ایکسٹینشن اور ٹینشن

تحریر: ایمل خٹک 
پاکستان کے علاوہ دنیا میں شاید کوئی اور ملک ایسا ھو جہاں فوجی سربراہ کی تعیناتی کے حوالے سے اتنی دلچسپی پائی جاتی ھو اور کسی فوجی افسر کی تعیناتی یا ملازمت میں توسیع عوامی سطع پر زیر بحث آتی ھو۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تعیناتی یا ملازمت میں توسیع کے فیصلے کے حوالے سے مین سٹریم اور سوشل میڈیا پر بحث اور مباحثہ خلاف معمول بات نہیں ۔ اس فیصلے کی حمایت اور مخالفت میں بہت کچھ کہا اور لکھا جارہا ہے ۔ اس موضوع پر وسیع بحث سے اس بات کا بھی اظہار ھوتا ہے کہ توسیع یا تعیناتی اب خالصتا فوجی امر نہیں رہا بلکہ اس کے سوشیو – پولیٹیکل پہلو بھی اھم ھیں ۔
یہ فیصلہ غیر متوقع بھی نہیں تھا کچھ ماہ سے اس حوالے سے بحث ھورہی تھی اور رائے عامہ کا جاھیزہ لینے کیلئے فیلرز چھوڑے جارہے تھے ۔ ایک طرف کچھ حلقے اس فیصلے کو جواز فراھم کررہے ھیں اور سراہا رہے ھیں تو دوسری طرف کچھ صاحب الرائے حلقے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کررہے ھیں اور ماضی کے ایسے فیصلوں کا حوالہ دیکر اس کے ممکنہ منفی اثرات کی جانب توجہ دلا رہے ھیں ۔
اس فیصلے کے داخلی پہلو کے ساتھ ساتھ خارجی پہلو بھی بہت اھم ہے مگر یہاں اس پر بحث مقصود نہیں۔ اداروں پر عوامی بحث و مباحثے سے پریشان ھونے کی بجائے اس کو مثبت انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ بحث او مباحثے میں جوابدہی کا پہلو اھم ھوتا ہے ۔ اداروں کو عوامی موڈ کا پتہ چلتا ہے ۔
پاکستان میں چیف آف آرمی سٹاف کے تقرری کے حوالے سے میرٹ کی دھجیاں اڑانے والی دو ناپسندیدہ  روایات پنپ چکی ہے ۔ ایک تو سیئنر ترین افسر کی بجائے سینارٹی لسٹ میں کم سئنیئر افسر کو فوجی سربراہ بنایا جاتا ہے اور کئی سینیر افسران کو بائی پاس کیا جاتا ہے . ماسوائے جنرل پرویز کیانی کے جو میرٹ پر چیف آف آرمی سٹاف بنا زیادہ تر سینئیر افسران کو بائی پاس کرکے سربراہ بنے ۔ مثال کے طور پر موجودہ آرمی چیف کی پہلی تعیناتی کے وقت چار سینئیر جرنیلوں کو بائی پاس کیاگیا۔ دوسرا ملازمت میں توسیع بھی روایت بن رہی ہے ۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے چار بار ، جنرل  ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف نے تین تین بار اور جنرل پرویز کیانی نے ایک بار توسیع لی۔ فوجی سربراہ کی ملازمت میں ایک ایکس ٹینشن سے سینکڑوں افسران کی ترقی کا عمل متاثر ھوتا ہے ۔
سیاسی تاریخ کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو پاکستانی فوج نے جب بھی اپنی خالصتا فوجی کردار کی نسبت دیگر غیر پیشہ وارانہ کاموں خصوصا سیاست میں مداخلت اور حصہ لینے کی وجہ سے ھمیشہ عوامی بحث اور مباحثے کو دعوت دی ہے ۔ اور بعض اواقات عوامی غیض و غضب کا سامنا بھی کیا ہے ۔ شاذو نادر کسی فوجی افسر اور خصوصا فوجی سربراہ کے ملازمت میں توسیع کے حوالے سے کسی نے عدالت سے بھی رجوع کیا ھو ۔ پشاور ھائی کورٹ میں توسیع کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے اور پاکستان بار کونسل نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔  ماضی قریب میں جسٹس افتخار چودھری نے ملازمت میں توسیع پر پابندی کا فیصلہ دیا تھا ۔
 کئی فوجی آمروں نے ملک کو راہ راست پر لانے اور گند صاف کرنے کی ٹھانی تھی ۔گند صاف ھوا یا نہیں مگر ان کی ناعاقبت اندیش اور غلط پالیسیوں نے ملک کو تباہی اور بربادی کے دھانے پر پہنچا دیا ۔ پہلے فوج برائے راست اقتدار پر شب خون مار کر براجمان ھوتی تھی اب پردے کے پیچھے سے معاملات چلا رہی ہے ۔ اور پہلے کی نسبت عمل دخل بڑھ گیا ہے ۔ اب بھی ھر قیمت پر ملک کی معیشت اور سیاست کو صیع رخ پر ڈالنے کا عزم نمایاں ہے ۔ گذشتہ تین سالوں کے پولیٹیکل انجینیرنگ کا تجربہ سامنے ہے ۔ جس کے اثرات آھستہ آھستہ ظاھر ھورہے ھیں ۔
خالصتا پیشہ وارانہ سرگرمیوں کی نسبت دیگر امور خصوصا سیاست میں بڑھتی ھوئی مداخلت سے فوج کے کئی شعبوں مثلا انٹلی جنس اور تعلقات عامہ وغیرہ کا معاشرے میں کردار بھی بڑھ رہا ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ کردار محسوس ، نمایاں اور قومی اداروں کا جانبدارانہ رول واضع ھوتا جارہا ہے ۔ ادارے اب واضع طور پر کسی ایک سیاسی فریق کے حامی یا مخالف نظر آرہے ھیں ۔ اس وجہ سے اب عوامی سطع پر مخالف نعرے اور دبے دبے اور کھلے انداز میں مخالفت بھی عام ھوتی جارہی ہے ۔
جنگ چاہے میدان جنگ میں ھو یا میدان سیاست میں پلان یا منصوبے اور اس پر عمل کرانے میں میں فرق ھوتا ہے۔ عمل کے اپنے ڈائنامکس ھوتے ھیں ۔ اور ھمیشہ منصوبہ بنانے اور اس کو عملدرامدکرانے والے افراد مختلف ھوتے ھیں۔ اسطرح منصوبے پر عملدرامد مخصوص شرائط میں ھوتی ہے ۔ اور شرائط میں معمولی تبدیلی نتائج پر اثرانداز ھوسکتی ہے ۔ ایسا طرح منصوبے کی کامیابی کیلئے ضروری ھوتا ہے کہ وہ کتنا حقیقت پسندانہ اور معروضی اور موضوعی شرائط سے مطابقت رکھتا ہے ۔
اب گیند اداروں کے کورٹ میں ہے ۔ اور یہ اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے آئینی مینڈیٹ کے اندر رہ کر کام کرنا چاہتی ہے اور یا مینڈیٹ سے مبرا ، وہ غیر جانبداری کے اصول پر قائم رہتی ہے یا کسی ایک سیاسی فریق کی حامی ، وہ پیشہ وارانہ کام کو فوقیت دیتی ہے یا غیر پیشہ وارانہ سرگرمیوں میں غیر ضروری طور پر ملوث ھونا چاہتی ہے ۔  اگر ادارے اپنے آئینی مینڈیٹ کا احترام نہیں کرئیگی اور غیر پیشہ وارانہ امور میں دلچسپی لے گی اور اگر ایمپائر کسی ٹیم کے بارھویں کھلاڑی کی طور پر کھیلے گا تو ٹینشن تو پیدا ھوگا ۔ اگر کوئی کھلاڑی اورز مکمل ھونے کے بعد بھی کھیلے گا تو ٹینشن تو پیدا ھوگا ۔ ادار ے متنازعہ بھی بنیں گے اور ان کے کردار کے حوالے سے سوالات بھی اٹھیں گے ۔

Aimal Khattak

The author is a political commentator mainly covering socio-political and peace issues. He frequently comments on regional issues, especially Afghanistan. Aimal Khattak can be contacted at: aimalk@yahoo.com

aimal has 89 posts and counting.See all posts by aimal

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *