جری حزب اختلاف کی بیباک اے پی سی

تحریر: یمین الاسلام زبیری

عوام کو عوامی نمائندے ہوں گے تو کچھ ملے گا

اتوار، ستمبر ۲۰، ۲۰۲۰، کو پی پی پی کے ایما پر بلوائی گئی حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کا جلسہ ہوا۔ سب ہی بڑی بہادری سے بولے۔ نواز شریف نے سب سے آگے بڑھ کر عمران حکومت کے لانے والوں کو للکارا۔ موجودہ حکومت کو گرانے میں تمام ہی شرکا نے پیچھے نہ ہٹنے کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے اگلے قدم کی بات کی کہ ایک لائحہ عمل کے تحت سہ مرحلہ تحریک شروع کی جائے گی۔ اس لائحہ عمل پر اگلے مہینے، اکتوبر، سے کارروائیاں شروع ہونگی؛ دسمبر میں ملک بھر میں عوامی جلسے، جلوس اور احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے اور جنوری ۲۰۲۱ میں ایک فیصلہ کن لانگ مارچ، یا اسلام آباد پر چڑھائی کر دی جائے گی۔

اس موقع پر بلاول نے تقریر کرتے ہوئے ایم آر ڈی کی تحریک، ۱۹۸۱ تا ۱۹۸۸، کا حوالہ دیا کہ ایسی ہی کامیاب مہم چلائی جائے۔ انہوں نے ایسی دوسری کامیاب مہمات اور تحاریک کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ ۱۹۶۹ میں پی پی پی نے بھٹو کی رہبری میں ایوب کے خلاف کامیاب مہم چلائی تھی؛ بھٹو کے خلاف پی این اے کے نو ستاروں نے ۱۹۷۷ میں کامیاب مہم چلائی تھی۔ مشرف کے خلاف کوئی باقائدہ نام کے ساتھ مہم نہیں چلی البتہ پی پی پی اور ن لیگ نے اس کے خلاف ایک احتساب کی مہم سی چلائی تھی۔ خود عمران خان نے کنٹینر تحریک چلائی۔

متذکرہ تحاریک میں سے دو تو فوجی حکمرانوں، ایوب اور ضیا، کے خلاف تھیں اور دو منتخب ضمہ داران بھٹو اور نواز کے خلاف تھیں۔ اب اگر تحریک چلتی ہے تو وہ بھی ایک منتخب جمہوری اور ضمہ دار حکومت کے خلاف ہوگی۔

ان تمام مہمات کے نتائج ایسے ضرور نکلے جیسے ان کے چلانے والے چاہتے تھے، لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ ملکی معیشت کو اور عوام کو کچھ نہیں ملا۔ نہ تو زرعی شعبہ میں اور نہ ہی صنعتی شعبہ میں، نہ ہی مقامی بلدیاتی سطح پر؛ ایک اہم بات سمجھنے کی یہ ہے کہ چونکہ عوام کو کچھ نہیں ملا اس لیے ملک کی معیشت زوال پزیر رہی۔

مہمات کیوں؟

ایک بہت بڑا سوال یہ ہے کہ آخر کسی بھی ملک میں حزب مخالف سڑک پر عوام کو نکال کر مہمات کیوں چلاتی ہیںَ؟

اس بہت بڑے سوال کی ایک بہت بڑی وجہ جو سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ حزب مخالف سے منسلک لوگوں کو ان کے مفادات کے حصول میں شدید رخنا پڑرہا ہوتا ہے۔ یا موجود مواقع میں ان کو حصہ لینے سے روک دیا جاتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی واضع ہوتی ہے کہ حکومت میں آنے کا عزم رکھنے والے اپنے مفادات کے حصول کے لیے ہی انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔ یعنی سیاستدان خود غرض ہوتے ہیں۔ وہ انتخابات جیتنے کے لیے عوام دوست نعرے ضرور لگاتے ہیں۔

کوئی سوال اٹھا سکتا ہے لیکن یہ ہرگز بری بات نہیں ہے۔ جمہوریت کی کامیابی انہیں خود غرض عناصر کے مرہون منت ہوتی ہے۔ یہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف بناتے ہیں اور ایک دوسرے پر نگاہ رکھتے ہیں نتیجتاً عوام کا فائدہ ہوتا ہے۔ اس بات کو لمبا کر کے بیان کیا جا سکتا ہے لیکن یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ پھر بھی امریکہ میں کاروں پر ایمیشن پابندیاں اور ڈاکٹروں کے سخت امتحانات ایسے ہی کچھ نتائج ہیں۔

پاکستان ایک ناکام معیشت ہے۔ بینک دولت پاکستان کے شماریات کے مطابق سن ۲۰۲۰ میں ہماری برآمدات ۲۲ٗ۵ بلین رہیں جب کہ درآمدات ۴۴ٗ۵ بلین۔ ۲۲ بلین کا خسارہ بتا رہا ہے کہ ملک میں صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں کتنی کم ہیں۔ کیوں کم ہیں؟ کیا انہیں کم رہنا چاہیے؟ ان کی ترقی کے لیے کیا کیا جانا چاہیے؟ ان کے کم ہونے پر کسے الزام دینا چاہیے؟ اور اگر یہ بڑھ نہیں رہیں تو ملک کیسے چل رہا ہے؟ قرضوں پر؟ تو پاکستان قرضے کیسے حاصل کر لیتا ہے؟ یہ اور بہت سے سوالات ذہن کو جھنجھوڑ  رکھ دیتے ہیں۔

ملک میں امن و امان کی صورت حال بھی کچھ اچھی نہیں۔ حکیم سعید اور رئیس امروہوی سے لے کر امجد صابری اور اس کے بعد بھی کتنے ہی شرفا قتل ہوئے۔ کوئی سراغ نہیں ملتا۔ اور سراغ مع ثبوت کے ملتا بھی ہے تو انصاف نہیں ملتا اور راؤ انوار جیسے لوگ اب تک انصاف کے منتظر ہیں۔ بلوچستان سے غائب ہونے والوں کا کوئی سراغ نہیں۔

بین الاقوامی تعلقات میں بھی ہم مستقل نقصان اٹھا رہے ہیں۔ اگر ہم مضبوط ہوتے تو مودی کو کشمیر میں ہاتھ پاؤں پھیلانے کی ہمت نہ ہوتی۔

عمران خان اس وقت کے وزیر اعظم ہیں۔ ان کی سب بڑی بات جو مانی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کو شہرت چاہیے اور نہ دولت کی خواہش ہے۔ یہ سب ان کی جیب میں پہلے ہی سے تھا۔ ان کا اپنا کہنا ہے کہ وہ صرف بدعنوانی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ کیسی اچھی بات ہے۔ ایسا ہو جائے تو ملک جنت بن جائے۔

عجیب لگنے والئی بات میں یہ کہوں گا کہ ایسا شخص جسے عزت، دولت اور شہرت نہیں چاہیے تو ایسے شخص کے کوئی مفادات نہیں؛ اسے سیاست میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے کہ وہ کسی معاشی گروہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام نہیں کرے گا۔ وہ معیشت سے متعلق قوانین لانے میں یکسر ناکام ہوگا۔

آپ لال بہادر شاستری کی مثال دے سکتے ہیں کہ وہ ایسے سیاستدان اور وزیر اعظم تھے جن کے پاس کچھ نہیں تھا۔ لیکن یہ نہ بھولیں کہ وہ آل انڈیا کانگریس سے تھے، اور کانگریس کے ارکان کی نمائندگی کرتے تھے اور ان کے مفادات کا تحفظ کرتے تھے۔ وہ خاص طور پر کسانوں کی بہبود کے لیے مشہور رہے۔ لیکن بڑے زمینداروں اور صنعتوں کو نظرانداز نہیں کیا۔

کسی سربراہِ حکومت کی سمت اس کے وزیروں سے سمجھ میں آتی ہے۔ عمران خان کے تمام ہی وزیر پرویز مشرف کے دور میں کوئی نہ کوئی عہدہ لیے ہوئے تھے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کس کے مفادات کے تحفظ کے لیے دوڑ بھاگ کریں گے۔

پاکستان کے بنیادی اور اہم معاشی اداروں کے سربراہان، گورنر بینک دولت پاکستان رضا باقر، اور وزیر اعظم کے مشیر معاشی امور عبد الحفیظ شیخ، دونوں میں سے باقر آئی ایم ایف سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ شیخ کا تعلق عالمی بینک سے ہے۔ یہ کس کے مفادات کا خیال رکھیں گے یہ بھی ذرا سے غور سے سمجھ میں آسکتا ہے۔

اس بات کے دو مطلب صاف ہیں ایک افواجِ پاکستان اور اس کے زیرِ سایہ چلنے اور پلنے والے تجارتی اور صنعتی ادارے جو رٹائرڈ فوجیوں کے خاندانوں کی معاشی خوشحالی کے ضامن ہیں پھلتے پھولتے رہیں؛ دوئم عالمی معاشی اداروں کے مفادات کی نگرانی اور ضمانت رہے۔ قرض عوام اتارے، کیسے کیا آپ کو مہنگائی نظر نہیں آتی؟ کیا آپ کو ٹوٹی پھوٹی ناقص صہولیات نظر نہیں آتیں؟

 یہ ساری باتیں تو ہو گئیں، اب کوئی پوچھے کہ یہ جھگڑا اب کیوں اتنا زور پکڑ گیا ہے؟ یہ اے پی سی بلانے کا کون سا موقع تھا؟ وہی لوگ جو مولانا فضل الرحمٰن کو اتنی گھاس نہیں ڈال رہے تھے اچانک کیوں ان سے پیار محبت جتانے لگے؟ (یاد رہے کہ مولانا اس سے پہلے ایک لانگ مارچ کا انتظام کر چکے تھے لیکن انہیں انہیں لوگوں کی پشت پناہی نہ مل سکی تھی)۔

یقیناً سی پیک منصوبے میں جو بہت سا کام نکلا ہے اس میں نجی کمپنیوں کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ زیادہ تر کام فوج کے زیر سایہ چلنے والے اداروں کو ملا ہے۔ سارا جھگڑا یہ ہے۔ تمام ہی سیاسی جماعتوں میں صنعتکار اور سرمایہ کار ہیں۔ وہ آس لگائے بیٹھے تھے۔ انہیں کچھ نہیں مل رہا تھا۔

فوج کے تجارتی اداروں کا مقابلہ ویسے بھی بہت مشکل ہے۔ شہری سرمایہ کار رشوت دے کر کام چلا سکتا ہے، لیکن اس کے برخلاف جب ایک بریگیڈیر یا جنرل کا فون آ جاتا ہے تو کسی بھی حکومتی ادارے کو اسے منع کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اور آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کس کا کام نہیں ہو سکے گا۔ اب تمام ہی نجی اور شہری اداروں میں سابق فوجیوں کو رکھا جانے لگا ہے کہ ان کے نام کے ساتھ عہدہ لگا ہوتا ہے تو سرکاری ادارے ان کا کام کر دیتے ہیں۔ اب جن نوکریوں پر ایم بی اے کو ہونا چاہیے تھا وہاں فوجی متعین ہیں۔

عوام کو کیا ملے گا؟

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس لانگ مارچ سے عوام کو کیا ملے گا؟ تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ عوامی طاقت تو ضرور استعمال ہو گی لیکن عوام کو ملے گا کچھ نہیں۔ اب تک ہماری حزب اختلاف نے یہی دکھایا ہے کہ وہ بہادر اور نڈر نہیں ہے۔ وہ ڈٹ کر لمبا عرصہ کھڑی نہیں رہ سکتی۔ ایک پیشنگوئی کی جا سکتی ہے کہ حزب اختلاف سے جڑے افراد کو انتظامیہ کچھ مراعات دے دے گی، اور یہ لوگ بتاشے کی طرح بیٹھ جائیں گے۔ یہ ناداں چند کلیوں پر قناعت کر جائیں گے۔

اس چیز کا امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں پبلک میڈیا پر ہم ایک بڑی سی لہر دیکھیں جس میں قادیانیوں پر لعن طعن ہو، انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہا گیا ہو، جزبات سے بھری مذہبی باتیں ہوں، مجاہدین کے قصّے ہوں اور حزب اختلاف میں موجود لوگوں کا تمسخر ہو۔

ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عوام کو اس حزب اختلاف سے الگ ہٹ کر کوئی تحریک چلانی چاہیے؟ ایسا ہونا ممکن نہیں۔ انتظامیہ تو انتظامیہ ہوتی ہے اور حزب اختلاف کی طاقت کا منبع بھی عوام نہیں ہیں۔ عوامی طاقت کو اس ملک میں کبھی پنپنے نہیں دیا گیا۔ خود جناح صاحب کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہوا۔ لیاقت علی کا قتل ہوا۔ محترمہ فاطمہ جناح، مجیب، ولی خان، جی ایم سید، الطاف، بھٹو اور بہت سوں کو جنہیں عوامی طاقت حاصل تھی غدار قرار دے دیا گیا۔ یہ المیہ ہے کہ اس وقت کے ان شخصیات کے مخالف سیاستدانوں نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے میں انتظامیہ اور حزب اختلاف دونوں ہی ایک صفحے پر ہیں کہ عوام ایک تیسری جماعت ہے؛ پیسہ نکالنے کی مشین ہے؛ اسے ان کے منافع میں حصہ دار نہیں بننا چاہیے۔

اب سوال اٹھتا ہے کہ ہوگا کیا؟ عوام کی بہتری کیونکر ممکن ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ تاریخ کا بہاؤ بڑا بے مروّت ہوتا ہے۔ وہ پتھر کی طرح بے حس ہے۔ اس کے ہاتھ فولادی ہیں۔ جب وہ حرکت میں آتے ہیں تو بنگلہ دیش بنتا ہے؛ یا کوئی محمود غزنوی حملہ آور ہوتا ہے؛ یا انگریز بہادر کی طرح کوئی سب کو غلام بنا لیتا ہے۔ جو نہیں سمجھتے تو ان کے لیے علامہ کہہ گئے ہیں: تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔

Yemeen Zuberi

Yemeen Zuberi

Yemeen ul Islam Zuberi is an ex-journalist from Pakistan. He writes in Urdu and rarely in English. Besides essays, he also writes poetry. In Pakistan, he worked for different newspapers for 20 years. Now lives in the US.

yemeen has 19 posts and counting.See all posts by yemeen

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *