اچھو کی دلہن

آئینہ سیدہ

ان سے ملیے … یہ ہیں اسلم کھوکھر کریانہ اسٹور والے جنہیں تین سال پہلے تک سارا محلہ بشمول گھر والے “اچھو ، اچھو ” کہہ کر بلاتے تھے لیکن آج وہ اسلم کھوکھر یا اسلم صاحب کہلاتے ہیں … جی نہیں ! آپ غلط سمجھے انکی کسی سرکاری دفتر میں پوسٹنگ یا پروموشن نہیں ہوئی نہ ھی ابھی یورپ یا “چلو دبئی ” شبئی کا ویزہ لگا ہے بلکہ ہوا صرف یہ ہے کہ صاحبزادے کی والدہ اور بڑی آپا اپنے شہزادے اسلم ( بی اے ایک بار فیل ) کے لیے “چندے آفتاب ؤ چندے مہتاب ” لیڈی ڈاکٹر کا رشتہ ڈھونڈنے نکل کھڑی ہوئیں اب جب تعلیم یافتہ لڑکی کا رشتہ لینا ہے تو اچھو کواسلم کھوکھر تک کا سفر تو کرناھی پڑے گا

اچھو کی اماں کا خیال ہے خاندان کی لڑکیاں کچھ تو نالائق ہیں کچھ حسن کے “عالمی میعار ” پر پوری نہیں اترتیں اور بقیہ اچھو سے صرف 5 سال چھوٹی ہیں انکے حساب سے اچھو کی بیوی کو اچھو سے دس نہیں تو چلو آٹھ سال چھوٹا ہونا چاہیے تاکہ کل وہ اچھو کے سر پر سوار نہ ہو سکے

والدہ صاحبہ چاہتی ہیں کہ ایک ہی وقت میں اچھو کی دلہن لیڈی ڈاکٹر بھی ہو، ملکہ حسن بھی ہو اور 18 سال سے صرف ایک دو ماہ اوپرہو اور ایسی لڑکی کیونکہ خاندان تو کیا محلے اور جان پہچان میں کہیں نہیں لحاظہ طے یہ ہوا کہ رشتہ والی خالہ کو کچھ پیسے تھماۓ جائیں اور کہیں بات چلانے کی صورت میں کپڑوں کے دو جوڑوں کی لالچ بھی ابھی سے دے دی جاۓ .سو قصہ مختصراچھو عرف اسلم کھوکھر صاحب کی والدہ کےاصراراورصغراں خالہ کے لالچ نےاچھو کی آ نے والی زندگی کے لیے پہلی اینٹ رکھنے کا کام شر و ع کر دیا

ہر ہفتے خالہ صغراں چار سے چھ لڑکیوں کی تصاویر اور انکے کوایف لے کر اسلم کھوکھر صاحب کے دولت خانے پر حاضری دیتیں مگر شہزادے کی والدہ اور بڑی آپا کو ہر لڑکی میں کوئی عیب نظر آجاتا تھا یوں بھی اتنی سخت شرایط تو نمایندگان پارلیمنٹ پاکستان کی آرٹیکل ٦٢ / ٦٣ میں درج نہیں جتنی اماں اور آپا نے اچھو کی دلہن کے لیے رکھی ہیں مگر خالہ صغراں کو ہر دوسرے روز مفت کی چاۓ ساتھ زیرے یا مونگ پھلی کے بسکٹ اور ایک وقت کا کھانا ( جو اکثر بے وقت آنے کے باوجود آ سانی سے دستیاب بھی ہوجاتا تھا ) کوئی برا سودا نہ تھا لحاظہ لڑکیاں تو بہانہ تھیں خالہ صغرا ں   جہاندیدہ خاتون تھیں بہت اچھی طرح جانتی تھیں کہ ایک ہی وقت میں ملکہ حسن صاحبہ، صوم و صلوات کی پابند 18 سالہ دوشیزہ ، اللہ میاں کی گاۓ اور لیڈی ڈاکٹرنہیں ہوسکتی تو چار وناچاراچھو کی ماں بہنوں کو ہی اپنی ڈیمانڈز کو نیچے لانا ہوگا سو بہتر ہے پاکستان کی منتخب جمہوری حکومتوں کی طرح جتنا وقت خاموشی سے آنکھیں نیچے کر کے چاۓ بسکٹ اور پا لک گوشت اور دو روٹیوں کے دیدار میں گزار سکو گزار لو

تین مہینے اسی طرح بیت گیے اس دوران والدہ اچھو نے اپنی ایک دو “ضدوں ” کی قربانی بھی دی ،یہ ایسی ضدیں تھیں جن سے مالی فواید کو زیادہ زک نہ پہنچے مثلا” یہ کہ 18 کی نہ سہی 21 بھی ” برداشت ” ہے اور پانچ فٹ چھ انچ نہ سہی پانچ فٹ تین انچ کلیجے پر پتھر رکھ کر گھر لے آئیں گے ” نا ٹی اولاد ” بھی تو کچھ لوگوں کے نصیب میں ہوتی ہی ہے نا ہم بھی صبر کرہی لیں گے لیکن مالدار لیڈی ڈاکٹر کی شرایط پر کوئی ” سودے بازی ” نہیں ہوگی

اپنی پہلی پوزیشنز سے سٹریٹجک پسپائی اختیار کرنے پر اچھو کی والدہ اوربڑی آپا کو دو لڑکیوں کے گھر کا صرف ایک عدد چکر لگانے کا موقعہ ہاتھ آیا یوں تو دونوں دفعہ ہی لڑکی اور مالی حالات پر ایک نظر ڈال کر آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو” نہ ” کا اشارہ کر بیٹھی تھیں مگر اب چونکہ چاۓ کے بعد کھانے کا وقت ہوچلا تھا تو بہتر یہی سمجھا کہ کھانا کھا کر ہی چلتے ہیں اب کون گھر جاکر کھانا بناۓ جب کہ لڑکی ،اسکے گھر والوں اور انکے “درمیانے سے مالی حالات ” پر بہت سی چغلیاں بھی کرنی ہیں جس کے لیے کافی وقت درکار ہے

تین ساڑھے تین ماہ بعد خالہ صغراں سے ناامید ہو کر اچھو کی والدہ نے کوچنگ سینٹر والی عابدہ کے مشورے پر عمل کرنے کی ٹھانی اور ناظم آباد کے ایک مشہور میریج بیورو کے ذریعے اسلم صاحب کے لیے حسین مالدار لیڈی ڈاکٹر دلہن تک رسائی حاصل کرنے کی ترکیب آزمانے کا سوچا

یہاں خالہ صغراں نہ تھیں جو چاۓ کے دو کپ میں چھ چمچ چینی پر بہل جاتیں اور بسکٹ کا آدھا ڈبہ کھانے اور باقی دوپٹے میں باندھ کر اپنے گھر لے جانے کو کافی سمجھتیں بلکہ یہاں بیٹھی تھیں ” مسز وقار ” جنہیں خوشحال ازدواجی زندگی گزارنے والے بہترین “جوڑے ” بنانے کا 25 سالہ تجربہ تھا دفتر میں داخل ہونے پر اچھو کی اماں ہچکچائی تھیں مگر بڑی آپا اپنے سسرال میں تین دن سے جس طرح شیخیوں کا دور چلاتی رہیں تھیں اس پر اگر اماں کی جھجھک کا پانی پھیر دیا جاتا تو بڑی آپا کس منہ سے سسرالیوں کو بتاتیں کہ راستے سے ہی لوٹ آئے ہیں

شادی دفتر میں رنگ برنگے جوڑوں کی تصویریں آویزاں تھیں ہر کوئی دانت نکالے یا ہونٹ پھیلاۓ مسکرا رہا تھا جیسے یہ اسکی زندگی کی سب سے بہترین گھڑی ہو اماں اور آپا کو یقین ہوگیا تھا کہ بس جی کام بن گیا

بلکہ ہوسکتا ہے جن ڈیمانڈ ز پر خالہ صغراں کی چک چک کی وجہ سے ” مفاہمت ” کرنی پڑی تھی وہ بھی یہاں منظور ہوجائیں سو اماں اور بڑی آپا نے مطالبات کی لسٹ مسز وقار کے سامنے رکھ دی مسز وقار نے کچھ دیر تو لسٹ کو گھورا پھر اسکو ایک طرف ڈال کر اماں سے مخاطب ہوئیں “دیکھیں آپکو سب سے پہلے ایک عدد فارم بھرنا ہے اور اسکے ساتھ میری فیس ” جی فارم ؟ اور فیس بھی ہے ؟ اچھا اچھا فیس کتنی ہے سب دیں گے بس لڑکی ہماری من پسند ہونی چاہیے

اماں اور آپا بے تکان بولتے جارہے تھے

فیس کا سن کر کچھ دیر کے لیے چکر بھی آئے اور آنکھیں اپنے حلقوں سے باہر آئیں مگر تین ٹھنڈی سانسیں لے کر دونوں تیار ہوگئیں اس امید پر کہ جہاں رشتہ ہوگا وہاں سے اتنی فیس کا پانچ گنا سلامی میں وصول ہوجاۓ گا سو کلیجے پر آج رکھا پتھر آنے والی مالدار بہو اٹھالے گی

گھر واپسی پر دونوں نے اپنے اپنے “ناظرین و سامعین ” کو خوب مرچ مصالحے والے خواب دیکھا ئے اورڈرامے کیۓ کہ بس دو چار دن کی بات ہے اسلم صاحب “میاں صاحب ” بن جائیں گےاو ہو آپ غلط سمجھے میاں صاحب مطلب “شوہر ” بن جائیں گے

مگر ہاۓ ری قسمت ! اچھو نے تو اسلم بننے کا آغاز ہی نہیں کیا تھا یہ تو گھر کی ماں بہنیں تھیں جنہوں نے اپنے تیں اچھو کو اسلم کھوکھر بنانے کے سہانے سپنے دیکھنے شر و ع کر دیۓ تھے تو قصہ مختصر کہ اچھو نے کونے کی مسجد والے امام صاحب کی بیٹی زاہدہ جبین کو پسند کیا اور امام صاحب نے کریانہ اسٹور کے مالک، اختر کھوکھر مرحوم کے اکلوتے وارث اور اپنے شاگرد اچھو کا نکاح اپنی برخوداری زاہدہ جبیں سے بحق مہر کریانہ اسٹور اور ذاتی مکان طے کردیا

!یہ نکاح آپ سب کو بھی مبارک ہو

 

aina syeda

آئینہ سیدہ نے عملی زندگی کا آغاز ایک استاد کی حیثیت سے کیا اور قلم کا سفر پاکستانی سیاست کے اتار چڑھا ؤ اور معاشرے کی منافقتوں پر اخبارات اور رسائل میں کالم نگاری سے ،احساسات کی ترجمانی کرنے کے لیے شاعری کا سہارا لیتی ہیں اور زندگی کو مقصد فراہم کرنے کے لیے کمیونٹی کو اکثر اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کرتی رہتی ہیں -------------------------- ان سے رابطے کے لیے ٹویٹر ہینڈل ہے @A_ProudCivilian

aina has 14 posts and counting.See all posts by aina

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *