بس اب کوئی کیچڑ نہ اچھالے فوج پر

فاروق احمد

بس میاں ہم تو بھر پائے … ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے … جسے دیکھو موٹر وے آپریشن کو لے کر فوج کو تختہ مشق بنائے بیٹھا ہے۔۔۔ اوئے کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔۔۔ فوج اس ملک کی مائی باپ ہے، گاڈ فادر ہے، فوج نے اس ملک کی سلامتی کیلئے قربانیاں دی ہیں اور ان کے عوض فوج کو یہ ملک جاگیر میں مل گیا ہے۔۔۔ میرے بچپن کے دوست نے اٹھارہ سال فوجی وردی میں اس ملک کی حفاظت کی ہے، تم بلڈی سویلینز گھوڑے بیچ کر چین کی نیند اس لیے سو پائے کہ میرے بچپن کا دوست اوراس کے ساتھی محب وطن فوجی جاگتے رہے۔۔۔ اور تم سویلینز ہو کہ کبھی ہم پر چوکیدار کی پھبتی کستے ہو تو کبھی سیکورٹی گارڈ کا آوازہ کستے ہو۔۔۔ برادرِ عزیز اگر فوجی نہ ہوتے تو یہ ملک نہ ہوتا، فوج نے بچایا اس ملک کو ٹوٹنے سے، تباہ ہونے سے، بکھرنے سے۔۔۔

 

لیکن تم بلڈی سویلینز کیا جانو اس ملک کی تاریخ۔۔۔ ارے بھائی یہ ملک بنایا ہی فوج نے تھا۔۔۔ جناح صاحب جیسے سیاستدان تو بھاڑ جھونکا کرتے تھے۔۔۔ پاکستان کا تصور بھی تو اقبال کا اپنا نہیں تھا، اپنے ایک فوجی پڑوسی سے مستعار لیا تھا اقبال نے۔۔۔ کشمیر جتنا آج آزاد ہے یہ بھی جنرل گریسی کا احسان ہے، جناح جیسے کوتاہ اندیش سیاست دان کی جو مان لیتے تو جتنا کشمیر آج ہمارا ہے اتنا بھی نہ ہوتا۔۔۔

 

آج کی جنریشن لاعلم ہے کہ آج تک اس ملک میں جو بھی بہتری آئی وہ فوج کی وجہ سے آئی۔۔۔ جتنی کامیابیاں ملیں فوج کے مرہونِ منت ملیں۔۔۔ بنگال بوجھ تھا، اس کو کاٹ پھینکا فوج نے۔۔۔ سیاچن پر گھاس بھی نہیں اگتی تھی، یہ کہہ کرسیاچن انڈیا کو اور قوم کو حوصلہ دیا فوج نے۔۔۔ اس کے برعکس ناکامیاں اور شکستیں دیں سیاست دانوں نے۔۔۔ نئی نسل نے وہ تصویر بھی نہیں دیکھی ہوگی جس میں صاف نظر آتا ہے کہ سنہ اکہتر میں لیفٹننٹ جنرل اروڑہ کے سامنے بھٹو نے کس بے شرمی سے ہتھیار ڈالے تھے، بعد میں فوج کے خلاف سازش کے تحت سوشل میڈیا پر را کے ایجنٹوں نے بھٹو کا چہرہ فوٹو شاپ کی مدد سے ہٹا کر جنرل نیازی کا چہرہ لگا دیا۔۔۔ بنگالی لڑکیوں کو بے حرمت کرنے کا حکم بھی بھٹو نے دیا تھا، جنرل نیازی نے لاکھ روکا تھا مگر بھٹو نہ مانا لہٰذا بنگالیوں میں پاکستانی سیاستدانوں کے خلاف نفرتیں پھیلیں اور پاکستان ٹوٹ گیا۔۔۔ ادھر بدمعاش غدار اور پاکستان دشمن سیاستدان مجیب الرحمٰن نے یحیی خان سے وعدہ کیا کہ اگر جنرل یحیی فیریکس اور سیریلیک پینا چھوڑ کر وہسکی پیا کرے تو علیحدگی کے مطالبے سے دست بردار ہوجاؤں گا۔۔۔ فوجی جنرل یحیی خان نے پاکستان بچانے کیلئے قربانی دی اور فیریکس چھوڑ کر وہسکی پینے لگا۔۔۔ اب بتاؤ ایک جنرل اپنے ملک کی یکجہتی اور سلامتی کیلئے اس سے زیادہ اور کیا کرے۔

 

سوشل میڈیا پر را کے ایجنٹوں کی بھرمار ہے۔۔۔ ایسے لوگ جو فوج کے خلاف لکھتے ہیں وہ فطرتاً کمینے ہوتے ہیں۔۔۔ نہ صرف وہ بلکہ ان کے آبا ؤاجداد بھی۔۔۔ ان کی ماؤں اور بہنوں کی تو۔۔۔ ان کے خاندان غدار اور خون غلیظ ہوتا ہے جب ہی تو وہ فوج پر کیچڑ اچھالتے ہیں، تنقید کرتے ہیں۔۔۔

 

اب خود ہی سوچو کہ فوج پر تنقید تو صرف وہی کرسکتا ہے ناں، جس کی رگوں میں میر جعفر اور میر صادق کا خون ہو۔۔۔ خود ہی سوچو کہ فوج پر انگلی اٹھانے والوں کی ماو?ں اور نانیوں دادیوں میں میر جعفر کا خون کہاں سے آیا۔۔۔ فوج اس ملک کی مالک ہے، فوج برتر ہے باقی سب تیسرے درجے کی مخلوق۔۔۔ فوج کو اختیار ہے کہ جب چاہے آئین توڑے، یا سویلینز کو رگید ڈالے۔۔۔ یہ فوج کا حق ہے۔۔۔ اب اس کے باوجود چند ننگِ وطن اور غدار وطن لوگوں کے خیالات کس قدر بیہودہ ہیں۔۔۔ اب یہ درجِ ذیل آرٹیکل ہی پڑھ لیجئے۔۔۔ اور سوچیے کہ ایک سویلین کی یہ مجال کیونکر ہوئی کہ فوج سے اس طرح مخاطب ہو۔۔۔

 

ہمیشہ یاد رکھیئے کہ یہ ملک فوج کے باپ کی جاگیر ہے۔۔۔ فوج برتر ہے باقی سب ٹکے ٹکے کی مخلوق۔۔۔ لعنت بھیج کر پڑھیئے اس بلڈی سویلین کی ہرزہ سرائی۔۔۔ اور فیصلہ کیجئے کہ توہینِ افواج کی بھی کیا وہی سزا نہ ہونی چاہیئے جو توہینِ رسالت کی ہوتی ہے۔۔۔ لکھتا ہے کہ ۔۔۔۔

 

”یہ کم بخت احساس برتری بھی بڑا ہی ظالم مسخرہ ہے۔۔۔ ظالم یوں کہ ذہنی عارضے میں مبتلا کرتا ہے اور مسخرہ یوں کہ مریض کو احساس نہیں ہونے دیتا کہ کیسی کیسی بونگیاں سرزد ہو رہی ہیں۔۔۔ ڈی این اے والے بھی اس بارے خاموش کہ کون کون سی جینز اس عارضے کی ذمے دار۔۔۔ کئی استعمال بھی کر دیکھیں، گھٹنوں سے پھٹ بھی گئیں پر کچھ نہ ہوا البتہ ایک بارجب خاکی پہنی تو مزاج نوری ہو چلا۔۔۔ غیر خاکی مخلوق کیڑوں مکوڑوں سی لگنے لگی۔۔۔ ایک غبار سا نظروں میں چھا گیا۔۔۔ پھر کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگا کہ ہو نہ ہو اس خاکی سے اس نوری مارکہ احساسِ برتری کا کوئی ربط ہے ضرور۔ایک دوست تھا اچھا خاصہ صحیح الدماغ۔۔۔ پانچ برس ایبٹ آباد کے خاکی اسکول میں گزار کر لوٹا تو اسے بھی اسی مرض میں مبتلا پایا۔۔۔ حقارت سے دیکھتا، ابے یار کی جگہ ”یو سویلین“ پکارتا۔۔۔ پھر مزید تین سال سرگودھا گزار کر پلٹا تو یو سویلین کے درمیان انگریزی کا مزید ایک لفظ شامل کر دیا۔۔۔ نظام پان والے سے پوچھا اردو میں اس کا مطلب۔۔۔ کچھ دیر سوچ کر بولااردو میں تو خونی بنتا ہے کہ اردو میں بلڈ کو خون کہتے ہیں۔ دل باغ باغ ہوا کہ دوستی کا رشتہ خون کے رشتے میں ڈھال لایا اپنا یار۔ عجب ہے یہ خاکی بھی کہ اپنی فطرت میں ہی نوری ہے۔۔۔ نور برستا ہے امڈتا ہے۔۔۔ پھر جو ایسا ہو تو خود کو عقل کل نہ سمجھے پھر تو کرے بھی کیا۔۔۔ خاکی والے کو اپنا اور اپنے ساتھ سب ہی خاکی پوشوں کا وجود دیوتائی معلوم ہوتا ہے۔اچھا صاحبو بہت ہوا۔۔۔ بہت ہوگئے اشارے کنایئے۔۔۔ اپنا یہ انداز نہیں رہا۔۔۔ کھدر کے عادی ہیں لکھنوی اچکن چبھتی ہے۔۔۔ میاں لکھو تو کھل کر لکھو ورنہ اپنا مکا اپنے جبڑے مار لو۔۔۔ کہنا یہ تھا کہ کیڈٹ کالجوں میں ایسی کوئی تربیت ضرور دی جاتی ہے جس سے برتری کا گھمنڈ پیدا ہو جاتا ہے۔۔۔ میں سب سے برتر، میرا پیشہ برتر، میرا مقام برتر، میرا عمل برتر، میرا فرمایا برتر، میرا وژن برتر، میرا رتبہ برتر، میرا خون برتر، میری سوچ برتر، میری ذہنی اپروچ برتر، میری قربانیاں برتر، میری جدوجہد برتر، میری محنت برتر، میری جفا کشی برتر، میری تربیت برتر۔۔۔۔ اور تم سب تم سب تم سب کرپٹ، جاہل، بزدل، کم ہمت، مفاد پرست، دولت پرست، بکاؤ، وطن فروش، سیکورٹی رسک، ننگِ وطن، کم رتبہ، باتوں کے شیر، بلڈی سویلینز۔۔۔ فوجی بھایؤ۔۔۔ ٹھیک ہے کہ تم سرحدوں پر ہوتے ہو، دشمن کا سامنا کرتے ہو، کومبیٹ میں حصہ لیتے ہو۔۔۔ لیکن یہ مت بھولو کہ تمہیں اس قومی دولت، قومی سرحدوں، قومی وسائل، قومی اثاثوں، اور اس قوم کی حفاظت کا ذمے داری دی جاتی ہے جس کو کمانے، بنانے، تعمیر کرنے، اسے حفاظت کے لائق بنانے میں تمہارا کوئی حصہ نہیں۔۔۔ تم ان سیکورٹی گارڈز کی طرح ہو، جو ساری ساری رات مستعدی سے جاگ کر بنکوں کی حفاظت کرتے ہیں۔۔۔ لیکن کیا آج تک کسی گارڈ نے یہ کہا ہے کہ اگر ہم حفاظت نہ کرتے تو بنک لٹ جاتے۔۔۔ فوجی بھائیو، اگر بنک نہ ہوتے، بنکوں میں سولیینز کی کمائی ہوئی اتنی زیادہ دولت نہ ہوتی اور اس دولت (جو کہ ظاہر ہے کہ تم گارڈز نے نہیں کمائی) کی حفاظت کی ضرورت پیش نہ آتی تو نہ تمہارے لیے گارڈز کی نوکریاں نکلتیں، نہ تم سیکورٹی گارڈ بنتے اور نہ ہی بنک کے مالکان تمہیں اپنی کمائی میں سے تمہارے لیے وردیاں سلوا کر دیتے۔۔۔ اس لیے اپنی اوقات مت بھولو، اور اپنا یہ احساسِ برتری اور گھمنڈ کہیں پچھواڑے میں دبا آؤ۔۔۔ ہم تمہاری اسی طرح عزت کرنا چاہتے ہیں جس طرح ہم اس وطن کی تعمیر میں حصہ لینے اور اسے قابلِ حفاظت بنانے والے ہر ایماندار کی کرتے ہیں۔۔۔ لیکن۔۔۔ اگر تم اپنے لیے کوئی بلند تر مقام زبردستی چھیننا چاہو گے تو ہماری جوتی ہوگی اور تمہارا سر۔۔۔ بندوق کے بل پر تو کوئی بھی چنگھاڑ سکتا ہے، خود کو برتر جان کر اور دوسروں کو حقیر جان کر عزت نہیں دہشت کمائی جاتی ہے اور دہشت کمانے والا وطن کا سپاہی نہیں دہشت گرد کہلاتا ہے۔۔۔ ہاں ایک بات اور۔۔۔ ہم سے اپنی عزت کروانا چاہتے ہو تو ہمارے آئین اور قانون کی عزت کرو”۔۔

 

مضمون آپ نے پڑھا۔۔۔ یہی نہیں اس کمبخت سے آگے بھی بہت کچھ لکھا ہے۔۔۔ لکھتا ہے

“کہ جنرل صاحب شکریہ والے نے چھ ستمبرکی تقریر میں اپنے مینڈیٹ سے بڑھ کر بات کی، خارجہ پالیسی میں مداخلت کی، پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات پر حکومت کو ڈکٹیشن دی اور اس طرح اپنے حلف، حدود اور آئین سے تجاوز کیا۔۔۔ اب دیکھئے یہ انتہائی بیہودگی ہے کہ آرمی چیف کو بتایا جائے کہ اسے کیا نہیں کرنا چاہیئے۔۔۔ آرمی چیف ڈکٹیشن نہیں دے گا تو کیا وزیراعظم دے گا۔۔۔ ان سویلینز کی آخر اوقات ہی کیا ہے۔۔۔ یعنی ہم فوجیوں کے ٹیکسوں پر یہ سویلینز پلیں اور ہم انہیں ڈکٹیشن بھی نہ دیں۔ یہ فوج ہی تو ہے جو اس ملک کو اپنے پیسوں سے چلاتی ہے۔ جی جناب اگر آپ نہیں جانتے تو جان لیجئے کہ اس ملک میں آدھے سے زیادہ کاروبارِ معیشت فوج کے دم سے ہے (دم پر پیش نہ لگایئے)۔۔۔ ہم فوجی مویشی منڈیاں اور شادی گھر چلاتے ہیں، پٹرول، کارن فلیکس، کھاد، دلیہ بیچتے ہیں۔۔۔ بنک، اسکول، ہسپتال اور ٹرانسپورٹ کا دھندا کرتے ہیں۔۔۔ رئیل اسٹیٹ کا بزنس کرتے ہیں، ڈی ایچ اے اور عسکری کے پلاٹ بیچتے اور خریدتے ہیں، آرمی، نیوی، فضائیہ کی ہاؤسنگ اسکیمیں بناتے اور بیچتے ہیں۔۔۔ لاکھوں ایکڑ کی زرعی اراضی ہمارے پاس ہے۔۔۔ ایک طرح سے یہ ملک ہماری جائیداد ہے۔۔۔ تو اگر سول حکومت پر کنترول ہم نہیں رکھیں گے تو کیا یہ بلڈی سویلین رکھیں گے۔”

 

میں نے تمام حقائق آپ کے سامنے رکھے، اس لیے نہیں کہ آپ کو قائل کروں۔۔۔ اس کی تو میں ضرورت ہی نہیں سمجھتا۔۔۔ آپ پسند کریں یا نہ کریں میری بلا سے۔۔۔ میں اور میری فوج جو چاہیں گے کر ڈالیں گے، ہمیں روکنے والا کوئی مائی کا لال ابھی پیدا نہیں ہوا۔

 

مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ تم بلڈی سویلینز کی صفوں میں کیسے کیسے احسان فراموش اور ناعاقبت اندیش گھسے بیٹھے ہیں جو فوج پر تنقید کرتے ہیں۔۔۔ اس فوج پر کیچڑ اچھالتے ہیں جس پر تنقید کرنا توہینِ رسالت سے کم جرم نہیں۔ اب اسی احمق موٹروے پولیس اہلکار کی ہی مثال لیجئے۔۔۔ اس حرام خور اجاڑ صورت کو جس وقت یہ پتا لگا کہ قانون توڑنے والے دونوں افراد فوجی افسران ہیں تو اسے کان پکڑ ناک رگڑ ماتھا ٹیک ایک طرف ہوجانا چاہیئے تھا۔۔۔ جب اہم آئین کو پھاڑ کر پھینک سکتے ہیں تو ٹریفک قانون کی کیا اوقات۔۔۔

 

کسی کمی کمین بلڈی سویلین کو حق نہیں کہ وہ اس ملک کے مالکوں کو چیلنج کرے۔ میری تجویز ہے کہ جب بھی کسی فوجی افسر کی سواری گزرا کرے تو پورے ملک کا ٹریفک بند ہوجایا کرے۔۔۔ فوجی ہیروز کی عزت کے سامنے بیس کروڑ کمی کمینوں کی عزت کی کیا اوقات۔۔۔

 

Farooq Ahmad

آج کل ایک پبلشنگ ادارہ چلانے کی مصروفیت ہے۔ کسی زمانے میں نوائے وقت میں کالم لکھے ، پی ٹی وی کے لیے ڈرامہ سیریل ایڈ ونچر ٹائمز تحریر کی۔ گوادر کے تناظر میں ایک اسپائی فکشن ناول بھی لکھا۔ ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے گہری وابستگی رہی۔ روزی روٹی کیمیکل فیکٹری سے حاصل ہوتی ہے--------------------@AtlantisFarooq

farooq has 3 posts and counting.See all posts by farooq

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *