بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی واپسی

تحریر: یمین الاسلام زبیری

یہ ۲۰۱۹ کا تیسرا مہینہ ہے، آج پہلی مارچ، ابھی اس سال کا پہلا چوتھائی بھی ختم نہیں ہونے پایا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ہی نہیں بلکہ فوجی جھڑپوں نے اخباروں سے سرخیوں کو رنگنا شروع کر دیا۔

آج کا دن اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ آج پاکستان بھارت کے حالیہ پکڑے گئے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو رہا کرنے جارہا ہے؛ کس وقت؟ یہ ابھی تک نہیں پتا چل سکا۔ اس واقعے میں جو اہم بات ہوگی وہ یہ کہ پاکستان اس پائلٹ کو خیرسگالی اور دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی مثال قائم کرنے کے لیے رہا کرے گا۔ يہاں پر یہ یاد دلانا بہت ضروری ہے کہ جینیوا معاہدے کے تحت پاکستان پر یہ واجب تھا کہ وہ بھارتی پائلٹ کو جلد از جلد رہا کر لے۔ یہ یقیناً ایک مثبت بات ہے کہ پاکستان نے اس پائلٹ کو کسی سودے بازی کے لیے نہیں استعمال کیا۔ پائلٹ کو رہا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان ایسا جذبہ خیر سگالی کے تحت کرے گا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق عمران خان کی اس بات کو نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت سے آنے والے ٹوئٹوں میں بھی سراہا گیا ہے۔

پاکستان کے دانشور، پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ اپریل اور مئی میں بھارت میں ہونے والے انتخابات پر موجودہ وزیر آعظم نریندر مودی کی اثر ڈالنے کی کوشش ٹھیراتے ہیں۔ یہ بھی صحیح ہے کہ یہ کشیدگی بھارتی علاقے پلوامہ میں ۱۴ فروری، ۲۰۱۹ کو ایک نیم فوجی اہلکاروں کی بس پر حملے کے بعد سے بڑھی ہے۔

پلوامہ حملہ کس نے کیا تھا، یہ بات ابھی تک تحقیق طلب ہے، اگرچہ پاکستان کی کالعدم تنظیم جیش محمد نے اس حملے کی پوری ذمہ داری لی ہے۔

ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ تقسیم ہند کے بعد سے کشمیر کے لوگوں کی قسمت شاخ آہو پر رکھی ہے۔ وہ نصف صدی سے زیادہ گزر جانے کے بعد بھی اپنے بارے میں، بلکہ اپنے حق میں، کسی حتمی فیصلے کے منتظر ہیں۔ اس گومگو حالت میں ان کا بے صبر رہنا سمجھ میں آتا ہے۔ پلوامہ دھماکے میں خود بھارت کے ماہرین اس بات پر متفق ہِیں کہ وہاں بارودی مواد باہر سے نہیں لایا گیا تھا۔

   کہتے ہیں کہ جنگ اور محبت میں سب چلتا ہے۔ یعنی جھوٹ اور مکر۔ اسی وجہ سے ایسی خبریں جو جنگ میں الجھے فریق جاری کرتے ہیں سند پانے میں ناکام رہتی ہیں۔ حالیہ پاک بھارت ہوائی چپقلش میں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ پلوامہ دھماکے کے بعد بھارت نے دعویِٰ کیا کہ  اس کے ہوائی جہازوں نے ۲۵، فروری کو پاکستان میں جیش محمد کے ایک ٹھکانے پر حملہ کرکے چالیس اور کچھ خبروں میں تین سو فدائین کو مار ڈالا ہے۔ لیکن اس بات کی کہیں سے تصدیق نہیں ہوسکی؛ کیونکہ: نہ کہیں جنازہ اٹھا نہ کہیں مزار دیکھا۔ اسی طرح بھارت نے دعویٰ کیا کہ اس نے پاکستان کا ایک ایف سکسٹین ۲۶، فروری کو مار گرایا، اس کی بھی کوئی تصدیق نہیں ہوسکی۔ پاکستان کی طرف سے دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے بھارت کے دو طیارے مار گرائے ہیں لیکن صرف ایک طیارے کی تصدیق ہوسکی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک جنگی جنون کو پیچھے دھکیل دیں اور تناؤ کے بنیادی اسباب پر غور کرنا شروع کر دیں ۔

Yemeen Zuberi

Yemeen ul Islam Zuberi is an ex-journalist from Pakistan. He writes in Urdu and rarely in English. Besides essays, he also writes poetry. In Pakistan, he worked for different newspapers for 20 years. Now lives in the US.

yemeen has 12 posts and counting.See all posts by yemeen

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *