کیا پاکستان میں کوئی بڑی تبدیلی متوقع ہے؟

تحریر: یمین الاسلام زبیری

کہتے ہیں کہ سناٹا کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوتا ہے. یہ سناٹا جو ہمارے میڈیا پر رمضان سے چھایا ہوا ہے کیا کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے؟ ہو سکتا ہے کہ بہت سے لوگوں نے محسوس ہی نہ کیا ہو کہ سناٹا ہے. اس میں ان کا کوئی قصور نہیں، دنیا کے اور مسائل اس قدر ہیں کہ کچھ تو یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ، زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے. میں نے محسوس کیا کہ رمضان کے کسی دن سے ہمارے چینل سیاسی خبروں پر تبصروں کی بجائے معاشرتی مسائل پر بحث کر رہے ہیں. میں شوق سے ڈان کا ‘ذرا ہٹ کے’ دیکھتا ہوں، اس کے علاوہ میں شاہد مسعود یا ‘نیوز آئی’ بھی دیکھ لیتا ہوں. اتنے بھی دیکھ پائوں تو بہت ہے . پرگرام بہت ہیں اور وقت کم. تو میں کہہ رہا تھا کہ ‘ذرا ہٹ کے’ میں جو کچھ زیر بحث آ رہا ہے وہ سکول کے آعلی کار کردگی دکھانے والے بچے،ٹرانس جنڈر، کڈنی سینٹر جیسے موضوعات ہیں. نیوز آئی میں چاند اور فواد چودہری.

ہاں حسن نثار حزب دستور گرج چمک رہے ہیں لیکن وہ صرف نواز اور زرداری کو لتاڑ رہے ہیں، وزیرستان پر خاموش ہیں۔ مبشر لقمان حسن نثار کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر تے پائے گئے۔ اسی طرح شاہد مسعود بھی عوام کو کچھ نہ کچھ دینے کی کوشش کر تے نظر آتے ہیں، اور انہوں نے صاف الفاظ میں یہ کہہ بھی دیا ہے کہ وہ سیاست پر نہیں بولیں گے۔ کیوں؟ یہ انہوں نے نہیں بتایا۔

اس سب سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خبروں کا بلیک آئوٹ ہے۔ جب خبروں کا بلیک آئوٹ ہوتا ہے تو عوام ایسے ذرائع ڈھونڈ نکالتے ہیں جہاں سے انہیں خبریں ملیں۔ اس وقت بی بی سی پاکستان سے متعلق خبروں کا ایک بہت اہم ذریعہ ہے۔

یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ خبروں پر بلیک آئوٹ کی ایک اہم وجہ صوبہ خیبر میں چل رہی پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) ہے۔ پختون خواہ کے بارے میں خبروں پر پہلے ہی سے پابندی تھی لیکن اب حالات اور دگرگوں ہو گئے ہیں۔ بی بی سی، جو اپنی مصدقہ خبروں کے بارے میں مشہور ہے، اپنی ایک خبر میں جو اس نے آئی ایس پی آر سے اپنے ایک انٹرویو کے بارے میں چلائی ہے، کہا ہے کہ، خیبر پختون خواہ میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر پائمالی ہو رہی ہے۔ آئی ایس پی آر نے اس خبر کی تردید جاری کی ہے اور اسے بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ بی بی سی پر اس سلسلے میں بہت سی اور بھی خبریں موجود ہیں۔ جو پاکستان کی فوج کے داعوں کے بالکل خلاف ہیں۔ یہاں جگہ اور وقت کی کمی اجازت نہیں دیتی کہ ان خبروں پر تبصرہ بھی کیا جاوے۔

پشتون تحریک سے متعلق حالیہ شمالی وزیرستان میں ایک فوجی چوکی پر ہونے والے واقعات بڑی اہمیت رکھتے ہیں جن میں محسن داوڑ اور علی وزیر کے نام سر فہرست آتے ہیں۔ یہ پشتون تحریک کے اسمبلی ممبر ہیں۔ اور اب گرفتار ہیں۔ میں تفاصیل سے گریز کروں گا کہ سب چھپ چکا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستانی میڈیا کو ریاستی اداروں کی طرف سے پشتون تحریک کا موقف نشر کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ پشتون تحریک کے بارے میں یہاں اس سے زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے؛ سب جانتے ہیں یہ ایک پر امن تحریک ہے۔ لیکن اس کے مطالبات جو رائو انوار کے مقدمے سے شروع ہوئے تھے اور پھر بڑھتے چلے گئے فوج کے مفادات سے ٹکراتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ فوج رائو انوار کو تحفظ فراہم کرنا چاہتی ہے کیونکہ وہ اپنے انواری قسم کے لوگوں کو پیغام دینا چاہتی ہے کہ ان کی پشت پناہی میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ اس بات کی تصدیق اس سے بھی ہوتی ہے کہ ایک حالیہ پریس کانفرنس میں فوج کے ترجمان جناب غفور نے ایک صحافی، سلیم صافی، کے رائو انوار کے سلسلے میں سوال کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا یا وہ دے نہیں پائے۔

پشتون تحریک اور اس سے متعلق واقعات سے الگ، اسلام آباد اور لاہور میں ہونے والے واقعات پاکستان کے سیاسی منظر پر ایک اور رنگ چڑھا رہے ہیں۔ حزب مخالف کی تمام جماعتوں نے مل کر عمران خان کی حکومت کے خلاف ایک متحدہ محاذ بنا لیا ہے۔ جلد ہی شوال میں ہی ایک عظیم الشان مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔ ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کو گرانا نہیں چاہتے ہیں لیکن حکومت کی نااہلی کو منظر عام پر لانا چاہتے ہیں۔ وہ اپنا لائحہ عمل بھی تیار کریں گے۔

پاکستان کے مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ معیشت کا ہے۔ آئی ایم ایف کے قرضے سے ملک چل رہا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ عمران خان نے قرضہ لیا ہے، لیکن اس سے پہلے والی حکومتیں بھی قرضوں ہی پر چل رہی تھیں۔ پاکستان کے شروع کے دنوں سے ہی، جب ایک ڈالر دو رپے کے برابر تھا، معیشت کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ جو کچھ بھی صنعتی میدان میں ہوا ہے وہ سب کا سب نجی سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے۔ بھٹو نے صنعتوں کو قومیا کے انہیں سخت نقصان پہنچایا تھا۔ شروع سے اب تک جو کچھ بھی ہوا اس کی وجہ سے موجودہ حکومت کو دنیا بھر سے بھیک مانگنا پڑ رہی ہے۔ پیٹرول کی قیمتیں بڑھا کر کمی پوری کرنی پڑ رہی ہے۔

حزب مخالف کے ہاتھ میں اس وقت، اس کے اپنے حساب سے، خراب معیشت کی شکل میں عمران کی دکھتی رگ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں حکومت غیر مقبول ہوچکی ہے اور ایک دھکے کی دیر ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ فوج جو ہر معاملے میں دخل انداز ہے اس وقت پشتون تحریک کی وجہ سے دبائو میں ہے۔ گویا یہ بہترین موقع ہے کہ ایک تحریک شروع کی جائے۔ اس تحریک کے نتیجے میں انہیں نیب کی ہنگامہ آرائی سے نجات مل جائے گی۔ نیک نامی حاصل ہوگی اور کچھ عرصے تک ان کا ہاتھ سب پر بھاری ہوگا۔ بہت کچھ سوچ کر انہوں نے اپنے اختلافات بھلا دیے ہیں۔

فوج اس وقت پشتون تحریک کے دبائو میں ہے۔ یہ سچ ہے۔ اگر فوج دبائو میں نہ ہوتی تو بی بی سی کی خبروں کو اس شدت کے ساتھ رد نہ کرتی۔ مذید اس کی شہادت فوج کا اپنے بجٹ میں کمی کا اعلان ہے۔ اور اس اعلان سے بھی کہ اس کمی سے جو بچت ہوگی وہ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان پر خرچ کی جائے گی۔ یہ اعلانات دبائو کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔

قائد اعظم کہہ گئے تھے کہ فوج سیاسی قیادت کے زیر انتظام کام کرے گی لیکن ایوب خان کے بعد سے فوج بے لگام ہوتی ہی چلی گئی اور اس کا ہر معاملے میں دخل ملک کے ہر شعبے میں تباہی کی بنیاد بنا ہے۔ اس وقت جرائم کی شرع، تعلیم و صحت کی صورتحال، اور معیشت کی حالت کسی سے چھپی ہوئی نہیں، اور سب جانتے ہیں کہ ہم سے اور ہماری فوج سے الگ ہونے والا بنگلہ دیش اس وقت ہم سے بہتر ترقی کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی فوج باقی تمام ممالک کی افواج کی طرح سیاسی قیادت کو ہی قیادت مانتی ہے۔ ان کا ڻکا اوپر جا رہا ہے۔

اس وقت حزب اختلاف ان تمام منفی نکات کو مکانکی مفاد کے اصول پر استعمال کرنا چاہتی ہے اور ایک ملک گیر تحریک چلانا چاہتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ ان کے اس وقت کے، اور ان کے اپنے خیال میں بروقت کے، اقدام کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں فوج ایک بہت مضبوط ادارہ ہے۔ اس کے پاس اتنا سرمایہ رہتا ہے کہ وہ ایسے ماہرین پر خرچ کر سکے جو اس کو درست سیاسی مشورے دے سکیں، اور فوج کے مفاد کو دھچکہ نہ لگنے دیں۔ ان کے لیے اس وقت، جیسا کہ اوپر بھی ذکر ہوا ہے، بی بی سی اور باہر کے دوسرے نشریاتی ادارے مشکل پیدا کر رہے ہیں۔ پاکستان کے اندر ان کا خبروں کو روکنے کا غیر دانشمندانہ فیصلہ ان کے لیے خاصی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ کتنی، کہہ نہیں سکتے۔ یاد رہے کہ فوج کے ترجمان جناب غفور صاحب اپنی ایک پریس کانفرینس میں یہ ارشاد کرچکے ہیں کہ، اگر میڈیا آزاد ہوتا توبنگلہ دیش نہ بنتا۔ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ قول و فعل میں تضاد کے کیا معنی ہوتے ہیں۔

حزب اختلاف کے اقدام کے ممکنہ نتائج یہ ہوسکتے ہیں کہ فوج اپنی طاقت میں کچھ کمی پر راضی ہوجائے۔ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں حالات کچھ بہتر ہوجائیں۔ رائو انوار کو سزا ملے۔ لیکن، فی الحال، فوج اپنی طاقت پھر بھی برقرار رکھے گی۔ البتہ اس کا زوال شروع ہوسکتا ہے۔

اس سب کا مطلب یہی ہوا کہ حزب اختلاف کے ہنگامے سے ملک میں بہتری آسکتی ہے۔ شرط یہی ہے کہ ہنگامہ ذوردار ہونا چاہیے، بھلے حزب اختلاف کے مقاصد کچھ بھی ہوں۔ جہاں تک عمران خان کی حکومت کا تعلق ہے اس کا قائم رہنا ہی اس ملک کے حق میں ہے، اگرچہ حزب اختلاف کی پوری کوشش ہوگی کہ وہ عمران کی حکومت کو اڑا دے۔

Yemeen Zuberi

Yemeen ul Islam Zuberi is an ex-journalist from Pakistan. He writes in Urdu and rarely in English. Besides essays, he also writes poetry. In Pakistan, he worked for different newspapers for 20 years. Now lives in the US.

yemeen has 14 posts and counting.See all posts by yemeen

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *