کچھ تو کرونا، اور کچھ نہ کچھ تو کرونا

ایک تو کرونا کی وبا اوپر سے رمضان کی آمد، سولہ سولہ گھنٹے کے روزے، بھلا بتائو یہ لمبے دن کیسے گزریں گے۔ روزہ تو رکھنا پڑے گا اس لیے کہ ہمارے ہاں، یعنی ہمارے گھر میں اسلامیات کمپلسری ہے۔ ویسے بھی سحر و افطار میں کچھ ایسی چیزیں رکھی جاتی ہیں کہ جن سے اگر رجوع نہ کیا جائے تو بدذوقی ہی نہیں ناشکری بھی ہوتی ہے۔ ورنہ تو صبح اٹھو ڈبل روٹی کھا لو۔ بہرحال، جو پیشانی کی ہے سو وہ تو پیش آنی ہی ہے۔ مرتے کیا نہ کرتے، ڈرتے ڈرتے شہر رمضان میں داخل ہو ہی گئے۔ اب دن کچھ یوں گزرنے لگے۔

سحری کا وقت ساڑھے چار ہے؛ بیگم صاحبہ کا ساڑھے تین بجے کا الارم ہمیں سنائی دیا۔ ایک بار سنائی دیا ہوگا، اس کے بعد وہ خواب ہو گیا۔ ہم مزے میں سوتے تھے کہ کئی بار اپنے پکارے جانے پر آنکھ کھول کر دیکھا کہ بیگم صاحبہ سرہانے کھڑی ہیں اور اٹھاتی ہیں کہ سحری کھالو۔ خیر اٹھے، منہ ہاتھ دھویا، گھڑی دیکھی کوئی چار کا عمل ہوگا۔ کھانے کے کمرے میں پہنچے، میز لگی ہوئی تھی، بچے بھی اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے، اور کھانا سحری کا جاری تھا۔ ہم بھی اپنی پلیٹ لے کر اپنی مخصوص کرسی پر براجمان ہو گئے۔ سب تازہ پکا ہوا تھا، پراٹھے، اور پراٹھا نہ کھانا چاہیں تو روٹی، آملیٹ، شامی کباب، آلو کی بھاجی، ہماری من پسند پھلیاں۔ لیکن اس سب سے پہلے تربوز، کہ کہا جاتا ہے کہ پھل پہلے کھانا چاہیے ہیں۔ کوئی سوا چار تک ہم ان تمام اشیا کے ساتھ انصاف کرتے رہے۔ اب ہوا، کہ چائے مل جائے۔ یہ لیجیے صاحب چائے بھی آ گئی۔ اب ہم اپنی چائے لے کر صوفے پر لمبے ہو گئے اور ٹی وی کھول کر خبریں دیکھنا شروع کر دیں۔

ادھر باورچی خانے سے کھڑبڑ کی آوازیں آتی رہیں۔ غالباً جتنے بھی برتن استعمال ہوئے تھے وہ صاف کرکے مشین میں رکھے جا رہے تھے۔ اب دو تین فونوں سے ازانوں کی آوازوں کے آنے پر فجر کے لیے اٹھنا پڑا۔ جلدی  سے فجر پڑھی اور ہوگئے بستر پر دراز۔ سحری کے بعد  نیند اچھی آجاتی ہے۔ بیوی وظیفہ خوانی کرتی رہتی ہیں لیکن ان سے کہہ دیا ہے کہ بتی نہ جلے، نہ کو ئی آواز ہو۔

کرونا میں کچھ کرو یا نہ کرو کچھ فرق نہیں پڑتا، اس لیے ہم بھی لمبی تان کر دن چڑھے تک سوئے۔ اٹھے ہونگے تو کوئی گیارہ تو بج رہا ہوگا۔ ’کیا کیا جائے‘ کا میرے ساتھ تو مسئلہ ہی نہیں ہے۔ میں ہوں، بقول شخصے، ’روٹین دا بندہ۔‘ یعنی مجھے کیا کرنا ہے عام طور پر طے ہوتا ہے۔ سب سے پہلے تو میں نے اٹھ کر اپنا سیل  فون پکڑا اور اِدھر کی اُدھر کرنے لگا، آپ سمجھ گئے یعنی جو میسیج مجھے اچھا لگا اسے آگے بڑھا دیا، سمجھے، نہیں سمجھے یعنی فارورڈ  کردیا۔ آدھا پونا گھنٹا اسی طرح سے نکل گیا۔ اب لمبی نیند کا خمار بھی ٹوٹتا لگا اور کچھ ہوش بھی آنے لگا۔ خیر اٹھے منہ ہاتھ دھویا، ذرا تازگی کا احساس ہوا، اب حسب معمول ٹی وی دیکھنے کی سوچی۔

ہماری ساس صاحبہ ٹی وی لاونج میں آتی ہیں تو برتنوں کی مشین میں ضرور جھانکتی ہیں، باورچی خانہ ساتھ لگا ہے، اور ان کے خیال میں کچھ برتن سہی طور پر نہیں رکھے گئے، وہ انہیں درست کر  دیتی ہیں، اپنے طریقے پر، اب ہم آتے ہیں تو ہم بھی گھرکے کاموں میں سب کے ساتھ حصہ لینا چاہتے ہیں۔ ایک دن یونہی احساس ہوا کہ برتن مہرے ہیں اور ٹرے بساط اور ہم اور ہماری ساس گویا شطرنج کی چالیں چلتے رہتےہیں جب تک  کہ کوئی آکر مشین چلا نہ دے۔ تو ہم پہلے مشین پھر ٹی وی کی طرف جائیں گے۔

اگر ہم دنیا کی تمام معلومات بر وقت نہ حاصل کریں تو زندہ رہنے اور انسان ہونے کا کیا فائدہ، میرا تو یہی کہنا ہے۔ خیر  صاحب ٹی  وی  چلایا، روکو (یہ ایک  برقی مشین ہے جو  مختلف چینل ہم تک پہنچاتی  ہے، اگر آپ جادو سے واقف ہیں تو یہ اسی طرح کی شے ہے)، پہلے کچھ پاکستانی خبریں  چلائیں، پانچ چھ منٹ تک چلتی رہیں، اس دوران میں میں اپنا سیل  فون بھی دیکھتا جا رہا تھا۔ جب وہ موسیقی  جس سے خبروں کے ختم ہونے کا اعلان ہوتا ہے ہوئی تو ٹی وی کی طرف دیکھا۔ اب دماغ میں  الجھائو یہ پڑا کہ خبریں دوبارہ  دیکھوں یا کچھ اور کروں، لیکن یہ  سوچ کر کہ آج کل خبروں میں رکھا ہی کیا ہے، چلو الجزیرہ دیکھتے ہیں، شاید کوئی خاص بات ہو۔ الجزیرہ والا بولتا رہا پرمیں اس پر ٹکر لائین پڑھتا رہا۔ ایک چیز میں ضرور بتائوں گا کہ ان کی خبر پٹی جو چلتی ہے تو اس میں ایک خبر تو روز ہی ہوتی  ہے وہ یہ کہ الجزیرہ  کے ایک صحافی کی مصری جیل میں بغیر الزام کے قید میں اب اتنے دن ہوگئے ہیں، سب ملا کے کوئی تین سال ہوگئے ہیں۔ میں ویسے گالی کبھی نہیں دیتا لیکن جب یہ خبر آتی ہے تو پھر میں رمضان کی پروا کیے بغیر مصر کے السیسی کو ایک بڑی سی گالی دل ہی دل میں دیتا ہوں۔ اس کے بعد وہاں موسم اور کرکٹ شریف وغیرہ کی خبریں ہوتی ہیں۔

اِدھر کی خبریں یہ ہیں، اب بیگم صاحبہ نے سلائی کی مشین پکڑلی ہے اور ہمیں ان کی کھڑ کھڑ اب برداشت کرنا ہی پڑ رہی ہے۔ ہمارے علاقے کی خواتین نے خود ہی ایک کام اپنے سر لے لیا ہے، وہ کرونا ماسک، یعنی نقاب ، مفت بانٹنے کے لیے تیار کرتی ہیں۔ چلو نیکی کر رہی ہیں کچھ کہنا ٹھیک نہیں۔ اچھا، اب میں دیکھوں گا سی این این۔ یہاں بھی عجب معملہ ہے، اس کا پورا نام ہے کیبل نیوز نیٹ ورک۔ اب اگر مخفف دیکھیں تو اردو میں سنن بن سکتا ہے؛ اور اگر نام دیکھیں تو اردو میں کنن ہوگا۔ کس کس چیز کو روئیں۔ جب یہ سب ہو گیا تو ہم نے ہندی مووی لگا دی، وقت اچھا کٹ جاتا ہے۔

اب یہ لیں، ابھی مووی  شروع ہوئے کچھ خاص عرصہ نہیں گزرا ہوگا کہ تمام سیل فونوں سے ازانیں شروع ہو گئیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ، ’چلو جماعت کر لیتے ہیں۔‘ اس وقت ہماری کیفیت یہ ہے کہ ہر ایسے نیک و بد خیال کی مخالفت کرنے کا جی چاہتا ہے جس میں ’کرونا‘ یا ’کچھ کرونا‘ موجود ہو۔ اوران تجاویز پر جن میں ’پڑے رہنے‘ کی تبلیغ نہ ہو۔ اب سب کو اکھٹا کیا جانے لگا۔ پتا نہیں لوگ رمضان میں بھی چین سے نہیں بیٹھتے، کوئی صفائیاں کر رہا ہے، اکثر اپنے کمپیوٹروں سے چپکے بیٹھے ہیں،  گھر سے کام کررہے ہیں۔ غرض جمع ہوئے  نماز  ہوئی، سب پھر اپنی اپنی جگہ جا لگے۔ بیگم صاحبہ سپارا ختم کرنے میں مشغول ہو گئیں۔ اور ہم فلم۔ اب کچھ کوفت سی  محسوس ہونے لگی۔ ایک بات یہ سچ ہے کہ کھانا پینا، توانائی کو تو بحال کرتا ہی ہے، لیکن یہ کوفت کو بھی کم کرتا ہے۔ میرزا غالب بھی کہا کرتے تھے کہ میں روزہ بہلاتا ہوں، لوگ سمجھتے ہیں کہ روزہ نہیں رکھتا۔ ہم اتنے خوش قسمت کہاں،  یہاں تو سب کی انگلیاں اٹھیں گی۔ قسمت کا یہ ہے کہ جس دن کہتے ہیں کہ آج شکر بڑھی ہوئی لگ رہی ہے اسی دن وہ سہی نکلتی ہے۔

اب  ہوگیا صاحب صفائی کا وقت،  کوئی شریف انسان اس وقت اس جگہ نہیں رہ سکتا کیونکہ اب چلیں گے ویکیوم کلینر، جھاڑو اور جھاڑنیں۔ دھول کے اٹھیں گے مرغولے۔ ویسے تو آج کل نقاب ہر وقت ہی جیب میں رہتا ہے، لیکن دھول میں بیٹھنا کچھ  مناسب نہیں لگتا، ویسے بھی  اب ہمیں اپنا کمپیوٹر کھول لینا  چاہیے کہ اخبار اور ای میل وغیرہ  بھی دیکھنا چاہیے۔ وقت اچھا کٹ جاتا ہے۔ تو ان لوگوں کو صوفوں اور پردوں کے ساتھ دھول دھپا کرتے چھوڑ  کر ہم نے تو اپنی راہ لی۔ بازاری زبان میں، کونا پکڑا۔

اپنے حساب سے ہم خاصی دیر ای میل، اخبارات اور مختلف وبگاہوں پر  پڑا مواد دیکھتے رہے۔ خیال رہے کہ اس اثنا میں سیل فون پر آنے والے پیغامات کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ اب تک ہمارا دن خوب مصروف جارہا تھا، کوئی بھی اتنا مصروف رہے تو تھک کر چور تو ہو ہی جائے؛ تھک تو ہم بھی گئے تھے۔ کچھ کسلمندی سی ہونے لگی۔ نیند کا جھونکا بھی آیا۔ روزے میں نیند کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ برابر کے کمرے میں صاحب زادے آن لائین میٹنگ کر رہے تھے۔ ان کا دروازہ بھیڑ دیا اور اپنا بند کر لیا۔ پنکھا اور چلا لیا کہ مزید آوازیں دب جائیں۔ آنکھوں پر اندھا چڑھا کر چادر، بلکہ لحاف تان کر ہم تو منٹ بھر میں خواب خرگوش کے مزے لوٹنے لگے۔ پتا نہیں کتنی دیر سوتے رہے۔ جب اٹھے ہیں تب بھی اٹھنے کا جی نہیں چاہ رہا تھا۔ لیکن اسی وقت ہمارے والے کے علاوہ ہر سیل فون نے ازان دینی شروع کردی۔

مرتے کیا نہ کرتے، یہاں کہہ سکتے ہیں اٹھتے کیا نہ کرتے۔ غرض چار ٹکریں ماریں۔ نیند سے ابھی تک دماغ متاثر لگتا تھا۔ خیر اب تو اٹھ ہی بیٹھے تھے۔ ٹی وی  کے سامنے آن پہنچے۔ لیکن جم کر بیٹھنے سے پہلے واشنگ مشین میں اپنی چالیں چلنے کے بعد۔ اب ٹی وی ویوی لگایا، ادھر ادھر مختلف چینل دیکھتے رہے۔ لیکن باورچی خانے کی کھڑبڑ نے تنگ کر رکھا تھا۔ کچھ بوئیں بھی آرہی تھیں جو خوامخواہ روزے کا احساس دلا رہی تھیں۔ گرائنڈر تو لگتا تھا ہمارے ہی بھیجے کو پیس رہا ہے۔  اسی وقت ایک صاحب زادے اندر آئے اور بتایا کہ انہوں نے دو کاروں کا تیل  تبدیل کر دیا ہے۔ ہم بھی گیراج تک گئے، کچھ دیر کاروں کو دیکھتے رہے۔ پھر ان حضرت سے کہا انہیں کسی دن دھو بھی دینا۔

اب وقت کم ہوتا جا رہا تھا اور مقابلہ سخت سے سخت۔ اب ہم اپنے کمرے میں اپنے کمپیوٹر پر جا بیٹھے، کچھ ای میلیں دیکھیں، کچھ خبریں۔ بعد اس کے ہم نے سالیٹیر کھیلنا شروع کیا۔ خاصی دیر اس سے الجھے رہے کبھی اسے مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے تو کبھی نہیں۔ جب تنگ آگئے تو تنگ آمد بجنگ آمد کے مصادق شطرنج کھول لی۔ اب معرکہ شروع ہوا۔ ہم شطرنج کمپیوٹر سے کھیلتے ہیں، کمپیوٹر سے کھیلنے کا فائدہ یہ ہے کہ آپ اگر ہار جائیں تو یہ اپنی فتح کا باجا بجا کے چپ ہو لیتا ہے؛ آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی برتری نہیں جتاتا۔ اور یہ ہار جائے تو باجا آپ کے لیے بجتا ہے اور یہ آپ کے ہنسنے اور ہوا میں مکے اچھالنے کا برا بھی نہیں مانتا، یا بقول کسی کے برا نہیں مناتا؛ ہم مناتے ہیں اپنی ہار کا غم۔ جنگ کے معاملات میں ہم ہمایوں بادشاہ کی طرح ہیں، پڑھا ہے کہ وہ شہ مات پر شہ مات کھاتا رہا لیکن امید کا دامن نہیں چھوڑا اور ایران چلا گیا، خیر ہم تو ایران نہیں جاتے لیکن سالیٹیر پر چلے جاتے ہیں۔ ہمایوں بعد میں ہندوستان آ کر کامیاب ہو گیا تھا، ہمیں بھی یقین تھا کہ جب واپس ہوں گے تو کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔ ہم اپنی شکستوں کو چھپا نہیں رہے ہیں کیونکہ سب ہی سمجھ سکتے ہیں روزوں کی مشقت کے بعد نڈھال انسان بھلا کمپیوٹر کا کیا مقابلہ کرے گا۔

سوال اٹھا، کہ اب کیا کیا جائے؟ خیر کچھار سے نکلے، باورچی خانے کی طرف گئے، ٹی وی کا سوچا، پھر باہر موسم دیکھنے کا خیال آیا۔ باورچی خانے میں خوب کام ہو رہا تھا، افطاری بن رہی تھی۔ ہمیں تو لوگوں کو محنت کرتے دیکھ کر ہمیشہ ہی اچھا لگتا ہے۔ کوئی کچھ کر رہا ہے کوئی کچھ کر رہا ہے، لیکن اس سے پہلے کسی کی نظر ہم پر پڑے اور خواہ مخواہ اس کے دل میں خیال آئے کہ ہم بھی کسی کام کے ہوسکتے ہیں ہم باہر جا کر دہلیز کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئے اور اِدھر اُدھر نظر گھمانے لگے۔ ہاتھی نکل چکا تھا لیکن دم باقی تھی۔ سارا دن نکل گیا لیکن یہ والا وقت نہیں نکل سک رہا تھا۔ بار بار سیل فون دیکھا، حالاں کے جدید ہے لیکن اس پر بھی وقت بڑھ کر نہیں دے رہا تھا، لیکن ہم نے بھی سن رکھا ہے کہ وقت ایک سا نہیں رہتا، یا  وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ اور ایسے محاورے بھی ذہن میں آنے لگے کہ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔

کاو کاوے وقت کٹا، اب جو ازانیں گونجی ہیں تو ہم اور ہمارا دل دونوں ہی فرت جذبات سے کہہ اٹھے، اور تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلائو گے۔ اور شاید میر اسی رمضان کے مغرب کے  وقت کے لیے کہہ گئے ہیں، غیرت یوسف ہے یہ وقتِ عزیز ۔ میرؔ اس کو رائگاں کھوتا ہے کیا۔ ایک تو میر کی نصیحت اور دوسرے علمائے کرام کی فضیحت، دونوں کا بھرم رکھنا ضروری سمجھتے ہوئے ہم نے نعرہ لگایا، ’کھجور۔ روزہ مکروہ نہ ہوجائے!‘ ایک کھجور لے کے ہماری طرف آیا، دوسرا شربت کا گلاس، تیسرا پھلکیاں۔ ہم نے کمال صبر کو داد دیتے ہوئے پہلے ایک کھجور لی، پھر شربت چڑھایا اور آخر میں پھلکیاں کھاتے ہوئے اور بہت کچھ اپنی پلیٹ میں ڈال لیا۔ جلدی میں ہم یہ بتانا بھول ہی گئے تھے کہ اس دوران میں ہم میز پر اپنی نشست پر بیٹھ چکے تھے۔ دسترخوان پر کیا کچھ تھا جو افطاری تھا اور کیا کچھ کھانے میں آنے والا تھا، صبح کا حال بتا چکے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر نظیر اکبر آبادی کا مصرع یاد آتا ہے، سو نعمتیں کھا کھا کے پلا ریچھ کا بچہ۔ یہ مصرع ہم اونچا نہیں بولتے۔  ایک بار بول گئے تھے تو سب ہماری ہی طرف دیکھنے لگے۔ ہم سمجھ گئے کہ ان لوگوں میں ابھی حس مزاح اتنی پیدا نہیں ہوئی۔ خیر اب ہوا نماز کا چرچا۔ ہم بھی کھڑے ہو گئے۔ اس میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے، صاحب نماز پڑھنے والا سب کی نظر میں معتبر و محترم ہو جاتا ہے؛ اور داڑھی والے نمازی کی بات تو کچھ اور ہی ہے۔ خیر نماز اور پھر کھانا بھی ہوگیا۔

اب ہم صوفے پر ٹی وی کے سامنے لیٹ گئے۔ اب ایک نشہ جو سب ہی پر روزہ کھول کر چڑھتا ہے چڑھا، فی البدیہہ یہ ہوا، بس کہ نعمت کا چڑھا ہے یہ  سرور  ۃ   کون کہتا ہے کہ پی ہے میں نے۔ دن لمبا ہونے کی  وجہ سے عشا بھی دیر لگاتی ہے۔ کچھ دیر بیٹھے رہے، لیکن برداشت کی بھی ایک  حد ہوتی ہے۔ اٹھے اور یہ کہتے ہوئے، ’کوئی حرج نہیں،‘ نماز ادا کی۔ اب جو بستر پر جا کر لیٹے ہیں تو پھر صبح اگر اللہ نے نہیں اٹھا یا تو بیگم موجود ہیں۔ شاید اسی کو کہتے ہیں آسمان کا گرا کھجور میں اٹکا۔ 

Yemeen Zuberi

Yemeen Zuberi

Yemeen ul Islam Zuberi is an ex-journalist from Pakistan. He writes in Urdu and rarely in English. Besides essays, he also writes poetry. In Pakistan, he worked for different newspapers for 20 years. Now lives in the US.

yemeen has 19 posts and counting.See all posts by yemeen

One thought on “کچھ تو کرونا، اور کچھ نہ کچھ تو کرونا

  • July 23, 2020 at 1:46 pm
    Permalink

    Yameen ul Islam Zuberi sb ne aisay waqt keh jub Corona nay poray alam ko daboch rakha hay, halkay phulkay andaz men likh Kar hum par ahsan kiya.

    Bohat khoob Yameen sb

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *