردگرد ماحول میں بلکہ اندرون پارٹی بھی چھایا رہا۔ کئی صاحب الرائے کارکن اور راھنما اپنی رائے کی اظہار یا پارٹی کی سیاسی موقف کی مخالفت کی وجہ سے جان سے ھاتھ دھو بیٹھے۔ اس دوران پارٹی کے اندر ناجائیز زرائع سے کمانے والہ ایک طاقتور مفادی ٹولہ بھی ابھرا ہے۔ جو پارٹی کی پالیسیوں اور کام پر اثرانداز ھونے لگاہے۔ بہت سی وجوہات کی بناء پر پارٹی قیادت اپنے جائز آمدن سے زیادہ جائیداد اور بنک بیلنس بنانے والے اس طبقے کی بدعنوانیوں اور ناجائیز زرائع سے دولتمند بنے کے عمل کو نظرانداز کرتی رہی۔ اس سلسلے میں کئی راھنماوں پر انگلیاں اٹھ رہی ھیں۔

ایم کیو ایم کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے الطاف حسین کے حالیہ متنازعہ بیانات کے خلاف قومی اسمبلی میں مذمتی قرارداد پیش کرنے کے فیصلے کے ساتھ ساتھ پارٹی کے آئین میں بنیادی تبدیلی کرتے ھوئے بانی تحریک سے فیصلوں کی توسیع کا اختیار لے لیا ہے۔ اس طرح پارٹی فیصلوں کے سلسلے میں ان کو حاصل ویٹو پاور سے الطاف حسین کو محروم کردیاگیا۔ ایم کیو ایم پاکستان الطاف حسین اور لندن سیکریٹریٹ سے لاتعلقی اور الگ نظر آنے کے تاثر کو مذید پختہ کردیا گیا ہے ۔ ان کے لاتعلقی کے بیانات کو بعض ناقدین میچ فکسنگ قرار دے رئے تھے۔ اسٹیبلشمنٹ کے کچھ حلقوں میں اب بھی ان کے الطاف حسین کے بیانات کی مذمت ، معافی مانگنے اور اس سے لا تعلقی کے اظہار کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے شکوک و شبھات موجود تھے۔ جیسا کہ اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ ایم کیو ایم پر بلا شرکت غیرے کنٹرول رکھنے والے الطاف حسین کراچی رابطہ کمیٹی کو آسانی سے اختیارات نہیں دے گا۔ لندن سیکریٹریٹ نے مائنس ون فارمولے کو مسترد کردیا ھے اور پارٹی آئین میں ترامیم اور قومی اسمبلی میں الطاف حسین کے خلاف مذمتی قرارداد کی مخالفت کی ہے ۔

واسع جلیل نے کہا ھے کہ ایم کیو ایم الطاف حسین ہے اور الطاف حسین ایم کیو ایم۔ انہوں نے مذید کہا کہ قومی اسمبلی میں الطاف حسین کے خلاف کوئی قرارداد قبول نہیں کرینگے۔ لندن سیکریٹریٹ اب کھل کے فاروق ستار کے مقابلے میں آرہا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ الطاف حسین کو کسی صورت رعایت دینے کیلئے تیار نہیں اور ایم کیو ایم کی عسکری ونگ کو کو دوبارہ سنبھلنے کا موقع نہ دینے اور اس کا مکمل طور پر خاتمہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شنید یہ کہ کراچی کی معاملات پر اسٹیبلشمنٹ کی بڑھتی ھوئی گرفت کے پیش نظر شاید اب الطاف حسین کے حامیوں کو عوام کی آنکھوں میں دھول جونکنے کا موقع نہ ملے۔ بلا شبہ فاروق ستار اپنی اور ایم کیو ایم کی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ھیں ۔ سرکاری پریس ریلیز میں ایم کیو ایم لندن کا استعمال شروع ھوگیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ حلقے فاروق ستار کو موقع دینا چاہتے ھیں ۔ لیکن صورتحال جو بھی ھو ایک بات واضع ھوگئی ہے کہ ایم کیو ایم اب پرانے انداز سے چل نہیں سکتی اور اس نے اپنی بقا اور موجود گی کیلئے اپنے انداز سیاست میں بنیادی تبدیلی لانی ھوگی۔ اور تشدد کی سیاست کو خیرآباد اور دھشت گرد عناصر سے ھمیشہ کیلئے چھٹکارا حاصل کرنا ھوگا ۔ حکومت نے الطاف حسین کے خلاف ریفرنس تو برطانیہ بیجھوا دیا ہے مگر اندرون ملک اس کے اور ایم کیو ایم کے خلاف کیا کاروائی کی جائے اس سلسلے میں قانونی صلاح مشورے جاری لیکن حکومت تاحال کوئی فیصلہ نہ کرسکی۔ حکومتی فیصلے کا دارومدار ایم کیو ایم پاکستان کی الطاف حسین سے عملی اور حقیقی لاتعلقی کے مجوزہ اقدامات اور وعدوں کی ایفا پر بھی ھوگا۔

الطاف حسین کے حالیہ بیانات کے بعد حکومت نے متحدہ کے نائن زیرو سمیت سینکڑوں دفاتر کو سیل کرنے کے بعد کراچی سے کشمور تک سرکاری زمینوں اور رفاعی پلاٹوں پر غیر قانونی قائم متحدہ کے دفاتر کو مسمار کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں مثلا” حیدرآباد وغیرہ میں سرکاری عمارتوں ، چوراہوں اور متحدہ کے دفاتر سے پارٹی اور الطاف حسین کے پورٹریٹ ، پوسٹرز اور بینرز ایسے غائب ھو رہے ھیں جیسے ھا تھی کے سینگ۔ کچھ عرصہ پہلے تک جن دھشت گرد کاروائیوں یا ٹارگٹ کلنگ کا اس پر شک کیا جا رہا تھا تو ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے افراد اب اس کا اعتراف کر رہے ھیں اور کاروائی کی تمام تفصیلات ، وجوھات اور کردار سامنے آرہے ھیں۔ معلومات یا انکشافات کی اس بھرمار میں اب ایم کیو ایم کی روایتی پھرتی کام نہیں آ رہی ۔ اب بہت ساری چیزیں ایکسپوز ھوچکی ہے۔ طریقہ واردات ، وجوھات اور کردار سب کچھ اب راز نہیں رہا۔

قیام پاکستان کے فورا بعد مہاجر اشرافیہ ملک کی سیاسی ، سماجی اور معاشی میدان میں چھائی رہی ۔ سول اور ملٹری بیورکریسی میں بھی ان کو بالادستی حاصل تھی۔ اور مہاجر مڈل کلاس ملک کی سیاسی، جمہوری اور روشن خیالی کی تحریکوں میں بھرپور حصہ لیتی رہی ۔ مگر ساٹھ اور ستر کی دھائی سے مہاجر اشرافیہ کمزور ھوتی گئی اور پنجابی اشرافیہ آہستہ آہستہ ابھرنے لگی اور سیاست اور معشیت پر چھانے لگی ۔ اس طرح کسی حد تک پشتون اشرافیہ بھی ابھرنے لگی اور آہستہ آہستہ ان کا وجود بھی محسوس ھونے لگا۔ تعداد میں کم ھونے کی وجہ سے اور اپنی بقا کیلئے اس نے ابھرتے ھوئی پنجابی اشرافیہ کا ساتھ دیا۔ تعلیم کی فراوانی اور سندھ کی مقامی آبادی کو ملازمتوں میں کوٹہ محتص ھونے کی وجہ سے سندھ میں خاص کر شہری علاقوں میں ملازمتوں کیلئے مقابلہ بڑا۔ روزگار کی تلاش میں اندرون ملک معاشی مہاجرت کی وجہ سے بہت سے تعلیم یافتہ اور ناخواندہ افراد سندھ کے شہروں خاص کر کراچی میں آباد ھوئے ۔ اس طرح کراچی کے وسائل پر نہ صرف بوجھ بڑا بلکہ مختلف لسانی گروپوں میں مقابلے کی کیفیت پیدا ھوئی۔ مہاجروں میں موجود احساس محرومی اور بیگانگی ذات سے ایم کیو ایم نے فائدہ اٹھایا۔ اور ایم کیو ایم مہاجر قوم کی حقوق کی ترجمان بن گئی۔

اسٹیبلشمنٹ میں موجود مہاجر عنصر میں ایم کیو ایم کیلئے کسی نہ کسی شکل میں ھمدردی کے جذبات موجود رئے ۔ اور اسی تعلق کی وجہ سے نہ تو فوجی آمر جنرل ضیاء الحق یا بعد میں جنرل پرویز مشرف نے ایم کیو ایم پر دست شفقت رکھنے میں کوئی عار محسوس کی اور نہ ایم کیو ایم کو ان کے جائز اور ناجائز کام بجا لانے کیلئے اپنے کندھے فراہم کرنے میں کوئی جھجک محسوس ھوئی۔

جہاں تک سیاسی حکومتوں کا تعلق ہے تو انہوں نے بھی سیاسی مصلحتوں اور اسٹیبلشمنٹ کی دباؤ پر ایم کیو ایم کی من مانی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ دوران ملازمت جنرل اسلم بیگ نے بھی پی پی پی کی حکومت سازی کیلئے ایم کیو ایم کو ڈیلیور کیاتھا۔ اگر ایک طرف فوجی آمروں نے ایم کیو ایم کو اپنی اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے استعمال کیا اور ان کی ھر ممکن سپورٹ کی تو دوسری طرف ماسوائے بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے سیاسی حکومتوں نے بھی ایم کیو ایم کے متشدد رحجانات پر عمومی طور پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی۔ کراچی کی مخصوص صورتحال اور اہمیت کی وجہ سے بعض عالمی اور علاقائی طاقتوں نے بھی ایم کیو ایم سے نباہ رکھی۔ اور بعض قوتیں ابھی تک اس کی پشت پناہی کر رہی ہے۔

الطاف حسین کے ملک اور مقتدر شخصیات یا اداروں کے خلاف بیانات یا ان کے انڈیا کے ساتھ تعلقات کوئی نئی بات نہیں۔ مگر وہ ابھی جا کر اسٹیبلشمنٹ کو تشویشناک اور خطرناک لگنے لگے ھیں۔ پاکستان کی اقتصادی اور تجارتی مرکز کراچی میں بدامنی اب ناقابل برداشت ھوتی جارہی ہے۔ مغربی ممالک خاص کر امریکہ کی جانب سے اقتصادی اور فوجی امداد میں کمی اور سخت شرائط لگنے کے بعد اب متبادل زرائع کی تلاش اھم ترجیع بن گئی ہے ۔ اب مضبوط ملکی معیشت کے بغیر کام نہیں چلے گا۔ ملک کی اقتصادی ترقی اور استحکام کیلئے کراچی میں امن بہت ضروری ہے۔ اقتصادی بدحالی کے اثرات اب اسٹیبلشمنٹ کی بجٹ اور دھلیز تک پہنچ گئی ہے۔ چین-پاکستان اقتصادی راھداری کیلئے پرامن اور سازگار مہیا کرنے کیلئے ملک میں بدامنی اور دھشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔ اتنی بڑی سرمایہ کاری پرامن ماحول میں ممکن ہے ۔ سی پیک کیلئے پرامن اور سازگار ماحول بنانا چین کی اولین ترین شرائط میں شامل ہے۔

ایک سیاسی جماعت کے طور پر ایم کیو ایم سے اختلاف ھوسکتا ہے مگر اس کے سیاسی وجود کا کوئی بھی سیاسی اور جمہوری ذھن رکھنے والہ پاکستانی خلاف نہیں ۔ متحدہ کی سیاسی خدمات سے انکار نہیں مگر یہ الگ بات ہے کہ اس کی سیاست کو پارٹی میں موجود متشدد رحجانات کی وجہ گرہن لگ گیا ہے۔ اس کی جو مخالفت ھو رہی ہے یا موجود ہے وہ صرف اس کے متشدد رحجانات کی وجہ سے ھو رہی ہے۔ حتی کہ اس طرزعمل کی وجہ سے اور تو اور سنجیدہ مہاجر حلقوں میں بھی ناپسندیدگی پائی جاتی ہے۔ ایم کیو ایم ایک سیاسی حقیقت ہے لیکن اب اسے ایک سیاسی جماعت کے طور پر خالصتا” سیاسی انداز فکر اور سیاسی طور طریقے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت بیشک متحدہ کی جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ آہنی ھاتھ سے نمٹے مگر اس کے سیاسی عنصر کو دیوار سے لگانےکی بجائے اسے مثبت رول ادا کرنے کا موقع دیں۔ ان سے مذاکرات کرنے چائیے۔ اب وقت آگیا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ جرائم پیشہ افراد سے پیچھا چھڑا کے پارٹی کی سیاسی ساکھ اور شہرت کو بحال کرنے کی کوشش کرے۔ امید ہے کہ ایم کیو ایم خود تنقیدی اور اصلاح احوال کی یہ فرصت اور نادر موقع ھاتھ سے جانے نہیں دئیگی۔

Aimal Khattak

The author is a political commentator mainly covering socio-political and peace issues. He frequently comments on regional issues, especially Afghanistan. Aimal Khattak can be contacted at: aimalk@yahoo.com

aimal has 99 posts and counting.See all posts by aimal

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *