اے ایس ایف اور  کوڑیوں کے دام زمین

تحریر: یمین الاسلام زبیری

کچھ زیادہ دن نہیں گزرے کہ عمران خان نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ پاکستان کے پاس زمین کی شکل میں ایک بہت بڑی دولت موجود ہے۔ اگرچہ ایسا کہنے سے ان کا مقصد تھا کہ ہم دبئی کی طرح شہر اور صنعتی علاقے بسا کر باہر والوں کو زمین بیچ سکتے ہیں اور ایک خطیر رقم کما سکتے ہیں۔ زمین کی قیمت نے ہمارے ہاں قبضہ مافیا کو عمران کے آنے سے بہت پہلے ہی متاثر کر رکھا تھا۔ وہ ہماری سونے کے بھائو کی زمیں کو کوڑیوں کے مول حاصل کر کے کروڑوں بنارہے ہیں۔ اس سلسے میں اگر ہم انگریزی کا جملہ ‘فری فار آل’ استعمال کریں تو یہی ہورہا ہے۔ ہر وہ آدمی اور ہر وہ ادارہ جس کے پاس ذرا سی بھی طاقت، سیاسی یا عسکری، ہو وہ سب سے پہلے زمین پر قبضے کے لیے نکل پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں تازہ ترین انکشاف ایر پورٹ سیکیورٹی فورس کے شمالی کراچی میں سرجانی ٹائون کے قریب زمین کے بڑے ٹکڑوں پر قبضے کا ہے۔

ایرپورٹ سیکیورٹی فورس کے قبضے کے بارے میں رپورٹ دیتے ہوئے پاکستان کے ایک صف اول کے اخبار نے اس سلسلے میں بہت سے ملوث لوگوں کی پول کھولی ہے۔ یہ بھی بتایا ہے کہ اے ایس ایف افسران اعلی نے اس سلسلے میں سوال کرنے پر بہت برا مانا۔ یقیناً ان کا زعم ضعیف نہیں۔

تفصیلات کے مطابق اے ایس ایف کے مبینہ طور پر دو تعمیراتی منصوبے جاری ہیں۔ ایک کا نام ہے عریبئن وسٹا اور دوسرا ہے سائمہ عریبئن ولاز۔ عرب کا نام غالباً یہ تاثر دینے کے لیے لگایا گیا ہے کہ اس میں کوئی عرب ادارہ شرکت رکھتا ہے۔

کوئی بارہ سال پہلے ایک ادارہ جس کا نام ورلڈ گروپ پاکستان ہے، نے چاکرو کچرا کنڈی کے علاقے میں  زمین کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں پر قبضہ کرنا شروع کیا تھا۔ لگتا ہے کہ انہیں خیال آیا کہ اگر وہ کسی مضبوط حامی کے ساتھ نہیں رہیں گے تو ان کا یہ منصوبہ جلد ہی پکڑا جائے گا، سو انہوں نے ایسا حامی ایرپورٹ سیکیورٹی فورس کی شکل میں ڈھونڈ نکالا، یا انہیں قسمت سے مل گیا۔ ورلڈ گروپ کے مالک کا نام محمود ٹرنک والا ہے۔ محمود نے کوئی بارہ سال میں چھوٹے چھوٹے پلاٹوں پر قبضہ کر کے یہ زمین حاصل کی تھی۔ انہوں نے سائمہ بلڈرز کے مالک کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا۔ اسی طرح انہوں نے ایک اور آدمی شیرو، جو زمین پر قبضہ کا ماہر تھا، اس کو بھی ساتھ ملا لیا۔ ایسے ہی اور لوگوں کو بھی ساتھ ملایا گیا اور زمین کی لوٹ کھسوٹ مچائی گئی۔ لیکن جلد ہی انہیں اپنے اس پروگرام کو قوت بخشنے کی سوجھی اور انہوں نے ائر پورٹ سیکیورٹی فورس کو ساتھ ملا لیا۔ اے ایس ایف کے ملنے سے چت بھی اپنی تھی اور پٹ بھی اپنی۔ اب اے ایس ایف اس کو اپنی رہائشی اسکیم بتا کر اپنی وب گاہ پر کھلے عام بیچ رہی ہے۔ اس کا نام ہے اے ایس ایف عریبین وسٹا۔

اے ایس ایف اور سائمہ عریبئن ولاز ۲۷۰ ایکڑ عراضی پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ سپر ہائی وے سے متصل ایک اے ایس ایف سٹی بھی ہے جو کے پلان کے مطابق ۳۰۰۰ ایکڑوں پر بسایا جائے گا۔

اس کہانی کی تفاصیل بہت ہیں جو ہم کبھی اور بیان کریں گے۔ یہاں ہم ان اہم ناموں کو البتہ ضرور دیں گے جو اس سارے معاملے میں کسی نہ کسی طرح لیے جا رہے ہیں۔  پہلا نام ہے بریگیڈیر عمران الحق راو کا یہ اے ایس ایف کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل رہے ہیں۔ انہوں نے مذکورہ تفتیش پر سندھ بلڈنگ اتھارٹی کو سخت خط لکھا کہ اور تفتیش رکوانے کی کوشش کی۔ محمود ٹرنک والا، ورلڈ گروپ پاکستان کے مالک تھے اور مذکورہ زمین کے اصل قابض تھے۔ سندھ کے چیف منسٹر [۲۰۰۷] ارباب رحیم انہوں نے مبینہ طور پر محمود ٹرنکوالا کی اس قبضے میں مدد کی۔ سلیم زکی مرحوم سائمہ بلڈرز اور سائمہ عریبئن ولاز کے اصل مالک تھے۔ مذکورہ علاقے میں زمینوں پر قبضہ کرنے والا شیرو۔ ایک نام ہے رٹائرڈ پولیس کے سپاہی افضال کا جس نے ٹرنکوالا خاندان کو مدینہ، سعودی عرب، کا اقامہ دلوایا ہے۔ میجر جنرل سہیل احمد کا بھی نام آتا ہے، یہ اب رٹائر ہیں، انہوں نے مذکورہ پراجکٹس کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اے ایس ایف کے رٹائر ہونے والوں کی دال روٹی کے لیے ہونگے۔ ایم کیو ایم کے بابر غوری بھی کسی نہ کسی طرح اپنا نام بھی اس فہرست میں لے ہی آئے ہیں۔

Yemeen Zuberi

Yemeen ul Islam Zuberi is an ex-journalist from Pakistan. He writes in Urdu and rarely in English. Besides essays, he also writes poetry. In Pakistan, he worked for different newspapers for 20 years. Now lives in the US.

yemeen has 14 posts and counting.See all posts by yemeen

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *